#کالم

آنکھ جو کچھ دیکھتی ھےآبروئے صحافت جبار مرزا”جو ٹوٹ کے بکھرا نھیں”

Untitled 13

(شاہد بخاری)
راولپنڈی/اسلام آباد کے معروف معتبر جرنلسٹ جبار مرزا کی شریک حیات 17 جنوری 2021کو انھیں
داغ مفارقت دے گئیں۔
کون سہہ سکتا حیات
جاوداں کی سختیاں
زندگی پر موت کا کتنا بڑا احسان ہے
باجی رانی آپا کی علالت وعلاج معالجے کی جو دکھ بھری داستان بعنوان”جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں”میں جناب جبار مرزا نے قلم بند کی ہے، سب کو پڑھ لینی چاہئے تاکہ وہ ڈاکٹروں،
حکیموں، پیروں فقیروں اور عاملوں وغیرہ کے ہتھکنڈوں سے محفوظ و مامون رہ سکیں۔ نام نہاد مسیحا وءں کے مکروہ کردار، رو حانی پیشواؤں کے گھناونے چیہرے،اس کتا ب میں بکھرے پڑے ھیں۔
جسٹس(ر) میاں نذیر اختر نے لکھا ھے کہ جبار مرزا کی یہ کتاب آپ بیتی بھی ھے اور آئینہ بھی۔ یہ اس سماج کی کتھا ہے جہاں انسان مسیحاؤں کے ہاتھوں زخم زخم ہوئے۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے ڈاکٹروں کی اصل غرض و غایت مال بٹور نا ہو چکا ہے ۔جبار مرزا اپنی بیگم کے علاج کے دوران تلخ تجربات سے گزرے ہیں میں بھی ایک دور میں ڈاکٹروں کے مشورے سے اپنی اہلیہ مرحومہ کو لندن لے گیاتھا۔ اس غیر ملکی ہسپتال نے جو رقم بتائی تھی، علاج شروع کرنے کے بعد دو گنی کر دی ۔علاج کے دوران بارھا نرسوں نے اپنے فرائض میں تساہل برتا اور کوتاہیاں کیں۔ عرب ممالک،ملائیشیا بنگلہ دیش اور مصر وغیرہ سے آنے والے مریض بھی اسی بات پر شاکی تھے۔ ایک سپیشلسٹ سے جب میں نے پوچھا آپ لوگ اصل صورت حال مریض کو کیوں نہیں بتاتے؟ تو اس نےجواب دیا کہ اگر شروع میں ہی اصل رقم بتا دیں تو پھر ہمارے پاس علاج کے لیے کوئی نہ آئے گا۔ گویا وہ جھوٹ اور دروغ گوئی سے مجبور لوگوں کو پھانستے ہیں، مسیحائی کے نام پر لوٹ مار کرتے ہیں۔ جبار مرزا کی زیر نظر کتاب نے امور خانہ داری میں ایک نئی فکر پیدا کی ہے۔ میاں بیوی کے انتہائی پیار بھرے رشتے کی اہمیت بتائی ہے۔ شادی شدہ جو ڑوں نے اپنا لائف سٹائل بدلا ہے ،عورت کا احترام بڑھا۔ بیویاں معتبر ہوئیں۔ جعلی حکیم بے نقاب ہوئے۔ رو حانیت کے نام پہ دھندا کرنے والوں کو طشت از بام کیا مجوروں، ضرورت مندوں کی مشکلات کی نشان دہی کی۔ انسان دوستی کے نام پر دلالی کرنے والوں کے ٹھکانوں کا پتہ بتایا۔ یہ کتاب گوشواراہ ہے۔ ہماری سوسائٹی کا۔ یہ المیہ ہے، سانحاتی تاریخ ہے۔ اس کی اشاعت جراءت مندانہ اقدام ہے۔مرزا صاحب،رانی کی رحلت پر دل شکستہ تو ہوئے مگر وہ نہ ٹوٹا نہ بکھرا وہ آج بھی استقامت اور پورے قدسے کھڑا ھے۔
جبار کے دلدار ڈاکٹر فتح محمد ملک لکھتے ہیں کہ
جبار مرزا اپنےحسن کردار سے آج تک اردو ادب و صحافت کو ثروت مند بنانے میں منہمک چلے آرہے ہیں، اپنی ذاتی زندگی میں انہوں نے اپنی رفیقہ حیات کی طویل علالت کے دوران جس طرح علاج کا ہر نسخہ آزمایا ہے وہ ان کی وفاداری بشرط استواری کی نادر و کم یاب مثال ہے۔میڈیکل سائنس سے لے کر عطائی طبیبوں تک۔۔ تعین سے لے کر۔۔۔ وہم و گمان تک۔۔۔ وہ روشنی کی کرنوں کی تلاش میں سر گرداں رھے۔۔۔اس طویل تلاش و جستجو کا نتیجہ نا کامی ٹھہرا۔۔۔ ان کی رفیق زندگی اس عالم فانی سے کوچ کر گئیں،تو انہوں نے اپنے تجربات کو بڑی درد مندی اور دلسو
زی کے ساتھ زیر نظر کتاب "جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں” میں یکجا کردیا ہے۔ یہ کتاب جہاں جبار۔۔نہیں ۔۔دلدار۔۔ کے کردار کا جیتا جاگتا عکس ہے وہاں ہمارے ہاں موت بانٹنے والے نام نہاد شفا خانوں کا تعارف بھی ہے”
جبار مرزا صاحب نے سادہ لوح عوام کو متنبہ کرنے کی غرض سے صفحہ 31 سے 46تک ڈاکٹر ز کی لوٹ مار کے جو واقعات لکھے،ان میں سے ایک دو یہ ھیں۔ راولپنڈی/ اسلام آباد میں دس ھزار کی چیز ایک لاکھ میں فروخت کرنے کی وجہ ڈرگ مافیا کے ایجینٹ نے یہ بتلا ئی،کہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کے بیرون ملک دوروں کے تمام اخرا جات ھمارے ذمے ھوتے ہیں جو دورے نھیں کرتے، ان کا
حصہ،ان کے گھر پہنچا دیا جاتا ھے۔بعض سرکاری ڈاکٹرز کو ماھانہ اعزازیہ،
دوا ساز فیکٹری کی طرف سے بھی ملتا ھے۔۔۔۔ذوالفقار سے جو ھیمرس،8 ھزار میں لے کر گیا،اسے دیکھ کر ڈاکٹر رفعت نے پوچھا یاسر ایجینٹ نے کیا ایک لاکھ بیس ھزار کا دیا ؟یا میرے فون پر رعایت کر دی؟ 8 ھزار کا سن کر بولے،ساتھ ڈرل مشین نھیں دی ھو گی؟وہ بھی لایا ھوں۔ سیمنٹ نھیں دیا ھو گا؟وہ بھی لایا ھوں۔اسے بلائیں،۔ ذوالفقار نے ڈانٹ سے بچنے کے لئیے کہا میرا پتہ نہ بتائیں وگرنہ بلیک لسٹ کر دیا جاؤ ں گا۔
زیر نظر کتاب کے صفحہ 57 پر ھمارے سمجھانے اور بڑوں سے مرعوب نہ ھونے کے لئیے مرزا صاحب نے لکھا ھے کہ رانی کے جسم میں کینسر پروفیسر میجر جنرل سھیل حفیظ کی نا اھلی،کم عقلی،حماقت،نا سمجھی اور جہالت کی وجہ سے پھیلا۔وہ تب افواج پاکستان کےD.G.سرجری اورآرتھو پیڈک، مشیر تھے۔بعد از
ریٹائیرمینٹ جنرل سھیل کی”خدمات”شفاء انٹر نیشنل ھوسپٹل ISD نے حاصل کی ھوئی ھیں،
جنھوں نے وہ ٹیکہ جو نرسنگ سپاھی مفت لگاتاھے
5سو روپے میں لگایا۔
جہاں ایسے سنگدلوں اور بے حسوں سے پالا پڑا وھاں ڈاکٹر عادل شفیع جیسے رحم دل نے ہولی فیملی ہسپتال کی کھڑکی پر جا کر 50 روپے فیس جمع کروائی اور کہا ایک دو دن تکCT سکین کی رپورٹ آجائے گی تو پھر ہولی فیملی کی طرف سے” نوری” کو کیس بھجواؤں گا اور کیمو سیشن کرا کے خود ہی اپریشن کروں گا۔آپ کا کچھ بھی خرچ نھیں ھو گا۔لیکن امریکہ میں رھنے والی عزیز ہ نےمسز مرزا کو سرجری سے ڈرا کر انھیں قصور کے نام نہاد روحانی بابے کا وزیٹنگ کارڈ وٹس ایپ کیا،
جو لاعلاج اور نیم مردہ جسموں کو زندہ کرنے کا دعوے دار تھا۔
جہاں دیدہ اور سمجھ دار مرزا صاحب کو اوپریٹو ساتھی کی خواہش نہ ٹال سکے۔راولپنڈی سے لاھور، وھاں قصور سے تھوڑا پہلے مشرق میں قتلو ھی وزیر پور نا می گاؤں،پاک بھارت بارڈر ایرئیے کی تیسری زیرو لائین پر بھت مشکل سے پہنچے ھوئے

آنکھ جو کچھ دیکھتی ھےآبروئے صحافت جبار مرزا”جو ٹوٹ کے بکھرا نھیں”

سو لفظوں کی کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے