اف یہ بے درد سیاہی یہ ہوا کے جھونکے
افکارِ تازہ
ڈاکٹر افتخارالحق
اف یہ بے درد سیاہی یہ ہوا کے جھونکے
کس کو معلوم ہے اس شب کی سحر ہو کہ نہ ہو
اک نظر تیرے دریچے کی طرف دیکھ تو لوں
ڈوبتی آنکھوں میں پھر تاب نظر ہو کہ نہ ہو
ساحر لدھیانوی کی شاہکار نظم “ خودکشی سے پہلے” کے یہ ابتدائی مصرعے اس وقت فوراً یادوں کی سکرین پر نمودار ہوجاتا ہے جب خودکشی کی صورت کسی زندگی کی انتہا کی خبر موصول ہوتی ہے ۔ اس نظم کے مفہوم کی شدت ایسے میں زیادہ محسوس ہوتی ہے جب کسی اہم شخصیت کی خود کشی کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے ۔پوری نظم پڑھ کر تو لگتا ہے جیسے ساحر نے اپنے تخیل کی سِحرکاری سے گویا خود کشی کرنے والی شخصیت کے ذہن کا سی ٹی سکین کر کے اس کی منظوم رپورٹ اس زمانے میں شائع کر دی جب صرف ایکس رے ہی بہت بڑی تشخیصی توپ کا درجہ رکھتا تھا ۔اعلیٰ معیار کے ہر شاعر کو یہی الہامی صلاحیت اسے عام افراد سے ممتاز کرتی ہے۔
یوں تو ہر انسانی جان یکساں طور پر محترم اور وقیع ہوتی ہے لیکن ایسی ہستیاں جن کے پاس وہ قلم دان ہوتے ہیں جن سے ہزاروں لوگوں کی تقدیریں منسلک ہوں ، ان کی خود کشی لامحالہ متعدد سوالات کو جنم دیتی ہے۔غیر طبعی موت کی ہر شکل بہت بھیانک ہوتی ہے اور خود کشی صرف بھیانک ہی نہیں ہوتی بلکہ زندہ انسانوں میں ایک ناخوشگوار تجسس بھی ابھارتی ہے ۔اردو شاعری میں شاید اسی ناخوشگوار بلکہ ہیبت ناک عنصر کے سبب یہ موضوع نہ کبھی مقبولیت پا سکا اور نہ اسے کسی شاعر نے اسے اپنی ترجیح بنایا ۔ ثروت حسین نے اگر یہ شعر لکھا بھی تو شاید اس وقت جب ان کا ذہن خودکشی کے لیے مکمل طور پر تیار ہو چکا تھا:
موت کے درندرے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کُشی کے بارے میں
ثروت حسین کے علاوہ شکیب جلالی اور مصطفےٰ زیدی اس تکلیف دہ موضوع کے کچھ اور نمایاں ناموں میں شامل ہیں ۔ تاہم اہلِ قلم کے ساتھ کچھ عرصے سے سول سرونٹس کی خود کشی کی خبروں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھنے سے بھی کئی سوالات عوام و خواص کے ذہنوں میں جنم لینے لگے ہیں ۔ ان سوالات کے کچھ جواب تو لوگ مفروضوں کی شکل میں دینے لگتے ہیں جب کہ کچھ اور حساس اذہان ایک طویل خاموشی کے دریا میں اتر جاتے ہیں ۔
اس سلسلے میں تازہ ترین سانحہ اسلام آباد میں ایس پی کے عہدے پر فائز ایک پولیس آفیسر عدیل اکبر کی خودکشی کی صورت سامنے آیا ۔ جمعرات 24 اکتوبر 2025 کو شام پانچ بجے یہ خبر صحافتی حلقوں میں تیزی سے گردش کرتی ہوئی مفروضوں، قیاس آرائیوں اور آرا کی ایک طویل زنجیر بناتی چلی گئی ۔ اب تک کی مصدقہ و غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مرحوم نے جمعرات 23 اکتوبر کی شام اپنے موبائل پر ایک کال سنی اور اس کے فوراً بعد اپنے گن مین سے پستول/ریوالور لے کر خود کو ہلاک کیا لیکن یہ انکشاف بھی اہم ہے کہ کچھ دن پہلے وہ دو بار کسی ماہرِ نفسیات سے ملاقات کر چکے تھے ۔ علاوہ ازیں دو دن پہلے پہلے کرونا اور پھر وہ ڈینگی کا شکار بھی ہوئے ۔اس کے علاوہ ان کی طرف سے دی گئی چھٹی کی درخواست بھی محکمے نے رد کر دی تھی ۔ سانحے کی تحقیقات ایک سہ رکنی کمیٹی کر رہی ہے ۔ یہ دلچسپ اتفاقی امر ہے کہ بظاہر خودکشی سے جُڑے محرکات اور ان کی تحقیق پر مامور افسران کی تعداد ایک ہی ہے یعنی تین ۔ دیکھیے تحقیقات میں پیش رفت کیا کیا انکشافات لاتی ہے اور ان انکشافات تک عوام کی کتنی رسائی ہوتی ہے۔ تاحال سب سے زیادہ چونکا دینے والی خبر یہ ہے کہ اس سانحے کے صرف دو عینی گواہ تھے اور دونوں کو ہی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
سب سے پہلے تو ہمیں خود کُشی جیسے ہولناک عمل کا نفسیاتی جائزہ لینا ہوگا۔ انسانی نفسیات کی غیرمرئی گرہیں نہایت پیچیدگی کے ساتھ دماغ کے ان نہاں خانوں میں کھلتی اور لگتی رہتی ہیں جو ذہن نامی نادیدہ حصے میں ہوتے ہیں ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ دماغ کو ہم ہارڈ ویر اور ذہن کو سافٹ ویر کہہ کر انسانی کھوپڑی میں مقفل اس عضوِ جسمانی پر بات کر سکتے ہیں ۔اب میڈیکل سائنس نے دماغ کے کئی افعال کیمیائی تعاملات کی صورت سمجھ تو لیے ہیں لیکن انسان کو اشرف المخلوقات بنانے والا یہ پراسرار عضو ابھی پوری طرح سمجھ نہیں آیا ہے ۔ نجانے کتنے ہی کیمیائی تعاملات / کیمیکل ری ایکشنز ہمارے نارمل فکری عمل کے لیے درکار ہوتے ہیں اور ان کیمیکل ری ایکشنز کی تعداد اور رفتار میں اس وقت جانے کتنا اضافہ ہو جاتا ہوگا جب انسان شدید ذہنی دباؤ کے تحت قتل یا خود کُشی جیسے انتہائی اقدام کے لیے خود کو آمادہ کر رہا ہوتا ہے ۔ پھر یہ بھی قابلِ غور نکتہ ہے کہ اس ذہنی آمادگی کے پس منظر کا دورانیہ کتنا طویل ہوتا ہے کیونکہ اگر اس طرح کے ری ایکشنز یک بیک ہوا کرتے تو شاید ایسے سانحات کا تناسب کہیں زیادہ ہوتا ۔ گویا بقول شاعر اس مفروضے کی صداقت کا بیانیہ کچھ یوں بنتا ہے:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
نفسیات پر میرے محدود مطالعے کے مطابق خودکشی کرنے والے رفتہ رفتہ سماجی علیحدگی / سوشل آئسولیشن یا انتہا درجے کی تنہائی کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں اور وہ خاص لمحہ جب وہ اس انتہا درجے کا قدم اٹھانے کو بالکل تیار ہوتے ہیں ، اگر کوئی صاحبِ دانش انھیں رفاقت کے وہ قیمتی ترین لمحات دے دے جن کی خود کشی پر مائل افراد کو ازل سے ضرورت رہی ہوتی ہے تو یہ لمحات اکسیر بلکہ تریاق کا کام کر سکتے ہیں اور اگر ایسا کرنے میں تاخیر ہوجائے تو :
پشیماں آئے ہیں وہ لاش پر اب
تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے
کی سی صورت پیدا ہونا ہی ناگزیر ہوتا ہے۔ قارئین کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہئیے






