#اداریہ

کچے کے ڈاکووں کا سرینڈر ‘ سندھ حکومت کا احسن اقدام

Fahad 02 2

اج کا اداریہ

حکومت سندھ کا کامیاب امن مشن، سرنڈر پالیسی 2025 تقریب کا باضابطہ آغاز ہوگیا کچے کے علاقے کے 72 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کرلی۔سندھ کے شہر شکارپور میں 70 کے قریب مبینہ ڈاکوؤں نے سرینڈر کیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیالحسن لنجار نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا ماوارائے عدالت قتل نہیں ہوگا اور انھیں عدالتوں میں بے گناہی ثابت کرنا ہو گی۔
وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے سندھ پولیس کے افسران، جوانوں اور رینجرز کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا، انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ غلام نبی میمن، ڈپٹی انسپکٹر جنرلز (ڈی آئی جیز) لاڑکانہ، سکھر، متعلقہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پیز) اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام بھی تقریب میں موجود ہیں۔ڈاکوؤں کے سروں کی قیمت 6 کروڑ روپے سے زائد مقرر کی گئی تھی، شکارپور پولیس نے گڑھی تیغو سمیت متعدد کامیاب آپریشنز انجام دیے، کامیاب آپریشنز میں آپریشن کوٹ شاہو، جگن، کالہورو (مڈیجی)، بگارجی (سکھر) شامل ہیں۔
قبل ازیں وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کچے کے علاقے اور ساحلی پٹی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ڈاکووں کو افردی تھی کہ اگر ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں، تو قانون کو فالو کیا جائے۔
وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت کچہ ایریاز مانیٹرنگ کمیٹی کا ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہواتھا جس میں کچے کے علاقے کی صورتحال سمیت جاری اینٹی ڈکیت آپریشنز کی تفصیلات اور حکومتی حکمت عملی کو ذیر غور لایا گیا تھا
اجلاس کو اے آئی جی آپریشنز سندھ زبیر نذیر شیخ نے کچے کے علاقے میں امن وامان کی صورتحال اور آپریشنز کے حوالے سے دستیاب و درکار وسائل کی بابت بریفنگ دی تھی۔

بریفنگ دی گئی کہ ڈاکوؤں کے خلاف یقینی کامیابیوں کے لیے پولیس کو جدید آلات، ہتھیاروں اور محفوظ وہیکلز کی فی الفور ضرورت ہے، جبکہ کچے کے علاقے میں قائم چیک پوسٹس پر سہولیات کو مزید بہتر کرنا ہوگا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید ہتھیاروں، آلات کے علاوہ پولیس کو معیاری تربیت سے متعلق اقدامات بھی ضروری ہیں۔
اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ پولیس کو درکار وسائل کی فراہمی سے متعلق جامع اور قابل عمل اقدامات سے متعلق سفارشات جلد ارسال کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مرتب کردہ سفارشات پر قواعد و ضوابط کو مد نظر رکھ کر منظوری و توثیقی امور کو یقینی بنایا جائے گا، مزید کہنا تھا کہ حکومت سندھ ڈاکوؤں کے مکمل خاتمے جیسے اقدامات میں انتہائی سنجیدہ ہے
وزیر داخلہ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکو یا ان کے گروہ کا پرامن طور پر ہتھیار ڈالنا قواعد و ضوابط سے مشروط ہے، ہتھیار ڈالنا یا خود کو قانون کے حوالے کرنے سے متعلق قانون واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جس آپریشن کا آغاز کرچکے ہیں یہ بڑا آپریشن ہے اور اس میں پولیس سمیت تمام سیکیورٹی اداروں و ایجینسیز کا انفرادی و مشترکہ کردار واضح ہے
آپریشن بچل بھیو میں معروف ڈاکو شیرُو مہر ہلاک ہوا تھا، وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے سندھ پولیس کی کامیابیوں اور بہادری پر انہیں سلام تحسین پیش کیا اور شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
آپریشن بچل بھیو میں معروف ڈاکو شیرُو مہر ہلاک ہوا تھا، وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے سندھ پولیس کی کامیابیوں اور بہادری پر انہیں سلام تحسین پیش کیا اور شہید پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
تقریب میں رکن سندھ اسمبلی امتیاز احمد شیخ، شہریار مہر، عابد بھیو، گل محمد جکھرانی اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔
تقریب میں عسکری، رینجرز اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں، تقریب میں ڈی آئی جی لارکانہ، ڈی آئی جی سکھر، لاڑکانہ اور سکھر رینج کے تمام ایس ایس پیز بھی موجود رہے۔
بدنام زمانہ ڈاکو نثار سبزوئی کے خلاف مختلف تھانوں میں 82 مقدمات درج ہیں، اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی، لادو تیغانی پر 93 ایف آئی آرز، جبکہ سر کی قیمت 20 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔
سوکھیو تیغانی کے خلاف 49 مقدمات، حکومت کی جانب سے 60 لاکھ روپے انعام مقرر تھا، سونارو تیغانی کے خلاف 26 مقدمات، جب کہ سر کی قیمت 60 لاکھ روپے مقرر تھی۔
جمعو تیغانی کے خلاف 24 مقدمات درج تھے اور سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر تھی، ملن عرف واحد علی عرف واجو تیغانی کے خلاف 29 مقدمات درج ہیں، اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر ہے۔
گلزار بھورو تیغانی کے خلاف 14 مقدمات اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی، غلام حسین عرف نمو تیغانی کے سر کی قیمت 3 لاکھ روپے مقرر تھی۔
نور دین تیغانی کے خلاف مختلف تھانوں میں 6 مقدمات جب کہ اس کے سر کی قیمت 15 لاکھ روپے مقرر تھی۔
حکومت سندھ کی جانب سے کچے کے علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، ساتھ ہی ساتھ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کے بچوں کو ہنرمند بناکر ملازمتیں دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے
شکارپور میں بدھ کے روز منعقدہ ایک تقریب میں شکارپور اور کشمور میں سرگرم ڈاکوؤں نے سرینڈر کیا۔ صوبائی وزیر ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ سرینڈر کرنے کی پالیسی صدر آصف علی زرداری کا اقدام ہے۔
انھوں نے سکھر میں ایک اجلاس کیا تھا جس میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرکت کی تھی اس میں انھوں نے امن کی بحالی اور ڈاکوؤں کو سرینڈر کرنے کی پیشکش کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ جو ڈاکو سرینڈر کر رہے ہیں ان کی خاندانوں کو تحفظ حاصل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’کچے میں روڈ بنائں گے روزگار فراہم کیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ بینظیر کارڈ سے لوگوں کی مدد کی جاسکتی ہے اور ہر شہری امن کا خواہ ہے۔
اس تقریب میں پولیس اور سول انتظامیہ کے علاوہ رینجرز افسران اور مقامی سردار بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر نے کور کمانڈر کراچی کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی تعاون سے یہ ممکن ہوسکا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے خطاب میں کہا کہ ان دنوں چالیس سال پہلے والے صورتحال نہیں تھی لیکن شکارپور، سکھر

کچے کے ڈاکووں کا سرینڈر ‘ سندھ حکومت کا احسن اقدام

23/10/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے