سو لفظوں کی کہانی
غرور
پارکنگ لاٹ میں دوسو کسی پہ چیخ رہا تھا،
دیکھا تو ایک غریب پرچی کاٹنے والا تھا، جس کی شامت آئی ہوئی تھی،
دوسو بڑا افسر تھا،
پارکنگ والے کی ہمت کیسے ہوئی مجھے پرچی کا کہنے کی، دوسو گرجا،
مشکل سے بیچارے کی جاں خلاصی ہوئی۔۔۔
چند دن بعد پھر شور تھا،
پتا چلا، دوسو کی گاڑی چوری ہو گئی ہے،
پارکنگ ملازم کو سب سے پہلے پولیس نے دھر لیا،
لیکن پہلے ہی سوال کے جواب پر اسے چھوڑ دیا گیا تھا،
اس نے کہا،
قصور میرا ہے،
اگر دوسو صاحب کے پاس پارکنگ کی پرچی ہے تو۔۔۔





