#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن(شاہد بخاری)قسط نمبر1

Untitled 13

محمد اقبال 15 مارچ 1945کو مشرقی پنجاب کے ضلع کرنال(انڈیا)میں پیدا ہوئے، اُن کی پیدائش کے حوالے سے پروفیسر حسن عسکری کاظمی نے اپنی ایک تحریر میں جو پیرائیہ اظہار اختیار کیا ہے وہ نذرِ قارئین ہے۔
”وہ 15 مارچ 1945کو مشرقی پنجاب کی مردم خیز زمین کرنال میں ایک ذی احترام استاد شیخ اللہ دیا کے ہاں اس وقت اپنی آمد کی خبر لے کر آئے جب ہر طرف گلاب کھلے ہوئے تھے شاخوں پر طائرانِ خوشنوا چہچہا رہے تھے، ہوا میں شراب کی سی خوشبو تیر رہی تھی“محمد اقبال کے والد شیخ اللہ دیا 1914 میں بھارت کے ایک گاؤں ٹھسکہ میراں جی میں پیدا ہوئے۔اس گاؤں کے حوالے سے ڈاکٹر اقبال کے چچا ماسٹر محمد یامین کا کہنا ھے کہ میرا گاؤں 12۔ نمبرداروں والا گاؤں تھا۔ مولوی رحیم بخش وزیرِ اعظم بہاولپور سٹیٹ اور ان کے بھتیجے جو ممبر اسمبلی اور ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئر مین بھی رہے، اسی گاؤں کے رہنے والے تھے اس گاؤں کی زیادہ تر آبادی مسلمانوں کی تھی چار پانچ گھر ہندوؤں اور بیس کے لگ بھگ چوڑھے چماروں کے تھے، یہ گاؤں تحصیل تھا نیسر سے بارہ کوس (15۔ میل) کی دوری پر تھا کہیں دور آنے جانے کے لئے تھانیسر سے ریل گاڑی یا بس ملتی تھی لوگ عام طور پر 20یا 30 میل کا سفر پیدل طے کر لیتے تھے، عورتیں اور بچے بھی پیدل چلتے کیونکہ اس زمانے میں جدید ذرائع آمدو رفت نہ تھے۔۔۔ میرا گاؤں مشہور اور بہاد ر قوم راجپوتوں کا تھا اس لئے ہندوؤں اور سکھوں کے حملے سے محفوظ رہا نیز ایک درویش میراں جی شاہ بیکھ کا مزار تھا، علاقے میں اس مزار کا بہت احترام کیا جاتا تھا اسی وجہ سے یہ علاقہ حملوں سے محفوظ رہا“
آگے چل کر وہ کرنال کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ”نواب زادہ لیاقت علی خان کرنال شہر کے رہنے والے تھے میرے ننھیال بھی کرنال شہر کے تھے، میں اکثر کرنال جاتا رہتا تھا،کرنال شہر ریلوے اسٹیشن سے تقریباً 3 یا 4 میل کے فاصلے پر تھا، آمدو رفت کا اہم ذریعہ تانگے تھے پختہ سڑک کے دونوں طرف نواب لیاقت علی خان کے باغات،کوٹھیاں، گھوڑوں کا اصطبل اور ملٹری کا اپنا رسالہ تھا۔ آپ انگریز حکومت میں وزیرِ خزانہ بھی رہے اور ایک سالانہ بجٹ میں قابلیت کا اعتراف غیر مسلموں سے بھی کرایا، ان کے بھائی نواب شمشاد علی اور ارشاد علی کرنال میں آنریری مجسٹریٹ تھے، ان کے دروازوں پر ہاتھی بندھے ہوتے تھے، دروازے پر ہاتھی بندھا ہونا نواب ہونے کی علامت تھی اور ہاتھی سواری کے کام بھی آتے تھے“
شیخ اللہ دیا بھی ٹھسکہ میراں جی میں پیدا ہوئے اور بعد میں کرنال چلے گئے جہاں ان کے ہاں محمد اقبال پیدا ہوئے،کرنال کے حوالے سے شیخ اللہ دیا لکھتے ہیں:
