اردو غزل کے عصری رویے۔۔۔۔۔
روبرو۔۔۔محمد نوید مرزا
ڈاکٹر نثار ترابی ایک ہمہ جہت شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب بیک وقت شاعر ،نقاد اور محقق کے روپ میں اپنی ادبی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ان علمی و ادبی سرگرمیوں بھر پور حصہ لینے کے علاؤہ وہ دوستوں سے دوستی نبھانے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب ایک پرخلوص اور محبت کرنے والی ایسی ہستی کا نام ہے جو دلوں کو تسخیر کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
ڈاکٹر نثار ترابی کی علمی و ادبی کارناموں سے ایک زمانہ واقف ہیں اور ادبی دنیا کے معتبر ترین نام انھیں بھر پور خراج تحسین پیش کر چکے ہیں۔آپ کی تنقید و تحقیق پر مشتمل کتب شائع ہو کر پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔جب کہ بطور شاعران کے اردو اور پنجابی کے کئی شعری مجموعے زیور طباعت سے آراستہ ہو کر شہرت حاصل کر چکے ہیں۔
پچھلے برس ڈاکٹر صاحب کی ایک اور عمدہ تحقیقی کاوش ،اردو غزل کے عصری رویے۔۔۔۔منظر عام پرآئی۔جو اردو غزل کی تاریخ اور تخلیقی انفرادیت کے حوالے سے کسی دستاویز سے کم نہیں۔غزل ہمارے اردو شعراء کو بہت محبوب ہے اور بعض اوقات ایک شعر پوری زندگی پر محیط ہو سکتا ہے،سو ڈاکٹر صاحب نے بھی غزل کے عشق میں مبتلا ہو کر اس کار دشوار میں آسانی سے ہاتھ ڈال دیا۔وہ خود لکھتے ہیں،،زیر بحث مقالے کا عنوان،چونکہ،اردو غزل کے عصری رویے،، 1947ء تا 1997ء ہے۔لہذا موضوع تحقیق کے تکمیلی مراحل کے دوران ہم اردو غزل کے جدید اور متنوع صورتوں میں ڈھل کر غزلیہ روپ اختیار کر جانے والے ان عصری رویوں کا کھوج لگائیں گے،جو قیام پاکستان کے آغاز اور بعد کے عہد میں تخلیق ہونے والی اردو غزل میں عصری سچی آواز کی طرح گونج رہے ہیں اور جن کی اثر پذیری کے نتیجے میں اردو غزل اپنے متعدد جدید حوالوں کے ساتھ ابلاغ،تعلیم ،مقبولیت اور وسعت کے کئی زاویے اجاگر کر رہی ہے،،
اس اہم تحقیق کا انتساب آسمان غزل کے سات ستاروں ولی دکنی،میر تقی میر ،مرزا اسد اللہ غالب،داغ دہلوی،علامہ محمد اقبال،فیض احمد فیض اور احمد فراز کے نام ہے۔یہ وہ عظیم لوگ ہیں جو میرے علاؤہ آپ کے بھی پسندیدہ ہوں گے۔ڈاکٹر صاحب نے دنیا سے جانے والے ان عظیم شعراء کے نام انتساب کر کے ادب میں ایک ایمانداری کا کام کیا ہے ورنہ وہ اگر چاہتے تو آج کے دور کی کسی بڑے عہدے پر فائز ادبی شخصیت کے نام سے کتاب منسوب کر کے وہ کئی فائدے حاصل کر سکتے تھے۔لیکن انھوں نے ایک سچے اور مستند تحقیق کار ہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے،جواپنے طور پر ایک اہم بات ہے۔
اردو غزل کے عصری رویے،میں کل آٹھ ابواب ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے مرحلہ وار اردو غزل کے ابتدائی دور سے لے کر 1857ء تک اور اس کے بعد کی غزل کا جائزہ لیا ہے۔انھوں نے پاکستان بننے کے بعد اور پھر آخری باب میں 1988ء تا 1997ء تک کی غزل کو سامنے رکھ کر شعری حوالوں اور شعراء کے تذکروں کے ساتھ اپنی تحقیق ہمارے سامنے رکھی ہے۔یقینی طور پراس کتاب کے اگلے حصے میں اگلے تیس برسوں کی تاریخ محفوظ ہو گی۔بقول ڈاکٹر محمد کامران،،ڈاکٹر نثار ترابی ایک ایسا آئینہ ساز ہے جس نے اردو غزل کی صدیوں پر پھیلی ہوئی روایت کے ساتھ ساتھ معاصر اردو غزل کے مزاج کو اپنی کتاب میں منعکس کیا ہے،،
اس میں تو کوئی شک نہیں کہ تخلیقی ،تنقیدی اور تحقیقی کام طویل ریاضت مانگتا ہے اور ڈاکٹر صاحب ایک ان تھک قلم کار ہیں۔
اس کتاب میں غزل کے ابتدائی اور ارتقائی دور کے علاؤہ اردو غزل اور اس سے منسلک موضوعات مثلاً جدید ادبی تحریکیں،غزل کے مختلف ادوار کے اجمالی جائزے،اہم رجحان ساز عصری رویوں کے تناظر میں ،غزل کے موضوعاتی اسلوبیاتی اور فنی رویے،حمد نعت اور سلام کی جدید غزلیہ روایت ،جدید غزل اور اس کی علامتی فضا اور ہجر اور ہجرت کا نیا منظر نامہ جیسے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ان مرکزی موضوعات کی مزید تفصیل کتاب میں الگ سے دستیاب ہے۔ڈاکٹر صاحب نے غزل کے مختلف رنگ بھی کتاب میں بیان کئے ہیں۔انھوں نے غزل کے مزدور دوست رویے،ظریفانہ رویے،صوفیانہ رنگ،حقیقت پسندانہ نسائی لہجے کا طہور،غزل میں مرگ پسندانہ کیفیت ،غزل میں داستانوی کردار،دد غزل کا رویہ ،غزل اور احساس باطنی اور شعراء کے ہاں غزل میں سفر ،گھر اور سحر کا استعارہ جیسے موضوعات کو بڑی عمدگی سے بیان کیا ہے۔یہ کتاب بڑی عرق ریزی اور ریاضت کے بعد وجود میں آئی ہے۔
۔ڈاکٹرصاحب اپنی اس تاریخی اور بے مثال کاوش کے بارے میں اختتامیہ کلمات میں لکھتے ہیں،،اردو غزل کے عصری رویوں کے اس عہد بہ عہد مطالعے اور شعری صنف کے طور پر غزل کے فن کے سلسلے میں تحقیقی مہم جوئی،سیکڑوں قابل ذکر شعراء کے غائر مطالعے ،معتبر ناقدین کی رائے اور ناقابل تردید تاریخی شواہد کی روشنی میں ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اردو شعری ادب میں غزل کا تعین صرف اور صرف اس کے عہد با عہد عصری رویوں کی اثر پذیری اور مقبولیت کی بنا پر ہی ممکن ہے ،اس لئے کہ فنی طور پر یہی صنف عصر اور روح عصر کو محفوظ کر لینے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہے اور بلاشبہ اس کی یہ فنی خوبی دوسری شعری اصناف کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔اسی سبب سے اس کا تخلیقی سرمایہ معیار اور مقدار کے اعتبار سے بھی خصوصی امتیاز کا حقدار ٹھہرتا ہے۔اپنے آغاز سے لمحہء موجود تک یہ واحد صنف ہے،جس کا تتبع سب سے زیادہ زیادہ کیا گیا اور اسی نے اردو کا بہترین شعری سرمایہ ایک صنف کی حیثیت سے محفوظ کیا،،
اردو غزل اور اس کے شعراء کو خراج تحسین پیش کرنے اور غزل کو ایک نمائندہ صنف سخن قرار دینے پر میں ڈاکٹر نثار ترابی کو سلام پیش کرتا ہوں اور اس تاریخی ادبی دستاویز کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں،ویل ڈن






