#کالم

زندگی بخش گھوڑا

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کوئی بھی چیز بےکار نہیں بنائی۔ ہر مخلوق ہر ذرّہ، ہر سانس سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دنیا ایک مکمل نظامِ فطرت ہے، جس میں ہر جاندار کسی نہ کسی صورت میں دوسرے کی بقا سے منسلک ہے۔ انسان اکثر اپنی عقل کے غرور میں قدرت کے اس حسین ربط کو نظر انداز کر دیتا ہے، مگر جب فطرت اپنے راز کھولتی ہے تو انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ کہیں ایک ننھی سی شہد کی مکھی پورے ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھتی ہے، تو کہیں ایک بظاہر عام سا گھوڑا انسانیت کے لیے زندگی کی علامت بن جاتا ہے۔

دنیا میں بے شمار زہریلے سانپ پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا زہر ایک لمحے میں انسان تو کیا، ہاتھی جیسے دیو ہیکل جانور کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ مگر قدرت کے کارخانے میں ایک ایسی مخلوق بھی ہے جو اس زہر کے سامنے ڈٹ جاتی ہے وہ ہے گھوڑا!

یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ چاہے دنیا کا سب سے زہریلا سانپ ہو یا خوفناک ترین کوبرا، گھوڑے کو مار نہیں سکتا۔ سانپ کے کاٹنے کے بعد گھوڑا چند دن کے لیے بیمار ضرور ہو جاتا ہے لیکن تین چار دن بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہ قدرت کا ایک ایسا معجزہ ہے جو انسانیت کے لیے زندگی کا پیغام بن گیا۔

یہی گھوڑا آج دنیا بھر میں ہزاروں انسانوں کی زندگی بچا رہا ہے۔
کیسے آئیے اس راز کو سمجھتے ہیں۔

بھارت کے شہر حیدرآباد میں واقع Vins Biotech Pvt. Ltd. جیسی کمپنیاں اس زندگی بخش کرشمے پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں گھوڑوں کی افزائش، پرورش اور نگہداشت نہایت سائنسی اور معیاری اصولوں پر کی جاتی ہے۔ ان مراکز میں مخصوص زہریلے سانپوں کا زہر جمع کیا جاتا ہے، جن میں کوبرا، کرائٹ رسل وائپر اور سا اسکیلڈ وائپر جیسے خطرناک سانپ شامل ہیں۔

پھر اس زہر کی نہایت معمولی مقدار گھوڑے کے جسم میں داخل کی جاتی ہے۔
گھوڑے کا مدافعتی نظام فوراً حرکت میں آتا ہے اور زہر کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتا ہے۔ چند دنوں میں اس کے خون میں وہ اینٹی باڈیز (antibodies) بن جاتی ہیں جو سانپ کے زہر کو بے اثر کر دیتی ہیں۔

اس کے بعد گھوڑے سے خون لیا جاتا ہے۔ اس خون سے سرخ خلیے الگ کر دیے جاتے ہیں اور باقی ماندہ سفید مائع جسے پلازما کہا جاتا ہے کو خاص سائنسی عمل سے گزار کر اینٹی وینم ویکسین تیار کی جاتی ہے۔

یہی ویکسین بعد میں سانپ کے کاٹے ہوئے مریضوں کو دی جاتی ہے، جو ان کی زندگی بچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔
یوں ایک جانور جو خود زہر سے نہیں مرتا انسان کو موت کے منہ سے نکال لیتا ہے۔

ہندوستان میں کئی ایسے مراکز قائم ہیں جہاں سینکڑوں گھوڑوں کی حفاظت، خوراک، علاج اور دیکھ بھال اعلیٰ سطح پر کی جاتی ہے، تاکہ انسانوں کو یہ زندگی بخش دوا فراہم کی جا سکے۔ ان گھوڑوں کے لیے صاف ستھرا ماحول، متوازن غذا، اور باقاعدہ ویٹرنری نگرانی کا انتظام کیا جاتا ہے۔ ہر گھوڑا دراصل ایک "زندہ لیبارٹری” ہوتا ہے جو انسانیت کے لیے اپنی قوت، خون اور زندگی نچھاور کر رہا ہے۔

یہ منظر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ قدرت کے نظام میں کچھ بھی فضول نہیں۔ ہر مخلوق اپنے دائرے میں انسانیت کی خدمت کر رہی ہے۔ گھوڑا جو وفاداری، طاقت اور شجاعت کی علامت ہے آج ایک نجات دہندہ کے روپ میں ہمارے سامنے ہے۔

یہ قدرت کا کرشمہ ہے کہ ایک جانور کے خون سے انسان کی جان بچائی جاتی ہے۔
یہ ماں دھرتی کی مہربانی ہے خالقِ کائنات کی صناعی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اپنے اندر رحمتِ الٰہی کا عکس رکھتا ہے۔

واقعی،
قدرت کا ہر رنگ
ربّ کی رحمت کا آئینہ ہے۔

زندگی بخش گھوڑا

سو لفظوں کی کہانی شادی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے