#کالم

رکاوٹ کون؟

Untitled 13 1

تحریر: رفیع صحرائی
rafisehraee5586@gmail.com


خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی بڑے غصے میں ہیں۔ انہیں غصہ اس بات پر ہے کہ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہوئے بھی انہیں مقتدر حلقوں سے عزت نہیں مل رہی۔ ان کی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ اس معاملے کو لے کر وہ ڈپریشن کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ گلہ نہیں کر رہے بلکہ باقاعدہ غصہ کر رہے ہیں کہ عدالت سے اجازت ملنے کے باوجود ان کی ملاقات بانی پی ٹی آئی سے نہیں کروائی جا رہی۔ گزشتہ روز چارسدہ میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ان کی ملاقات بانی پی ٹی آئی سے نہیں کروائی جا رہی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے انہوں نے پنجاب اور وفاقی حکومت کو خط بھی لکھے۔ ملاقات نہ ہونے پر میں عوام کے پاس آیا ہوں۔ جس نے قوم پر ظلم و جبر کیا ہے اس کو عوام کے کٹہرے میں لائیں گے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ تیاری پکڑ لیں، ہم بانی چیئرمین کو جیل سے نکالیں گے۔
سہیل آفریدی جب سے وزیرِ اعلیٰ بنے ہیں مسلسل اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ان کی ملاقات بانی پی ٹی آئی سے ہو جائے مگر وہ ابھی تک اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے۔ وہ کیوں کامیاب نہیں ہو سکے، یہ بات وہ خود بھی بخوبی جانتے ہیں۔ بیرسٹر سیف انہی کی حکومت کے نمائندہ ہیں۔ انہیں ملاقات سے آج تک انکار نہیں ہوا۔ سہیل آفریدی ان کے ذریعے پیغام رسانی کر سکتے ہیں لیکن مسئلہ پیغام رسانی کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ اپنی حیثیت کو منوانے کا ہے جس میں فی الحال وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ لیکن حسن ایوب خان کے مطابق وہ کورٹ آرڈر کے بغیر اڈیالہ جیل بانی سے ملاقات کرنے گئے تھے۔ اس کی وجہ تو سہیل آفریدی خود ہی بتا سکتے ہیں۔ کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔
جہاں تک پنجاب اور وفاقی حکومت کو خط لکھنے کی بات ہے تو یہ کام خط لکھنے والا نہیں ہے۔ وہ پنجاب کی جیل میں بند ایک قیدی سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ پنجاب سہیل آفریدی کی عملداری میں نہیں آتا کہ وہ خط کے ذریعے اطلاع دے کر کسی قیدی سے ملنے پہنچ جائیں۔ اگر انہوں نے وفاقی یا پنجاب حکومت کو درمیان میں لانا ہے تو اس کے لیے انہیں خط لکھنے کی نہیں بلکہ اجازت مانگنے کی ضرورت تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ سہیل آفریدی بانی سے ملاقات کرنا ہی نہ چاہتے ہوں۔
دوسری طرف منصور علی خان کے ایک پروگرام میں اس وقت شرکائے پروگرام اور ناظرین حیرت زدہ رہ گئے جب پی ٹی آئی کے رہنما اور عمران خان کے مرکزی وکیل انتظار پنجوتھہ نے یہ دعویٰ کر دیا کہ جب نواز شریف جیل میں تھے تو وہ باقاعدہ آرڈیننسز پر دستخط کرتے تھے حالانکہ حکومت بھی ہماری تھی۔ جبکہ اب عمران خان سے ہماری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔ منصور علی خان نے انہیں جب یہ کہا کہ آرڈیننس واحد دستاویز ہے جس پر صرف صدرِ مملکت دستخط کرنے کا مجاز ہے کوئی دوسرا شخص اس پر دستخط نہیں کر سکتا۔ نواز شریف تو کبھی صدر رہے ہی نہیں تو پھر وہ آرڈیننس پر کیسے دستخط کر سکتے تھے تو انتظار پنجوتھہ پھر بھی اپنی بات پر اڑے رہے اور کہا کہ آپ گوگل کر کے دیکھ لیں۔ اس پر منصور علی خان نے پروگرام میں شریک مہمانوں حسن ایوب خاں اور اختیار ولی خان کو بولنے سے منع کرتے ہوئے انتظار پنجوتھہ سے کہا کہ وہ خود ہی گوگل کر کے بتا اور دکھا دیں۔ انتظار پنجوتھہ نے گوگل سے تحریر تلاش کر کے پڑھ کر سنا دی جو ان کے اپنے ہی دعویٰ کی نفی کر رہی تھی لیکن وہ پھر بھی اپنی بات پر قائم رہے کہ نواز شریف جیل میں آرڈیننسز پر دستخط کیا کرتے تھے۔ ایک نامور وکیل کی جانب سے اس طرح کا مضحکہ خیز دعویٰ قابلِ افسوس ہی نہیں قابلِ غور بھی ہے کہ اگر عمران خان کی وکلاء کی ٹیم کے ایک اہم ممبر کی قابلیت کا یہ معیار ہے تو باقی وکلاء بھی ایسے ہی تو نہیں ہیں جو بغیر تیاری کے عدالتوں میں پیش ہوتے ہوں اور اپنے موکل کا دفاع کرنے میں ناکام رہتے ہوں۔ ہو سکتا ہے پی ٹی آئی کی لیڈرشپ نے پارٹی ممبران وکیلوں کی بجائے بھاری فیس لینے والے وکلاء کی خدمات حاصل کرنے پر غور شروع کر دیا ہو۔
تیسری طرف سابق اسپیکر قومی اسمبلی و رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے 200 فیصد امکانات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کے کیسز میرٹ پر چلیں تو ایک دن بھی جیل میں نہیں رہیں گے۔ اسی نشست میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بنی گالہ منتقلی پر پارٹی میں مشاورت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں منتقلی کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں، یہ حکومت کی صوابدید ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے اس وقت موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں ہیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ نومبر میں احتجاج سے متعلق کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ بانی نے تحریک کی ذمہ داری محمود اچکزئی کو دی ہے۔ ہم نے جلسوں کے ذریعے عوام کو متحرک کرنا ہے۔
اسد قیصر کے اس بیان کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف وہ بانی پی ٹی آئی کی بنی گالہ منتقلی پر رضامند نظر آتے ہیں تو دوسری طرف اس بات کی تردید بھی کر رہے ہیں کہ ان کے موجودہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے نہیں ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ رابطوں کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ ہو جائے جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھنے پر تیار نہ ہو۔ سمجھنے والے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ بیک ڈور چینلز سے رابطوں کے بغیر ایسی بیلیں منڈھے نہیں چڑھا کرتیں۔ وہ میرٹ پر کیسز کی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے