#اداریہ

غزہ میں امن فورس (آئی ایس ایف ) بھجوانے کی تیاریاں

Fahad

آج کا اداریہ

امریکا نے اقوام متحدہ سے غزہ میں بین الاقوامی سیکیورٹی فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی منظوری طلب کرلی ہے، جس کا مینڈیٹ کم از کم 2 سال کے لیے ہوگا۔
امریکی ویب سائٹ ’ایکسِیوس‘ نے منگل کو رپورٹ کیا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے کئی رکن ممالک کو ایک ڈرافٹ قرارداد بھیجی ہے، جس میں غزہ کی پٹی میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے مجوزہ فورس کے قیام کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
ایکسِیوس (نے اس ڈرافٹ کی ایک کاپی حاصل کی) کے مطابق یہ قرارداد حساس مگر غیر خفیہ قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرارداد امریکا اور دیگر شریک ممالک کو غزہ کے نظم و نسق کے لیے 2027 کے اختتام تک سیکیورٹی فورس تعینات کرنے کا وسیع اختیار دیتی ہے، اور اس مدت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
یہ فورس ’غزہ بورڈ آف پیس‘ کے مشورے سے قائم کی جائے گی، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بورڈ بھی کم از کم 2027 کے اختتام تک قائم رہے گا
تاہم، ایک امریکی عہدیدار نے ’ایکسِیوس‘ کو بتایا کہ آئی ایس ایف پرامن مشن نہیں بلکہ نفاذی فورس ہوگی، ہدف یہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں قرارداد پر ووٹنگ ہو جائے اور پہلے فوجی جنوری تک غزہ پہنچا دیے جائیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ ڈرافٹ سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان آئندہ مذاکرات کی بنیاد بنے گا، اس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس ایف کو غزہ کی سرحدوں کی سیکیورٹی (اسرائیل اور مصر کے ساتھ)، عام شہریوں اور امدادی راہداریوں کے تحفظ، ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کی تربیت اور شراکت داری کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔

ڈرافٹ کے مطابق آئی ایس ایف غزہ میں سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگی، جس میں غزہ پٹی کو غیر عسکری بنانا، عسکری و دہشت گرد انفرااسٹرکچر کی تباہی اور دوبارہ تعمیر کی روک تھام، غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار مستقل طور پر ضبط کرنا شامل ہوگا۔

ایکسِیوس کے مطابق اس سے اشارہ ملتا ہے کہ فورس کا مینڈیٹ حماس کو غیر مسلح کرنے تک پھیلا ہوا ہے، اگر وہ خود ایسا نہیں کرتی تو عالمی فورس یہ کام کرے گی۔

مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایس ایف کو غزہ میں ’بورڈ آف پیس کو قابلِ قبول متحدہ کمان‘ کے تحت تعینات کیا جائے گا اور مصر و اسرائیل کے ساتھ قریبی مشاورت و تعاون کیا جائے گا۔

مجوزہ فورس کو اختیار ہوگا کہ وہ اپنے مینڈیٹ کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی قوانین، خصوصاً انسانی قوانین کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے۔

ادھر پاکستانی فوج غزہ بھجوانے کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غزہ میں افواجِ پاکستان کو بھیجنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اس پر غور کیا جا رہا ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے پاکستانی فوج کو غزہ بھیجنے کی تدید نہیں کی وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا میں خبریں چل رہیں کہ پاکستانی فوج امن فورس کا حصہ بن کر غزہ جا رہی ہے، اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ غزہ میرے دل کے قریب ہے، ان لوگوں کے ساتھ محبت ہے، اگر اسلامی دنیا اس طرح کا کوئی فیصلہ کرتی ہے اور پاکستان اس میں شامل ہوتا ہے، تو یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہوگی کہ ہم اپنے بھائیوں کی حفاظت اور بہتری کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ 9 اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر اتفاق ہوا تھا، یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن منصوبے کا پہلا مرحلہ تھا جس کا مقصد غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے راہ ہموار کرنا تھا
پاکستان ان 8 عرب و مسلمان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس منصوبے پر ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا، اگرچہ وقفے وقفے سے جھڑپیں اور کشیدگی سامنے آتی رہی ہے، تاہم غزہ میں نازک نوعیت کی جنگ بندی اب تک قائم ہے۔
یہ جنگ بندی کئی پیچیدہ مسائل (مثلاً حماس کا غیر مسلح ہونا اور اسرائیلی انخلا کا ٹائم فریم) کو حل کیے بغیر طے پائی تھی، جس کی اسرائیل نے فضائی حملوں کی صورت میں بارہا خلاف ورزی کی
ایکسِیوس کے مطابق آئی ایس ایف کا مقصد عبوری دور میں غزہ میں سیکیورٹی فراہم کرنا ہے، جس دوران اسرائیل بتدریج مزید علاقوں سے انخلا کرے گا اور فلسطینی اتھارٹی اپنے اصلاحاتی اقدامات کے ذریعے طویل المدتی طور پر غزہ کا انتظام سنبھالنے کے قابل ہوگی۔
ڈرافٹ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ بورڈ آف پیس کو عبوری انتظامی ادارے کے طور پر اختیارات تفویض کیے جائیں گے، اس کے تحت بورڈ ایک غیر سیاسی، ٹیکنوکریٹ فلسطینی کمیٹی کی نگرانی کرے گا جو غزہ کی سول انتظامیہ اور روزمرہ معاملات کی ذمہ دار ہوگی۔
قرارداد میں یہ بھی شامل ہے کہ امداد کی ترسیل بورڈ آف پیس کے تعاون سے اقوام متحدہ، ریڈ کراس، اور ریڈ کریسنٹ کے ذریعے کی جائے گی، اور اگر کوئی تنظیم اس امداد کا غلط استعمال یا انحراف کرے تو اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

غزہ میں امن فورس (آئی ایس ایف ) بھجوانے کی تیاریاں

06/11/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے