سوڈان: سونا، لالچ اور مسلم دنیا کی بے حسی
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
دنیا کی ہر جنگ کسی نہ کسی مفاد، محرک یا لالچ سے جنم لیتی ہے، مگر کچھ جنگیں ایسی ہوتی ہیں جن کے پس منظر میں انسانی حرص کی وہ گہری تہیں چھپی ہوتی ہیں جو نسلوں تک انسانیت کو زخمی رکھتی ہیں۔ سوڈان کی موجودہ خانہ جنگی ایسے ہی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان صدیوں کی تہذیبی ترقی کے باوجود ابھی تک اپنی اخلاقی منزل تک نہیں پہنچ سکا۔ سونے کی چمک نے اس ملک کی بنیادیں ہلا دیں۔ لاکھوں لوگ دھوئیں، راکھ، خون اور بے دخلی کے بیچ زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔ سوڈان ہمیشہ سے سیاسی، معاشی اور نسلی پیچیدگیوں کا شکار رہا مگر گزشتہ برسوں میں جس تیزی سے حالات تباہی کی طرف بڑھے اس نے دنیا کو حیرت میں بھی مبتلا کیا اور شرمندہ بھی۔
سوڈان کی سرزمین قدرتی نعمتوں سے مالا مال ہے۔ اس کے وسیع ریگستانوں کے نیچے سونے کے بے شمار ذخائر موجود ہیں۔ جب بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں تو سوڈان کے اندر طاقت کے بھوکے گروہوں کی نظریں ان کانوں پر جم گئیں۔ سونا ایک دولت نہیں رہا، بلکہ ایک مہلک ہتھیار بن گیا جس نے جنگی مشینوں کو ایندھن فراہم کیا۔ ملک کی دو بڑی عسکری قوتیں، Sudanese Armed Forces اور Rapid Support Forces، انہی وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرتی رہیں۔ سونے کی ایک ایک ڈلی جنگ کو طول دیتی چلی گئی۔ یہی دولت حکمرانی، بیرونی سرپرستی اور سیاسی طاقت کا بنیادی ذریعہ بن گئی۔ بدقسمتی سے اس جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام شہریوں نے اٹھایا، جو نہ جنگجویانہ عزائم کا حصہ تھے اور نہ کسی گروہ کی سیاسی خواہشات کے نمائندہ۔ وہ صرف زندہ رہنا چاہتے تھے، مگر زندگی ان کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتی چلی گئی۔
طاقتور ممالک ہمیشہ کمزور خطوں کے وسائل پر نظر رکھتے ہیں۔ سوڈان بھی اس عالمی کھیل کا شکار ہو گیا۔ بیرونی قوتیں اپنے پسندیدہ دھڑوں کی مالی اور عسکری سرپرستی کرتی رہیں۔ یوں یہ جنگ ایک مقامی مسئلہ نہ رہی بلکہ عالمی مفادات کے پیچیدہ جال میں تبدیل ہو گئی۔ غیر قانونی سونے کی تجارت نے اس جال کو اور گہرا کیا۔ بڑی مقدار میں سونا سمگل ہو کر دوسرے ممالک پہنچتا رہا اور جنگ مزید بھڑکتی گئی۔ ہر سمگل شدہ ٹن سونا دراصل کسی بے گھر خاندان کا ٹوٹا ہوا گھر، کسی بچے کی خاموش چیخ، یا کسی ماں کی آہیں بن کر دنیا کے ضمیر پر بوجھ بن گیا۔
سوڈان کے کئی علاقوں، خصوصاً دارفور، میں ہونے والے مظالم دنیا کے لیے ایک بھیانک یاد دہانی ہیں کہ نسل کشی کا عفریت ابھی مرا نہیں۔ غیر عرب نسلی گروہوں پر حملے، ان کے گاؤں جلائے جانے، عورتوں اور بچوں پر لرزہ خیز تشدد اور اجتماعی قبریں اس جنگ کے سب سے سیاہ پہلو ہیں۔ انسانیت نے ہولوکاسٹ، بوسنیا، روانڈا اور میانمار جیسے واقعات سے کچھ نہیں سیکھا۔ آج سوڈان انہی سیاہ صفحات میں ایک اور اضافہ بن چکا ہے۔ یہ انسانوں کی نہیں، انسانیت کی شکست ہے۔
دوسری طرف مسلم دنیا کا کردار انتہائی کمزور دکھائی دیتا ہے، حالانکہ سوڈان ایک مسلم ملک ہے اور اس کے عوام ہماری مشترکہ اُمہ کا حصہ ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم دنیا اس مسئلے پر وہ سنجیدگی نہیں دکھا سکی جس کی ضرورت تھی۔ کچھ رسمی بیانات، امداد کی چند کھیپیں اور کانفرنسوں میں رسمی مذمتیں سوڈانی عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک مسلم ملک اتنی بڑی قدرتی دولت کے ہوتے ہوئے بھی بدترین استحصال کا شکار ہے تو کیا ہم واقعی اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں؟
سوڈان کے پاس اندازوں کے مطابق کم از کم 1500 ٹن سے زائد سونا ہے، جو دراصل اس کے لیے خوشحالی اور ترقی کا دروازہ بن سکتا تھا۔ اگر مسلم دنیا بروقت اتحاد دکھاتی سوڈان کے وسائل کے تحفظ کے لیے مشترکہ نظام بناتی سرمایہ کاری کرتی اور عالمی طاقتوں کے استحصال کا راستہ روکتی تو آج سوڈان ایک مضبوط معیشت بن سکتا تھا۔ مگر مسلم دنیا کی داخلی تقسیم، سیاسی اختلافات اور عالمی دباؤ نے اسے کمزور کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے مالدار ممالک اگر اپنی دولت کا ایک حصہ بھی افریقی مسلم ممالک کی ترقی کے لیے مختص کریں تو صورتحال بدل سکتی ہے مگر ترجیحات کہیں اور ہیں۔
سوڈان کے اندرونی انتشار کی بنیادی وجہ بھی یہی سونا ہے۔ عسکری دھڑے ملیشیائیں اور قبائلی گروہ سونے کی کانوں پر قبضے کے لیے ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں۔ سونا بیچ کر ہتھیار خریدے جاتے ہیں اور ہتھیاروں سے مزید سونا لوٹا جاتا ہے۔ یہی شیطانی چکر ملک کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ عالمی طاقتیں اس آگ کو اپنی مرضی سے بھڑکاتی رہتی ہیں کیونکہ انتشار انہیں فائدہ دیتا ہے۔ جتنی زیادہ بدامنی ہوگی، اتنا ہی زیادہ سونا سستے داموں خریدا جا سکے گا۔
سوڈان کا بحران اب سرحدوں کے اندر محدود نہیں رہا۔ لاکھوں مہاجرین پڑوسی ممالک کی طرف جا رہے ہیں، جس سے پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے۔ اسپتال بند، اسکول تباہ، شہر کھنڈر اور کھیت بنجر ہو چکے ہیں۔ دنیا روزانہ سونے کی قیمت دیکھتی ہے مگر انسان کی قیمت دیکھنا بھول چکی ہے۔
سوڈان کا مسئلہ ایک امتحان ہے۔ انسانیت کا بھی، مسلم دنیا کا بھی۔ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے پہلا قدم عالمی سطح پر سونے کی غیر قانونی تجارت کو روکنا ہے۔ اگر عسکری گروہوں کے مالی ذرائع محدود ہو جائیں تو جنگ خود بخود کمزور پڑنے لگے گی۔ دوسرا قدم سوڈان کے اندر مفاہمت، گفتگو اور مقامی قیادت کو مضبوط کرنا ہے۔ اصل حل بندوقوں سے نہیں نکلتا۔ وہ ہمیشہ لوگوں کی آواز سے نکلتا ہے جو دہائیوں سے دبائی جا رہی ہے۔
مسلم دنیا کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ واقعی ایک اُمہ ہے یا صرف ایک جذباتی نعرہ۔ سوڈان کا سونا صرف سوڈان کی دولت نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم نے اس استحصال کو یوں ہی جاری رہنے دیا تو آنے والی نسلیں ہم سے






