#کالم

آسن قبراں تاں لگسن خبراں

1200x630

تحریر: سید عمران سلیم۔

آسن قبراں تاں لگسن خبراں مطلب جب مقامِ حشر ہوگا پتا لگ جائے گا
دنیا کی چمک دمک، شہرت کے جھوٹے تماشے، اور طاقت کے زعم میں ڈوبا انسان بھول جاتا ہے کہ ہر سفر کا ایک اختتام ہوتا ہے آج کے دور میں انسان نے زمین و آسمان ناپ لیے، لیکن خود کو بھول بیٹھا کسی کے پاس دولت کا غرور ہے کوئی اقتدار کے نشے میں ہے، تو کوئی اپنی زبان و قلم کو حق و باطل کے درمیان تولنا ہی بھول گیا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے جب مقامِ حشر ہوگا، پتا لگ جائے گا
یہ دنیا ایک عارضی سرائے ہے یہاں انصاف اکثر دیر سے ملتا ہے، کبھی کبھی ملتا ہی نہیں مظلوم کی آہیں خاموش فضا میں تحلیل ہو جاتی ہیں، ظالم کے قدموں تلے زمین کانپتی نہیں مگر وہ دن ضرور آئے گا جب سب لب خاموش ہوں گے، اور صرف اعمال بولیں گے وہ دن جب کسی کا جاہ و جلال کام نہیں آئے گا، جب کرسیوں کی چمک بجھ جائے گی، جب تخت زمین کے برابر ہو جائیں گے، اور تاج مٹی میں دفن ہو جائیں گے۔
آج ہم قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھتے ہیں، لیکن یاد نہیں کرتے کہ ایک دن ہمیں بھی وہیں لٹایا جائے گا۔ ہم دوسروں کے اعمال پر بات کرتے ہیں، مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کا حوصلہ نہیں رکھتے ہم دوسروں کے لیے انصاف مانگتے ہیں، مگر خود انصاف دینے کو تیار نہیں۔ شاید اسی لیے کہا گیا ہے” آسن قبراں تے لگسن خبراں”
یعنی جب ہم مٹی تلے سو رہے ہوں گے، تب ہی دوسروں کو ہماری حقیقت اور ہماری قدر کا احساس ہوگا مقامِ حشر پر کوئی لقب نہیں چلے گا کوئی پہچان نہیں رہے گی کوئی خاندان یا جماعت ساتھ نہ ہوگی وہاں صرف اعمال کی روشنی اور نیت کی سچائی ساتھ دے گی وہاں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنی دولت کمائی، بلکہ یہ کہ تم نے کہاں خرچ کی۔ یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ تم کتنے بڑے تھے، بلکہ یہ کہ تم نے کتنے دل بڑے کیے۔
دنیا کے سب تماشے، سب فریب، سب چمکتے پردے اس دن ہٹ جائیں گے۔ اور پھر ہر انسان اپنے اصل چہرے کے ساتھ سامنے کھڑا ہوگا۔ اس دن زبانیں گنگ ہوں گی، آنکھیں شرمسار، اور دل کانپتے ہوں گے۔
پس اے انسان! ابھی وقت ہے۔ جھوٹ کی بنیادوں پر عمارت مت کھڑی کر، ظلم کی چادر اوڑھ کر چین سے مت سو۔ اگر خود کو بچا نہیں سکتا تو کم از کم دوسروں کا حق نہ مار۔ اس سے پہلے کہ قبر کی مٹی تجھے خاموش کرے، اپنے دل کے کان کھول لے کیونکہ
جب مقامِ حشر ہوگا، پتا لگ جائے گا

آسن قبراں تاں لگسن خبراں

آہ کرکے یا واہ کر!!!!

آسن قبراں تاں لگسن خبراں

دھرتی خراج مانگتی ہے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے