سر پھرے لوگ
جمع تفریق۔۔ناصر نقوی
وقت بہت ظالم ہے ،جو کچھ نہیں تھے وہ آ ج سب کچھ ہیں، جو کبھی بہت کچھ تھے آ ج وہ کچھ بھی نہیں، ماضی کے جھروکوں میں جھا نکیں تو حضرت انسان کے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے، ایسے آ دم دادے جو دوسروں کے لیے باعث صد افتخار تھے ان کا جاہ و جلال بڑے بڑوں کو اوقات یاد کرا دیتا تھا، فیصلے ہی نہیں، ان کے اشاروں پر منظر بدل جاتے تھے ان کی مہربانی لوگوں کی زندگیاں بدل دیتی تھی اور غضب و غصہ دنیا چھین لیتا تھا، آ ج منوں مٹی تلے سو رہے ،جن کے لیے وہ قدم قدم پر مرتے اور جیتے تھے وہ انہیں بھول کر دوسروں کے لیے مر جی رہے ہیں اور وہ اس قدر بے بس ہیں کہ ان بے وفاؤں سے پوچھ بھی نہیں سکتے کہ تم نے کیا کیا ؟حقیقت یہی ہے کہ رشتے کسی بھی خوبصورت آ واز ،اونچے مرتبے اور خوبصورت چہروں سے نہیں بنتے بلکہ خوبصورت دل اور نہ ٹوٹنے والے بھروسے سے بنتے ہیں، نسخہ کیمیا میں ایک سے زیادہ مرتبہ حضرت انسان کو سمجھایا گیا کہ تم دنیا کے جھمیلوں میں گم نہ ہو جاؤ، زندگی ،موت، عزت، ذلت سب مالک حقیقی کی جانب سے ہے، تم دنیا والوں سے توقعات مت رکھو ،صرف اس سے مانگو، جس سے سب مانگتے ہیں البتہ اس تک پہنچنے کے لیے دین حق اسلام ،نسخہ کیمیا قر آ ن مجید اور اس کے محبوب کا سہارا ضرور حاصل کرو، اس سلسلے میں سورہ بقرہ ۔107 آ یت آ دم زادوں کے لیے انتہائی سکون بخش ہے ترجمہ ٫٫اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا سچا دوست ہے اور نہ ہی کوئی مددگار ،، لیکن ہم ٹھہرے آ دم زادے۔۔
پیدا ہوتے ہی لڑائی اور حسد کا سہارا لیا بھائی نے بھائی کا قتل کیا اور آ ج تک یہی روایت چل رہی ہے، حکم حاکم حقیقی ہے کہ فساد برپا نہ کرو اور ہم اس راز سے بھی واقف ہیں کہ کسی ایک کا پیچھے ہٹ جانا بہت سے شر و فساد اور نقصان سے بچا لیتا ہے پھر بھی کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، اس لیے کہ کہیں سبکی نہ ہو جائے، ہم تو کسی سے کم نہیں حالانکہ خلق خدا کی بھلائی، زندگی اور پیار محبت کی پہلی منزل رواداری اور برداشت ہے ہم مانتے ہی نہیں جانتے بھی ہیں کہ عزت ، دولت و ذلت، مرتبہ و منصب خالصتا اللہ کی عنایت ہے پھر بھی اپنے نام و نمود اور خاندانی پہچان کے لیے اولاد نرینہ کے طلبگار رہتے ہیں جبکہ میں اور آ پ ھی نہیں بلکہ سب نے دیکھا ہے کہ اولاد نرینہ کے خواہش مند ان کے ہاتھوں کس کس طرح تماشا بنے، میں سمجھتا ہوں کہ اس مٹی کے پتلے کی بقا صرف اور صرف اسی صورت میں ہے کہ جب وہ کوئی ایسا کارنامہ کر جائے کہ اسے کوئی بھلانا چاہے بھی تو بھلا نہ سکے، جائیداد ،زمینیں، فارم ہاؤسز اجاڑنے کے لیے دشمن کی ضرورت ہرگز نہیں ہوتی اکثر اوقات اولاد ہی کافی ہوتی ہے تاہم جنہیں اللہ قابل بھروسہ دوست جیسی نعمت دے وہ بھی بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں، اسی طرح وہ لوگ بھی انتہائی قابل ستائش ہیں جو نفع نقصان کی پرواہ کیے بغیر اپنی دھن میں مگن ہیں، وہ نہیں جانتے کہ انہیں پذیرائی ملے گی بھی کہ نہیں، پھر بھی اپنے عہد کی وفاداری پوری ذمہ داری سے نبھاتے ہیں ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی ہرگز نہیں،
گھاٹے کا سودا کرنے والے یہ٫٫ سرپھرے لوگ،، بآ سانی مل جاتے ہیں، آ ج کے جدید سوشل میڈیا اور الیکٹرانک دور میں بڑے بڑے معتبر ادارے ، رسائل، پبلیشر قصہ ماضی بن چکے ہیں اور اگر کچھ باقی ہیں تو وہ بھی آ ئی۔ سی۔ یو میں مصنوعی سانسیں لینے پر مجبور ہیں، اس دور نے کتاب سے بھی رشتہ توڑ دیا حالانکہ جہاں سے یہ ترقی ہمارا نصیب بنی، وہاں اخبارات بھی موجود ہیں کتاب بھی اور بک لورز بھی لیکن ہم اور ہماری نئی نسل گوگل، ایکس اور وی لاگز کے جال میں ایسے پھنسے کہ گردن اٹھا کر اخبار اور کتاب کی طرف دیکھنا بھی معیوب سمجھتے ہیں اگر کوئی انہیں پرنٹ میڈیا اور کتاب کی طرف متوجہ کرے تو فورا جواب ملتا ہے کہ اب زمانہ لد گیا ،نئے زمانے اور نئی سہولیات کی بات کریں، ایسے حالات میں بھی کچھ ٫٫سرپھرے لوگ ،،ہیں جو اپنی روایات ثقافت اور ادبی ذوق کے مطابق شب و روز محنت کرتے ہیں اور کسی سے گلہ شکوہ بھی نہیں کرتے، پہلی مثال تاریخ ساز ادبی دنیا کے شاہکار ٫٫ادب لطیف،، کیا ہے جو 1935 سے اب تک تواتر سے چھپ ہی نہیں رہا بلکہ ابھی بھی معیار اور تخلیقات کے چناؤ کے حوالے سے اس کا انتظار ہوتا ہے، اس کے بانی برکت علی چودھری بھی تاریخ ساز شخصیت تھے، ان کے بعد اس ادبی مشن کو افتخار علی چودھری اور صدیقہ بیگم نے بڑی کامیابی سے جاری رکھا اور اب ان کی صاحبزادی کی سرپرستی میں کاروان رواں دواں ہے اور اس مشن کے موجودہ سالار مظہر سلیم مجوکہ ہیں جو اپنی ادبی وفاداری میں اس کا معیار قائم رکھنے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی ہی نہیں کرتے، اسی لیے٫٫ ادب لطیف،، کے پرانے اور نئے قاری اس ادبی مجلے کا ہمیشہ انتظار کرتے ہیں مظہر سلیم مجوکہ ایک تخلیق کار کی حیثیت سے چراغ سے چراغ جلانے کے قائل ہیں لہذا انہوں نے اپنے بھائی اظہر سلیم مجوکہ کو اس گھاٹے کے سودے کے لیے رضامند کیا ان کا کہنا تھا کہ انسان نفع کا ہمیشہ متلاشی ہوتا ہے لیکن اگر اللہ نے اسے صاحب حیثیت بنایا ہے ،ا سے معاشرے کی بھلائی اور لوگوں کو مثبت سرگرمیوں کے لیے کچھ ضرور کرنا چاہیے لہذا بطور مدیر٫٫ بک ڈائجسٹ،، کا اہتمام کر لیا گیا، اس ادبی، علمی اور فکری جریدے کے سرپرست بھی مظہر سلیم مجوکہ ہیں لیکن اس کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کا ہر شمارہ کسی اہم شخصیت کے حوالے سے ہوتا ہے جو اس قدر مکمل اور مربوط ہوتا ہے کہ آ ج کے