”میری ننھیال شہر کرنال میں تھی جو کہ نواب عمر دراز علی خان اور رستم علی خان کا شہر تھا، میرا تعلق بسلسلہ ملازمت نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب جو کہ ہندوستان میں مسلم لیگ کے سیکرٹری اور پاکستان بننے پر پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم بنے اور قائدِ اعظم کے دستِ راست تھے کی فیملی میں نواب زادہ سجاد علی خان و صداقت علی خان صاحب برادران جناب لیاقت علی خان اور جناب نواب زادہ شمشاد علی خان، اعجاز علی خان،جناب ارشاد علی خان (جو کہ نواب زادہ لیاقت علی خان کے کزن تھے) سے کئی سال رہا۔اگر میری اعلیٰ تعلیم ہوتی تو اللہ کے فضل سے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکتا تھا۔یہ دونوں تعلقات میرے ذہن پر مرتعش رہ گئے اور اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کا سبب بنے۔ اگر میری تعلیم مکمل ہوتی تو پاکستان میں بہترین سے بہترین جگہ اور مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا“
شیخ اللہ دیا مزید لکھتے ہیں کہ ان کے لئے اپنے نابینا بچوں کو تعلیم دلوانے کا ایک اور محرک بھی تھا:
”آپ کو خیال پیدا ہو گا کہ اور لوگ نابینا اولاد کی طرف اتنی توجہ نہیں دیتے تو میں نے ایسا کیوں کیا؟، پہلی تو یہ کہ مشیت ایزدی یہی تھی دوسری وجہ یہ ہوئی کہ میرے مہربان اور مربی جناب صوفی عبدالحمید خان صاحب (جوکہ میرے خسر صاحب کے شاگرد رشید تھے) پنجاب میں مسلم لیگ کے صدر بھی تھے اور دولتانہ وزارت میں سینئر منسٹر بھی تھے،میں ایک دن جب ان کے پاس لاہور میں ان کی کوٹھی میں بیٹھا ہوا تھا جناب صوفی صاحب نے خود بخود ہی فرمایا میں کیا کروں تمہاری تعلیم کم ہے کسی اعلیٰ عہدے پر نہیں لگوا سکتا،یہ سن کر مجھے ازحد صدمہ ہوا اور پختہ ارادہ کیا کہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلواؤں گا خواہ کچھ بھی ہو،اگر میری تعلیم پوری ہوتی تو میرے لئے اعلیٰ ملازمت کا حصول بہت ہی آسان تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ جب میرے خسر صاحب کے دوست پاکستان کی نامور ہستی جناب مولوی سر رحیم بخش کے سی ایس جو کہ ریاست بہاولپور کے وزیرِ اعظم اور گورنمنٹ برطانیہ کی طرف سے وہاں کے ریزیڈنٹ بھی تھے مرکزی اسمبلی بھارت کے ممبر اور بہت ہی معروف ہستی تھے ان کی وساطت سے ہمارے گاؤں کے پرائمری اور مڈل پاس لوگ ریاست بہاولپور میں تحصیل دار اور انسپکٹر پولیس لگے ہوئے تھے مولوی صاحب کا ریاست میں سکہ چلتا تھا لیکن میں اس وقت مڈل کلاس میں زیرِ تعلیم تھا اس وقت سے فائدہ نہ اٹھا سکا“
یوں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ شیخ اللہ دیا کا پس منظر بہت عمدہ تھا لیکن اعلیٰ تعلیم نہ تھی، یاد رہے کہ انکے خسر کا نام حافظ کما ل الدین تھا وہ ٹھسکہ میراں جی کی ایک جانی پہچانی شخصیت تھے اور ان کے علم کا فیض ہر عام و خاص کو حاصل تھا بہر کیف وہ اعلیٰ تعلیم خود حاصل نہ کر سکے اور صرف جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ مڈل ورنیکلر تک تعلیم حاصل کر سکے تھے لیکن ان کایہ خواب کہ چلیے وہ خود علم کی فیوز و برکات سے فیض یاب نہیں ہو سکے تو وہ اس خواہش کی تکمیل اپنی اولاد کے ذریعے کر لیں

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن(شاہد بخاری)قسط نمبر1

اس کا گناہ کیا تھا ؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے