27 ویں آئینی ترمیم لانے کی تیاریاں اور نمبرز گیم
آج کا اداریہ
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک پوائنٹ پر پہنچ گئے ہیں، دیگر اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، اے این پی، بی اے پی کو بھی اعتماد میں لیں گے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 27ویں ترمیم آنے والی ہے، کوشش کریں گے کہ یہ آئین کے مطابق پیش کریں۔ بلاول بھٹو کا بیان دیکھا تھا بیان دینا ان کا حق ہے، بلاول نے جن باتوں کی نشاندہی کی وہ ہوا میں نہیں کی، ان پر بات ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ وزیر قانون آئینی ترمیم کو سینیٹ میں لا کر کمیٹی کو بھیجیں، کمیٹی کو چیئرمین ہدایت دیں وہ قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کی کمیٹی کو اجلاس میں مدعو کریں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کہا گیا یہ آئینی ترمیم کہاں سے آ رہی ہے، یہ آئینی ترمیم حکومت کی ہے، یہ کہیں سے پیرا شوٹ نہیں ہو رہی
یاد رہے گزشتہ برس اکتوبر میں 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اب 27ویں آئینی ترمیم پر مشاورت شروع ہو چکی ہے جس کے ذریعے آئینی عدالت کے قیام، قومی مالیاتی کمیشن کے تحت صوبائی شیئر کم کرنے پر پابندی کے خاتمے اور مسلح افواج سے متعلق آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی سمیت کئی امور زیرِ غور ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا یہ نہیں ہو گا کہ جلد بازی میں ترمیم منظور کروالی جائے، یہ یقین دہانی کرواتا ہوں، ہم ابھی اپنے سب سے بڑے اتحادی کے ساتھ بیٹھے ہیں، دیگر اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، اے این پی اور بی اے پی کو بھی اعتماد میں لینا ہے۔
انھوں نے کہا حتمی دستاویز آپ کے سامنے پیش کر دی جائے گی، حکومت سے کہتا ہوں کہ آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے پہلے سینیٹ میں لے آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم آئندہ ہفتے منظور کیے جانے کا امکان ہے
گزشتہ ہفتے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت کیلیے بلاول بھٹو سے ملاقات کی تھی۔
تاہم صدرمملکت آصف علی زرداری بیرون ملک ہونے کی وجہ سے اس حوالے مزید پیش رفت نہ ہوسکی تھی اب انکی دوبئی سے واپسی ہوئی ہے اور پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آج ہی طلب کرلیا گیا ہے ۔ اجلاس میں 27 آئینی ترمیم کی مجوزہ شقوں پر غور ہوگا آئینی عدالت کا قیام
ایگزیکٹیو مجسٹریٹس ججوں کے تبادلے کا اختیارقومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبائی شیئر کو حاصل تحفظ کا خاتمہ مسلح افواج سے متعلق آرٹیکل 243 میں ترمیم تعلیم اور بہبود آبادی کی وزارتوں کی وفاق کو دوبارہ منتقلی اورچیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی پر موجود ڈیڈ لاک کا خاتمہ ان شقوں میں شامل ہیں
جس طرح 26 ویں آئینی ترمیم کے موقع پر شور مچا تھا اسی طرح موجودہ مجوزہ آئینی ترامیم پر بھی تنقید ہورہی ہے۔ جن دو شقوں پر زیادہ بات ہورہی ہے ان میں ایک ججوں کے تبادلے کا اختیار اور دوسری مسلح افواج سے متعلق آرٹیکل 243 میں ترمیم ہے۔
عدالتی اصلاحات کے حوالے سے وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ سب سے اہم معاملہ آئینی عدالت کی تشکیل کا ہے کیونکہ یہ تنقید ہوتی ہے کہ ’عدالت کے اندر عدالت قائم ہے، آئینی بینچ نہیں ہونا چاہیے۔‘
’یہ ایک غیر حل شدہ ایجنڈا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے وقت پر بھی آئینی عدالت کا قیام زیرِ غور تھا۔‘
پاکستان میں آئینی اور پارلیمانی اُمور کے ماہر اور پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کی رائے ہے کہ بظاہر 26ویں آئینی ترمیم کا ’اِن فنشڈ ایجنڈا‘ اب 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے پہلے مسودے میں موجود بہت سی چیزیں بعد میں نکل گئی تھیں۔ ’اس وقت حکومت کے پاس جے یو آئی کے بغیر اتنے نمبر نہیں تھے، اس لیے جے یو آئی کے اس اعتراض کو قبول کرنا پڑا، خاص طور پر آئینی عدالت کا قیام، جس کی جگہ آئینی بینچ بنایا گیا تھا۔ اب حکومت کے پاس پیپلز پارٹی کی حمایت کی صورت میں اتنے نمبرز ہوں گے کہ وہ آئینی عدالت قائم کر سکیں۔ ’آئینی بینچ آدھا تیتر آدھا بٹیر والی بات ہے۔ وہ اسے آئینی عدالت کے بین الاقوامی ماڈل کے تحت کرنا چاہیں گے۔تاہم اپوزیشن کا اعتراض ہے کہ یہ شق اختلاف کرنے والے ججوں کیلیے ہے جنکے تبادلے ہوسکیں گے۔
جہاں تک مسلح افواج کی قیادت سے متعلق آرٹیکل. 243 کا تعلق ہے جو مسلح افواج کی کمانڈ سے متعلق ہے۔ اس میں درج ہے کہ صدر مملکت مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں جو وزیر اعظم کے ساتھ مشاورت سے مسلح افواج کے سربراہان کا تقرر کرتے ہیں اور ان کی تنخواہیں اور مراعات کا تعین کرتے ہیں۔
آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم سے متعلق بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ 1973 کے آئین کے بعد پہلی بار ہوا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے آرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے کا اعزاز دیا ہے اور اب اسے ’آئینی کوور‘ دینا ضروری ہے۔
اس تجویز پر دونوں جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں ہوگا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کو آئینی تحفظ مل جائے۔
اس مجوزہ ترمیم کا فیلڈ مارشل کے عہدے سے براہ راست تعلق نہیں کیونکہ یہ اعزازی عہدہ ہے۔ ’اصل عہدہ آرمی چیف کا ہے جس کی مدت ملازمت آرمی ایکٹ میں درج ہے۔‘
گذشتہ برس پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے آرمی چیف کی مدت ملازمت بڑھائی گئی تھی لیکن تعیناتی کے وقت آرمی چیف عاصم منیر کا تین سال کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا تھا، اس لیے انھیں دوبارہ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے جس میں یہ وضاحت کی جائے گی کہ ’کیا ان کی مدت ملازمت دو سال تک بڑھی ہے یا پھر پانچ سال کے لیے انھیں دوبارہ اس عہدے پر تعینات کیا جا رہا ہے؟‘
خیال رہے کہ نومبر 2024 کے دوران پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے مسلح افواج کے سربراہان






