#اداریہ

معاشی اصلاحات کے ثمرات سامنے آنے لگے

Fahad 01

آج کا اداریہ

حکومتی معاشی اصلاحات ملک کے مجموعی قرضوں میں کمی اور معاشی ترقی کے مثبت اشاریے ملے ہیں ۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تازہ ترین معاشی اعداد و شمار حکومتی معاشی اصلاحات کو درست ثابت کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں معاشی ترقی کی رفتار ہر دِن بہتر ہورہی ہے جس کے شواہد بھی کاروباری برادری اور قوم کے سامنے آرہے ہیں۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے ایف بی آر اصلاحات سے متعلق ہفتہ وار پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں بتایا گیا کہ رواں سال ہونے والی ٹیرف اصلاحات کا کوئی منفی اثر ریونیو وصولی پر مرتب نہیں ہوا بلکہ درآمدی سطح پر ڈیوٹیوں اور ٹیکس کی وصولی میں 25 فی صد اضافہ ہوا
مزید بریفنگ دی گئی کہ یہ اضافہ قابل ڈیوٹی مصنوعات کی مقدار میں صرف 3.6 فی صد اضافہ کے باوجود سامنے آیا، جس سے یہ خدشہ بھی غلط ثابت ہوا کہ ٹیرف کم کرنے سے ریونیو وصولی میں کمی ہوجائے گی۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ستمبر میں وفاقی حکومت نے اپنے مجموعی قرض میں 852 ارب روپے کی کمی کرلی ہے
رپورٹس ستمبر 2025 تک حکومت کا مجموعی قرض 76 ہزار 605 ارب روپے رہا، جو اگست 25 میں 77 ہزار 458 ارب روپے تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک ماہ میں حکومت کے مقامی قرض میں 649 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ ستمبر 2025 میں مقامی قرض 53 ہزار 424 ارب روپے رہا جبکہ اگست میں یہ 54 ہزار 73 ارب روپے تھا۔
اس  ڈیٹا کے مطابق حکومت نے صرف ایک ماہ میں مجموعی قرض میں کمی اور مقامی و بیرونی قرض کے بوجھ میں واضح کمی کے مثبت اشارے دیے ہیں
 کمی ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے سود کی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہونے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے رواں سال قرضوں کے انتظام کو زیادہ مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے جس میں مرکزی بینک کی جانب سے وفاقی حکومت کو بھاری منافع کی منتقلی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ جاری مالی استحکام (فِسکل کنسولیڈیشن) کی مدد سے، خالص بجٹ قرضے کو قابو میں رکھنے کے نتیجے میں نجی شعبے کو مستحکم ترقی کے لیے قرضہ فراہم کرنے کی گنجائش پیدا ہو گی۔
ڈومیسٹک قرض کے تحت طویل مدتی قرضوں میں بھی ایک نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ طویل مدتی قرض 692 ارب روپے کم ہو کر ستمبر 2025 میں 44.961 کھرب روپے رہ گیا، جو جون 2025 میں 45.653 کھرب روپے تھا۔ اسی طرح، مختصر مدتی قرضہ بھی 356 ارب روپے کم ہو کر اسی مالی سال کی اسی مدت میں 8.756 کھرب روپے سے گر کر 8.4 کھرب روپے رہ گیا۔
تاہم، نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت قرض رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 62 ارب روپے سے بڑھ کر 63 ارب روپے ہو گیا۔
پاکستان کا بیرونی قرض (روپے میں مالیت کے لحاظ سے) 236 ارب روپے کم ہوا۔ ستمبر 2025 کے اختتام پر بیرونی قرض کا حجم 23.181 کھرب روپے رہا جو جون 2025 میں 23.417 کھرب روپے تھا۔
اسٹیٹ بینک نے گزشتہ مالی سال میں 2.5 کھرب روپے کا مضبوط منافع کمایا، جس میں سے 2.4 کھرب روپے وفاقی حکومت کو منتقل کیے گئے۔ اس آمدن نے مجموعی طور پر معیشت پر قرض کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
ادھر وزیر کی زیر صدارت اجلاس میں مزید بریفنگ دی گئی کہ ریونیو میں حالیہ اضافہ قابل ڈیوٹی مصنوعات کی مقدار میں صرف 3.6 فی صد اضافہ کے باوجود سامنے آیا، جس سے یہ خدشہ بھی غلط ثابت ہوا کہ ٹیرف کم کرنے سے ریونیو وصولی میں کمی ہوجائے گی۔
بریفنگ دی گئی کہ ڈیوٹی فری امپورٹس میں 41.5 فی صد اضافہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ درآمدات میں بڑا اضافہ اُن مصنوعات میں ہوا ہے جو خام مال اور انٹرمیڈیٹ کے درجے میں آتی ہیں، اسے نچلی سطح پر پیداواری اثرات میں نمایاں بہتری کی علامت قرار دیاجاسکتا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیرف میں کمی اور ٹیکس نظام کی بہتری سمیت جاری معاشی اصلاحات کا مقصد مینوفیکچرنگ اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو اور بھی زیادہ سازگار بنایاجائے۔
بریفنگ کے مطابق ڈیوٹی فری امپورٹ کے زمرے میں آنے والی اشیاء کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو حکومت کی ٹیرف کو معقول بنانے کے اقدامات کے مؤثر ہونے کی علامت ہے، جس کا مقصد خام مال اور ثانوی درجے میں آنے والی اشیاء کی درآمد کے بڑھنے کی وجہ سے ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ٹیرف اصلاحات کا مقصد یہ تھا کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں استعمال ہونے والے خام اجزا کی قیمت میں کمی آئے تاکہ ملکی برآمدات کا حجم بڑھے اور عالمی منڈی میں مسابقت ممکن ہوسکے۔
تازہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی یہ پالیسی کامیاب رہی ہے، کسٹم اصلاحات سے حاصل ہونے والے نتائج میں ایف بی آر کو جدید، شفاف اور بہترین ادارہ بنانے کی کامیاب حکومتی حکمت عملی کے اثرات بھی شامل ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ٹیکس چوری روکنے، تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں میں ٹیکس وصولی کے نظام میں موجود خامیوں کو مرحلہ وار موثر انداز میں ختم کرنے کے لیے انتظامی اور اداراجاتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے ایف بی آر سمیت فنانس کی پوری ٹیم کو شاباش دی اور زور دیا کہ اصلاحات کے عمل پر موثر عمل درآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ پاکستان معاشی مشکلات کے گرداب سے نجات پائے اور پائیدار ترقی کے اہداف کو حقیقی طورپر پورا کرنے میں کامیاب ہو۔

معاشی اصلاحات کے ثمرات سامنے آنے لگے

15/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے