ڈیورنڈ لائن پر دہکتی آگ
ڈیرے دار سہیل بشیر منج
ڈیورنڈ لائن کی سنگلاخ وادیاں ایک بار پھر لہو لہان ہو چکی ہیں جہاں دو برادر ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان بے اعتمادی کی ایک نئی لہر نے خونی جھڑپوں کا روپ دھار لیا ہے حالیہ کشیدگی محض سرحدی نوک جھونک نہیں بلکہ ایک گہرا زخم ہے جو دہائیوں پرانی تاریخی بد اعتمادی اور دہشت گردی کے خطرات کے مشترکہ چیلنج سے پھوٹا ہے جب گولہ باری کی گونج بلند ہوتی ہے تو سرحد کے دونوں اطراف کے دیہات میں رہنے والے بے گناہ شہریوں کے دل لرز اٹھتے ہیں وہ جن کے دکھ درد اور ثقافت یکساں ہیں مگر جن کی قسمت سیاسی اور نظریاتی تقسیم کی بھینٹ چڑھ رہی ہے ایک جانب اسلام آباد اپنی سرزمین پر حملوں کے لیے افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے تو دوسری جانب کابل اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور فضائی حملوں کا الزام عائد کرتا ہے یہ تناؤ صرف دو حکومتوں کا نہیں بلکہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کا بھی مقدر ہے جو اپنے وطن کی جانب دیکھنے کے منتظر ہیں ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی صرف ایک عارضی خاموشی نہ ہو بلکہ دونوں ممالک کے حکام تحمل تدبر اور برادرانہ تعلقات کی روشنی میں بیٹھ کر ایک پائیدار حل تلاش کریں تاکہ اس خطے میں دیرپا امن کی شمع روشن ہو سکے
ریاست پاکستان نے بارہا افغان حکومت کو کہا ہے کہ سرحد پار سے دہشت گردی کو روکیں لیکن
جب افغانستان دہشت گردی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے کے لیے کوئی ساتھ نہیں دے رہا تھا تو
افواج پاکستان کا جوابی اقدام ایک غیر معمولی شدت اور فیصلہ کن عزم کا آئینہ دار تھا جس نے سرحد پار سے ہونے والے بلا اشتعال حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جب سرحدوں پر ناپاک عزائم کے سائے منڈلائے تو پاکستان نے نہ صرف دفاع کے حق کو استعمال کیا بلکہ فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنی تمام تر فوجی صلاحیت بروئے کار لائی اس جوابی اقدام میں توپ خانے اور جدید ڈرون حملوں کی گونج سنائی دی جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے اور تربیتی کیمپ خاکستر کر دیے گئے اور دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا پاکستانی فورسز نے
افغانستان کی طرف موجود کلیدی چوکیوں پر بھی قبضہ جما کر یہ واضح کر دیا کہ ملکی خودمختاری کے دفاع میں کسی بھی جارحیت کو پوری طاقت اور شدت کے ساتھ کچل دیا جائے گا یہ ایک ایسا سخت جواب تھا جس نے نہ صرف حملوں کا سلسلہ روکا بلکہ خطے کے اس نازک موڑ پر اسلام آباد کا دوٹوک مؤقف بھی دنیا کے سامنے رکھ دیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے
ڈیورنڈ لائن کے پہاڑی سلسلوں پر چھائی حالیہ کشیدگی کی سیاہی میں اسلام آباد کی جانب سے یہ گہرا خدشہ بار بار ابھر رہا ہے کہ افغانستان اب صرف اندرونی شورش کا شکار نہیں رہا بلکہ پڑوسی ملک ہندوستان کی حمایت اور پشت پناہی سے ایک نئی چال چل رہا ہے پاکستان کا ماننا ہے کہ کابل کی نئی سرگرمیوں کے پیچھے ہندوستان کا وہ دیرینہ حربہ کارفرما ہے جو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ کے میدان کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب پاک افغان سرحد آگ و آہن کا منظر پیش کر رہی تھی تو افغانستان کے وزیرِ خارجہ کا ہندوستان کا دورہ اور وہاں سے جاری ہونے والے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اگرچہ ہندوستان خود کو افغانستان کا ایک بڑا ترقیاتی شراکت دار اور خیر خواہ قرار دیتا ہے مگر پاکستان اسے اپنی خودمختاری اور استحکام کے خلاف ایک گہری سازش سمجھتا ہے جس میں بھارت ایک ‘نیو نارمل’ کے تحت دہشت گردی کو فروغ دینے والے عناصر کو پناہ دینے کے افغان فیصلے کو ہوا دے رہا ہے یوں افغانستان اپنے تاریخی اتحادی سے دور ہوتے ہوئے ایک ایسی قوت کی آغوش میں جا رہا ہے جو اس خطے کے امن کو ایک نیا اور خطرناک رخ دے سکتی ہے اور یہ تعلقات کی نزاکت کو ایک غیر متوقع موڑ پر لے آیا ہے
ایک مکمل جنگ کی صورت میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان خونریزی کا نتیجہ اس پورے خطے کے لیے ایک بھیانک تباہی سے کم نہیں ہوگا یہ دو برادر ہمسایوں کی جھڑپ ہوگی جن کے صدیوں پرانے نسلی، مذہبی اور ثقافتی رشتے اس سیاسی آگ میں جھلس کر رہ جائیں گے اگر یہ تناؤ مکمل تصادم میں بدلتا ہے تو ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب انسانی المیہ جنم لے گا جہاں لاکھوں بے گناہ شہری مزید نقل مکانی پر مجبور ہوں گے معاشی شہ رگیں کٹ جائیں گی اور پہلے سے کمزور معیشتیں مفلوج ہو جائیں گی اس جنگ کی سب سے خطرناک شدت یہ ہو گی کہ یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دہشت گردی کے جن کو مزید مضبوط کرے گی اور اسے علاقائی سرحدوں سے باہر نکل کر عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ بنا دے گی یہ تباہ کن نتیجہ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ باہمی اعتماد، سفارتی تدبر اور خطے کے مجموعی استحکام کی شکست ہو گا جس کی قیمت آنے والی نسلوں کو بھی چکانی پڑے گی
اگر پاکستان برادرانہ تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغانستان کے لیے اپنی تمام زمینی راہیں یکسر مسدود کر دیتا ہے تو کابل کی قسمت ایک خوفناک معاشی تنگی اور قحط زدگی کی جانب مائل ہو جائے گی افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک ہے جس کا بیشتر انحصار اپنی ضروریاتِ زندگی تجارتی سامان اور عالمی امداد کی ترسیل کے لیے پاکستان کے بندرگاہی راستوں (خصوصاً کراچی اور گوادر) پر ہے راہداری کی اس بندش کا سب سے شدید نقصان خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیاء کی فراہمی پر پڑے گا جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا افغانستان کی سرد اور سنگلاخ زمینیں جہاں کھیتیاں پہلے ہی محدود ہیں اس راستے کے منقطع ہوتے ہی عالمی تجارت کے بڑے دھارے سے کٹ جائیں گی یوں یہ اقدام نہ صرف افغان معیشت






