عدلیہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں
آج کا اداریہ
وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ۔دو جسٹس صاحبان اپنے عہدوں سے مستعفی ہوئے ہیں
جسٹس امین الدین خان سے صدرمملکت آصف علی زرداری نے حلف لیا۔قبل ازیں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کی ایڈوائس پرصدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد وزارت قانون وانصاف نے جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا
واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھے اور وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔
نوٹیفیکشن کے مطابق امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کے دن سے ہوگا یعنی اب وہ 68 برس تک اس وفاقی آئینی عدالت کی سربراہی کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو ججز نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے ججز میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔
اس سے قبل ان ججز نے نئی آئینی ترمیم پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خطوط لکھے تھے اور اس حوالے سے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔
جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سینیئر ترین جج تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا استعفی صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔
13 صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں انھوں نے عدلیہ کے معاملات اور بالخصوص آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ اپنے دور میں انھوں نے عدلیہ کا وقار بلند کرنے کی کوشش کی اور وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں لیکن ان کا ضمیر مطمئن ہے۔ انھوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئینی جمہوریت کی روح کو کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم نے لوگوں کے لیے انصاف حتم کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ان ججز پر افسوس رہے گا جو اس آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں حکومت میں قانون کی حکمرانی کو مرکزی حثیت حاصل ہو اور عدالتی آزادی کو مقدس امانت کی طرح محفوظ رکھا گیا ہو۔
انھوں نے اپنے استعفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جہاں انصاف کو جکڑ دیا گیا ہو وہ قومیں نہ صرف لڑکھڑاتی ہیں بلکہ اپنی اخلاقی اقدار بھی کھو دیتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا آئینی وجود اور مقام ختم ہو رہا تھا۔
انھوں نے موجودہ چیف جسٹس کا نام لیے بغیر کہا کہ جب عدلیہ کا سربراہ اپنی متنازع حیثیت کے باوجود ادارے کے بجائے اپنے منصب اور عہدے کو ترجیح دے تو اسے قیادت نہیں بلکہ ادارے سے دستبرداری کہا جاتا ہے۔
انھوں نے موجودہ چیف جسٹس کا نام لیے بغیر کہا کہ جب عدلیہ کا سربراہ اپنی متنازع حیثیت کے باوجود ادارے کے بجائے اپنے منصب اور عہدے کو ترجیح دے تو اسے قیادت نہیں بلکہ ادارے سے دستبرداری کہا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سپریم کورٹ ہے لیکن 27ویں آئینی ترمیم نے اس ڈھانچے کو توڑ کر سپریم کورٹ کے اوپر وفاقی آئینی عدالت قائم کردی جو کہ عدالتی اور جمہوری نظام سے متصادم ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں کہا کہ آئینی عدالت بصریت سے نہیں بلکہ سیاسی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی گئی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے صدر مملکت کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ ہم پر لوگوں نے اعتماد کیا اور جس آئین کے تحت بطور جج انھوں نے حلف اٹھایا تھا اب وہ اپنی اصل حالت میں نہیں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ اس 13 رکنی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فروری 2024 کو ہونے والے عام انتحابات میں مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے اس اکثریتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا
پارلیمنٹ میں زیر بحث 27ویں آئینی ترمیم پر جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر درخواست کی کہ آپ بطور عدلیہ سربراہ فوری انتظامیہ سے رابطہ کریں اور واضح کریں کہ آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی۔
انھوں نے لکھا کہ آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے۔ جسٹس منصور نے لکھا کہ ’آپ اس ادارے کے اینڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس یحییٰ افریدی کو خط میں عدلیہ کو لاحق خطرات پر غور کے لیے ایک کانفرنس بلانے کی درخواست کی تھی اور ساتھ ہی اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کو بعض اوقات عوام کی رائے دبانے کے لیے ’غیر منتخب اشرافیہ‘ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔
یہ پیش رفت منگل کو اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت 27ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری کے لیے اقدامات کر رہی تھی۔
جسٹس اطہر من اللہ نے سات صفحات پر مشتمل خط میں لکھا کہ ’یہ خط وہ یہ آئین کے احترام اور ایک سنجیدہ فریضہ کے طور پر لکھ رہے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ریکارڈ رہے کہ ان کی تقدیر کس طرح عدالت عظمیٰ کی سنگ مرمر کی دیواروں کے پیچھے طے کی جا رہی ہے‘۔
جس آئینی ترمیم کو بنیاد بناکر جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہوئے ہیں آئینی و قانونی ماہریں کا ماننا ہے کہ آئینی عدالت کی تشکیل اس لیے ضروری ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں موجودہ آئینی بینچ کی وجہ سے نہ






