#کالم

پے در پے لیک ویڈیوز کا سلسلہ کب رُکے گا؟

Untitled 10

تحریر: خالد غورغشتی

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلسaتاں کیا ہوگا

ہمارے ملک میں ہر دو چار ماہ بعد مہنگائی میں کمی ہو نہ ہو؛ باران رحمت ہو نہ ہو، کوئی خوش خبری ملے یا نہ ملے، لیکن کوئی نہ کوئی دھرنا یا ٹک ٹاکرز کی ویڈیوز ضرور لیک ہوتی ہے۔ اب تک کئی مشہور ٹک ٹاکرز کی ویڈیوز لیک ہو چکی ہیں؛ جو ڈارک ویب کے بعد واٹس ایپ نمبرز، گروپ اور مختلف ویب سائٹس پر سر عام بیچی جا رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ شروع میں لاکھوں پھر ہزاروں اور آخر میں چند سو روپے کے عوض بُولیاں لگا کر بیچی جاتی ہیں۔ یوں گاہک پھنستے جاتے ہیں۔ بعض با وثوق ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے باقاعدہ لیک ویڈیوز گروپ بنے ہوئے ہیں؛ جو ہر عمر کے افراد کو چند سو روپے میں علاقائی سے لے کر انٹرنیشنل لیول تک کی لیک ویڈیوز فراہم کر کے دھندہ چلاتے ہیں۔ جن کی روک تھام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہاں میں معزز خواتین و حضرات سے گزارش کروں گا کہ خدارا اپنی بچیوں کو ٹک ٹاک کے سحر سے نکالیں ۔بعض مشہور ٹک ٹاکرز کی ویڈیو کے پارٹس لاکھوں میں بک رہے ہیں اور وہ اس دھندے کو مشہوری کا ذریعہ سمجھ رہی ہیں۔ ہم چند سِکوں کی خاطر کس حد تک گر سکتے ہیں؛ سوشل میڈیا پر ان لیک ویڈیوز کے لنکس کی بھر مار دیکھ کر بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ایک اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2 درجن سے زائد مشہور ٹک ٹاکر گرلز کی نازیبہ ویڈیوز لیک ہو چکی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ویڈیوز واقعی حادثاتی طور پر لیک ہوئیں یا کچھ اور معاملہ ہے؟ یہ ٹک ٹاکرز جو دن رات ویڈیوز اپلوڈ کرتی ہیں۔ کیا انھیں پرائیویسی کی اہمیت کا اندازہ نہیں؟ اگر یہ غلطی سے بھی ایسی ویڈیوز بنا رہی ہیں تو کیا واقعی انھیں یہ نہیں معلوم کہ وہ ایک پبلک فگر ہیں اور ان کا ہر قدم لوگوں کی نظر میں ہے؟اگر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ منظم منصوبہ لگتا ہے۔ پچھلے ایک سال کے واقعات پر نظر ڈالیں تو جہاں بھی ایسی ویڈیوز لیک ہوئی ہیں یعنی کسی بھی مشہور ٹک ٹوکر کی،تو نہایت افسوس سے کہنا ہو گا کہ ان سب کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ان کے فالورز میں لاکھوں کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ٹک ٹاکرز سمجھتی ہیں کہ ان کی پرانی چیزیں لوگوں کے لیے بورنگ ہوتی جا رہی ہیں۔ جب ڈانس، روزمرہ کی باتیں اور پرانے ٹرینڈز لوگوں کو متاثر نہیں کرتے تو پھر کچھ نیا دکھانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
ایسے کلپ جو ایک منٹ سے بھی کم وقت کے ہوں، انھیں وہ ویوورز اور فالورز دے جاتے ہیں؛ جو شاید مہینوں میں بھی نہ ملیں۔ اس سے ان کی کمائی بھی اچھی ہو جاتی ہے۔ ان کے لیے شرم یا عزت کی کوئی اہمیت نہیں، ان کے لیے سب سے اہم مال و زر ہے۔کچھ عرصہ بعد شاید ہم اور بھی ایسی ویڈیوز دیکھیں گے اور ممکن ہے کہ یہ عوامی مقامات پر مزید نازیبہ لباس میں نظر آئیں، کیوں کہ ان کے لیے یہ سب سوشل میڈیا ویوورز کی گیم ہے، جس پر ان کی کمائی کا انحصار ہے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے ہر کسی کو شہرت کا موقع دیا ہے، لیکن افسوس کہ اکثریت وہ لوگ ہیں، جو اپنی عجیب و غریب حرکتوں، نازیبا ویڈیوز یا وقتی ہنگامہ خیزی کے ذریعے لاکھوں کروڑوں فالورز بنا لیتے ہیں۔ وقتی شہرت پانے والے یہ کردار نہ تو معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی لاتے ہیں، نہ ہی ان کی زندگی سے نوجوانوں کو کوئی سبق ملتا ہے۔حال میں ہی کئی مشہور ٹک ٹاکرز قانون کی گرفت میں ہیں، کچھ کی ویڈیوز سکینڈلز کے طور پر لیک ہوئیں، کچھ ذہنی دباؤ اور بُری صحبتوں کی وجہ سے خود ہی تباہ ہو گئے۔ یہ وہی انجام ہے، جو ہر اُس راستے کا ہوتا ہے، جس کی شروعات غلط نیت، بے حیائی اور سستی شہرت سے کی جائے۔

ہمارے نوجوانوں اور اُن کے فالوورز کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ جس کو آپ رول ماڈل سمجھ کر فالو کرتے ہیں، سوچنا چاہیے کہ اُس نے علم، خدمت، ہنر یا کسی مثبت جدوجہد کے ذریعے نام کمایا ہے یا محض ناچ گانے اور لغویات کے ذریعے؟سچ یہ ہے کہ برے راستوں سے کبھی عزت اور پائیدار کامیابی نہیں ملتی۔ وقتی تالیاں بجتی ہیں، ویوز آتے ہیں، پیسہ بھی آ جاتا ہے، لیکن آخرکار انجام رسوائی، ذلت اور ندامت ہی ہوتا ہے۔قوم کے نوجوان اگر حقیقی رول ماڈل تلاش کرنا چاہتے ہیں تو اُن لوگوں کو دیکھیں جنھوں نے علم، جدوجہد، خدمت، ہنر اور اخلاقیات سے مقام بنایا۔ وہ لوگ جو دوسروں کی زندگیاں بہتر بناتے ہیں، معاشرے کو روشنی دیتے ہیں اور اپنے کردار سے عزت کماتے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ ہم سوچیں،کیا ہم اپنی نوجوان نسل کو وقتی تفریح، فضولیات کے حوالے کر دیں یا اُنھیں ایسے ہیروز کے پیچھے چلنے کی ترغیب دیں جو واقعی کچھ کر گزرنے والے ہیں؟ اللہ کرے کہ ہم ان کی روک تھام میں کامیاب ہو جائیں اور علم و ہنر کو فروغ دے کر نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنا لیں۔سوشل میڈیا بلاشبہ ایک طاقت ور ذریعہ ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے اسے خود تباہی کا ہتھیار بنا لیا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشرے اس پلیٹ فارم کو علم، ہنر، تخلیق اور آگہی کے لیے استعمال کرتے ہیں، جب کہ ہم نے اسے شہرت، نمود و نمائش اور اخلاقی زوال کے لیے وقف کر دیا ہے۔ اگر یہی توانائی ہم کسی مثبت مقصد میں لگائیں تو نہ صرف خود کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بھی مثال قائم کر سکتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ نوجوان نسل آج بے حد باصلاحیت ہے۔ ان کے پاس وہ ٹیلنٹ، وہ تخلیقی قوت اور وہ جذبہ ہے جو کسی بھی قوم کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے۔ ضرورت صرف سمت متعین کرنے کی ہے۔ اگر یہی

پے در پے لیک ویڈیوز کا سلسلہ کب رُکے گا؟

31/10/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے