پاک ‘ افغان مذاکرات بے نتیجہ ختم
آج کا اداریہ
پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات دہشتگردوں کی حوالگی کا مطالبہ مسترد کیے جانے کے باعث ایک بار پھر نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی بنیادی توقع، کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے، پر عمل کرنے کے بجائے طالبان حکومت ہمیشہ ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات سے گریز کرتی رہی ہے۔
بیان کے مطابق اس کے برعکس وہ اصل مسئلے یعنی دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کے لیے غیر متعلقہ اور فرضی معاملات کو سامنے لاتی رہی ہے۔ اس طرح طالبان حکومت ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کرتی رہی ہے جو اسے بین الاقوامی برادری اور اپنے عوام کے سامنے اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ظاہر کرے۔
دفتر خارجہ کے مطابق افغانستان سے مسلسل ہونے والے حملوں کے جواب میں اکتوبر 2025 میں پاکستان کی کارروائی اس عزم اور ارادے کی عکاس تھی کہ پاکستان اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق ٹی ٹی پی اور بی ایل اے ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے دشمن قرار دیے جا چکے ہیں۔ جو کوئی بھی ان کی پناہ، مدد یا مالی اعانت کرے، وہ پاکستان اور اس کے عوام کا خیر خواہ نہیں سمجھا جاتا۔ پاکستان اپنے مفادات اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
اسی کے ساتھ پاکستان امن اور سفارت کاری کا بھی مضبوط حامی ہے۔ پاکستان ہمیشہ یہ مؤقف رکھتا آیا ہے کہ طاقت کا استعمال آخری چارہ کار ہونا چاہیے۔ اسی جذبے کے تحت، اور برادر ممالک ترکی اور قطر کے مخلصانہ مشورے پر عمل کرتے ہوئے، پاکستان نے مخلص دوستوں کی ثالثی میں پاکستان-افغانستان امن مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔
ان مذاکرات کے پہلے دور میں دوحہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور ذمہ داری کے چند اصولوں پر اتفاق ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔
تفصیلات کے مطابق دوسرا دور استنبول میں ہوا، جس کا مقصد دوحہ میں طے پانے والے اقدامات کے نفاذ کا طریقہ کار وضع کرنا تھا۔ تاہم طالبان حکومت کے نمائندوں نے عملی اقدامات سے گریز کیا اور اپنے کیے ہوئے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اشتعال انگیز اور الزام تراش میڈیا بیانات کے ذریعے ماحول کو بھی خراب کیا۔ پاکستان نے اپنے بنیادی مطالبے، یعنی افغان سرزمین پر موجود شدت پسند عناصر کے خلاف قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی، پر سختی سے مؤقف برقرار رکھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تیسرے دور میں بھی پاکستان نے تعمیری رویہ اپنایا اور ایک مؤثر مانیٹرنگ میکانزم کے قیام پر توجہ مرکوز رکھی۔ لیکن افغان فریق نے دہشت گردی کے بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے اور غیر متعلقہ و بے بنیاد الزامات کے ذریعے مذاکرات کے دائرہ کار کو پھیلانے کی کوشش کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جو کوئی بھی ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا جائزہ لے، وہ آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ طالبان حکومت کا اصل مقصد صرف عارضی جنگ بندی کو طول دینا تھا، بغیر اس کے کہ وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کرتی۔
دفتر خارجہ کے مطابق اس کے برعکس، افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف الزامات اور اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے مذاکرات کو طول دیا اور کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچنے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔
ساتھ ہی طالبان حکومت افغانستان میں موجود پاکستانی دہشتگردی کے مسئلے کو انسانی ہمدردی کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔2015 میں آپریشن ضربِ عضب کے بعد، ٹی ٹی پی کے شدت پسند افغانستان فرار ہو گئے تھے۔ انھوں نے افغان طالبان کی اس وقت عالمی افواج اور افغان حکومت کے خلاف جنگ میں مدد کی تھی۔
اب طالبان حکومت ان شدت پسندوں اور ان کے خاندانوں کو اپنے پاس پناہ دے رہی ہے۔ یہی دہشت گرد اب افغانستان میں تربیتی کیمپ چلا کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغان طالبان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو پاکستان کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے، مگر ایک مضبوط گروہ، جو بیرونی عناصر کی مالی مدد سے سرگرم ہے، کشیدگی بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اپنی حکومت کے اندرونی اختلافات کو ختم کرنے اور جائز حیثیت حاصل کرنے کی کوشش میں، طالبان حکومت کے بعض عناصر اور پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کو مفید سمجھتے ہیں۔
ان کے بیانات اور الزامات پاکستان کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کو ہوا دے رہے ہیں، جس سے وہ پاکستان میں موجود اپنی باقی ماندہ نیک نیتی بھی کھو رہے ہیں۔
طالبان حکومت کے کچھ عناصر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں افغان پالیسی پر اختلافات ہیں، لیکن یہ ایک گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔پاکستانی عوام میں اس معاملے پر مکمل اتفاق ہے کہ افغانستان میں چھپے دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے سب سے بڑے متاثرین خود پاکستانی عوام ہیں۔‘
مسلح افواج عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، اور پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ پاکستان کے مفادات اور عوام کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔جبکہ طالبان دہشت گردی کو پاکستان کا ’اندرونی مسئلہ‘ قرار دیتے ہیں مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ افغانستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے جواز میں فتوے جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں اب بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے۔‘






