بلدیاتی اداروں کی اھمیت و افادیت اور وزیر اعلی پنجاب کا ویژن )
أج کا اداریہ
دنیا بھر میں لوکل گورنمنٹ سے گڈ گورننس ہوئی اور بہتر نتائج ملے ہیں، ہمیں بھی ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ ہمارے ہاں تیسرے درجے کی حکومت قائم نہیں ہوسکی لہٰذا بلدیاتی نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے اسے آئینی تحفظ دینا ہوگا۔
اس حوالے سے کام بھی ہو رہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے دورمیں 2016ء میں قائم ہونے والی بلدیاتی حکومتوں کو ختم کردیا جو جمہوری نظام کے ساتھ اچھا نہیں سمجھا گیا اور پھر بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر مزید برا کیا۔ خوشی کی بات ھے ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف بلدیاتی ایکٹ بنایا ہے بلکہ اب بلدیاتی انتخابات کی طرف بھی جا رھی ہے ۔ حلقہ بندیوں سمیت دیگر مراحل مکمل ہونے کے بعد آئندہ برس مارچ کے آخر یا اپریل کے آغاز میں الیکشن ہوں گے، امید ہے کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
نئے بلدیاتی ایکٹ کے حوالے سے مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ لوگوں کو درست معلومات نہیں ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس ایکٹ میں تو جماعتوں کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے۔ 9 امیدواروں کا پینل نہیں ہوگا، ہر کوئی آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ سکتا ہے۔ الیکشن جیتنے کے بعد نمائندے کسی بھی پارٹی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ نئے ایکٹ میں ڈسٹرکٹ کونسل کو ختم اور تحصیل کونسل کومضبوط کیا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ ٹاؤن و میونسپل کارپوریشن بھی بنا رہے ہیں۔ لاہور کے 10 ٹاؤنز بنیں گے اور ہر ٹاؤن کا ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر ہوں گے۔
صوبے میں قائم اتھارٹیز اپنا کام کر رہی ہیں، مقامی حکومتوں کے نظام میں تمام اتھارٹیز کا ایک فورم ہوگا جس کا سربراہ سب سے بڑی تحصیل کاچیئرمین ہوگا، اس طرح بہتر کووارڈی نیشن سے عوامی مسائل حل کیے جائیں گے۔ نئے ایکٹ میں اگر کوئی خامی ہے تو اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔
اس وقت ضروی یہ ہے نظام کو آگے بڑھنے دیاجائے جب 60 ہزار سے زائد نمائندے منتخب ہو کر آئیں گے تو وہ اپنے مسائل خود ہی حل کرلیں گے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب بلدیاتی انتخابات کے حق میں ہیں،و ہ چاہتی ہیں کہ مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام قائم ہو، یقین ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ انتخابات کے بعد لوکل گورنمنٹ فنانس کمیشن بھی قائم کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت ہمیشہ سے کارکردگی میں آگے رہی ہے اور یہاں سب سے زیادہ کام کیا گیا ہے۔ پنجاب کی گورننس کا مقابلہ کسی بھی ملک بلکہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت سے بھی کیا جاسکتا ہے، ہماری کارکردگی اس سے بہتر ہے۔
باقی صوبوں کی نسبت پنجاب مقامی حکومتوں کے حوالے سے بدقسمت صوبہ ہے۔ اب بھی یہاں ایک طویل عرصے کے بعد بلدیاتی انتخابات ہوں گے اور نظام قائم ہوگا۔ آخری مرتبہ 2015ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں بننے والا بلدیاتی نظام مسائل کا شکار رہا اور نظام کا تسلسل بھی قائم نہ ہوسکا۔ بعدازاں 2019ء میں بلدیاتی ایکٹ بنا لیکن انتخابات نہ ہوئے۔ پھر 2022ء میں ایکٹ بنا مگر انتخابات نہیں ہوئے۔ اتنے برسوں میں لوگوں کے مسائل بڑھتے گئے۔ سموگ کا مسئلہ ہے۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن کا مسئلہ ہے۔
صفائی ستھرائی کے حوالے سے جو کام ہونا چاہیے تھا وہ درست انداز میں نہیں ہوا۔ ملک میں تیسرے درجے کی حکومت ہی موجود نہیں تھی تو لوگوں کے بنیادی مسائل کس طرح حل ہوتے۔ قومی و صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بلدیاتی حکومتوں کو اپنا بازو سمجھیں اور انہیں قائم کریں۔ بلدیاتی ایکٹ کا بننا خوش آئند ہے۔ مقامی حکومتیں سیاسی جماعتوں کے لیے نرسری کی حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہاں سے قیادت ابھرتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نام تو لوکل گورنمنٹ کا دیتے ہیں لیکن سلوک لوکل باڈیز والا کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ درست نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ مقامی حکومتوں کو آئین کے مطابق مالی اور انتظامی اختیارات نہیں دیے جاتے۔
نئے ایکٹ میں ضلعی حکومت ختم کر دی گئی ہے۔ اب نئے بلدیاتی ایکٹ کے مطابق ضلعی حکومتیں نہیں ہوں گی۔ دیہاتوں میں تحصیل کونسل اور شہروں میں میونسپل کارپوریشن ہوگی۔ تحصیل یا میونسپل کمیٹی کا چیئرمین ہوگا۔جب تک مقامی حکومتوں کو اختیارات نہیں دیے جائیں گے تب تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس نظام کوصحیح معنوں میں فائدہ ہوگا۔ بلدیاتی انتخابات براہ راست ہونے چاہئیں، جو نمائندے براہ راست الیکشن لڑ کے آتے ہیں ان میں خود اعتمادی ہوتی ہے اور ان کی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے۔
بلدیاتی ادارے سیاسی قیادت کے پروان چڑھنے کی ہیچری ہیں۔ 1979ء کے انتخابات کے بعد جو نمائندے لوکل گورنمنٹ میں آئے وہ ملکی سطح پر سیاست میں آگے گئے۔ بلدیاتی حکومت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے نمائندوں کو بنیادی سطح پر مسائل حل کرنے اور معاملات بہتر کرنے کی مہارت حاصل ہوتی ہے جو آگے چل کے ان کے کام آتی ہے۔ مہذب دنیا میں جہاں بھی بلدیاتی نظام موجود ہے وہاں پر معاملات اچھے انداز میں چلتے ہیں اور عوام کو فائدہ بھی ہوتا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کا حلقہ بڑا ہوتا ہے۔
اس میں کئی شہری و دیہی علاقے شامل ہوتے ہیں لہٰذا یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام لوگوں کی اپنے نمائندے تک دسترس ہو۔ ایسے میں لوکل گورنمنٹ کے نمائندے عوام کے ساتھ ہوتے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت اپنے علاقے میں ہوتے ہیں اور لوگوں کے مسائل فوری حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
خوش آئند ہے کہ پنجاب میں نیا بلدیاتی ایکٹ منظور ہوچکا ہے، گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد اب یہ باقاعدہ قانون بن گیا ہے لہٰذا اب ہمیں آگے کا سوچنا چاہیے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں بہت ساری مفید تجاویز جو اس بل کی مشاورت کے دوران دی گئیں تھیں وہ شامل نہیں کی گئیں تاہم اب چونکہ قانون بن گیا ہے تو اس میں اگر مگر کی گنجائش نکالنے کے بجائے بلدیاتی انتخابات کروا کر مقامی حکومتوں کا نظام قائم کیا جائے۔






