کیا ڈیورنڈ لائن ایک فرضی لکیر ہے؟
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
دنیا کے بہت سے تنازعات کاغذ پر کھینچی گئی لکیروں سے شروع ہوتے ہیں۔
چاہے وہ مشرقِ وسطیٰ کی “سائکس پیکو” لائن ہو یا جنوبی ایشیا کی “ڈیورنڈ لائن”،
یہ لکیریں صرف نقشے پر نہیں، بلکہ قوموں کے ذہنوں اور رشتوں پر بھی گہری لکیریں چھوڑ جاتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ڈیورنڈ لائن واقعی ایک “فرضی لکیر” ہے یا ایک تاریخی حقیقت
جسے تسلیم کرنے سے انکار نے افغانستان کو دہائیوں کی بدامنی میں دھکیل دیا؟
افغانستان طویل عرصے سے یہ دعویٰ کرتا چلا آرہا ہے کہ اٹک تک کا علاقہ دراصل افغانستان کا حصہ ہے،
جو انہوں نے انگریزوں کو سو سال کے لیے لیز پر دیا تھا اور اب اس کی مدت پوری ہو چکی ہے۔
اس بنیاد پر وہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا، سابقہ قبائلی اضلاع اور بلوچستان پر دعویٰ کرتے ہیں۔
چونکہ افغانستان بزورِ طاقت یہ علاقے حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا،
اس نے ہمیشہ سازشوں اور پراکسی جنگوں کا راستہ اختیار کیا۔
قیامِ پاکستان سے آج تک افغان سرزمین سے چلنے والی شورشوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں
ایک لاکھ سے زائد پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
لیکن ان پراکسی جنگوں نے خود افغانستان کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا
اور آج وہ دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
افغانستان کے اس دعوے کی بنیاد تین باتوں پر ہے:
ڈیورنڈ لائن معاہدہ، ماضی کی حکومت، اور “لروبر یو افغان” کا نظریہ —
یعنی سب پشتون افغان ہیں۔
افغان مؤقف یہ ہے کہ ڈیورنڈ لائن معاہدہ انگریزوں نے افغان بادشاہ امیر عبدالرحمن سے زبردستی کرایا تھا،
وہ انگریزوں کے کٹھ پتلی تھے، اور یہ معاہدہ صرف سو سال کے لیے تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔
مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
یہ معاہدہ دراصل امیر عبدالرحمن خان کی اپنی درخواست پر ہوا،
جنہوں نے تاجِ برطانیہ کو اس سلسلے میں چار خطوط تحریر کیے۔
وجہ یہ تھی کہ افغانستان کی شمالی سرحدیں روس کے ساتھ تو متعین ہو چکی تھیں
مگر برطانوی ہند کے ساتھ سرحد غیر واضح تھی۔
امیر عبدالرحمن نے اپنی کتاب The Life of Abdur Rahman, Amir of Afghanistan میں فخر سے لکھا ہے
کہ اس نے ہندوستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کا تعین کیا۔
یہ معاہدہ سات شقوں پر مشتمل تھا جن میں نہ تو کسی مدت کا ذکر ہے، نہ لیز کا،
اور نہ ہی یہ کہا گیا کہ افغانستان کا کوئی علاقہ برطانیہ کو دیا گیا۔
بعد ازاں سرحدوں کے تعین کے لیے چار کمیشن قائم ہوئے
جنہوں نے 2200 کلومیٹر طویل سرحد کی نشاندہی کی۔
ان کمیشنوں میں افغان حکام اور قبائلی سردار بھی شامل تھے۔
اس معاہدے کے نتیجے میں افغانستان کو کنڑ سے بدخشاں تک کا علاقہ ملا
جو اس وقت “کافرستان” کہلاتا تھا اور آج “واخان کوریڈور” کے نام سے معروف ہے۔
1893 سے پہلے یہ علاقہ موجودہ پاکستان کا حصہ تھا۔
امیر عبدالرحمن نے بعد ازاں اس کا نام نورستان رکھا۔
اسی معاہدے کے تحت اسمار، موہمند اور لال پورہ کے علاقے بھی افغانستان کو ملے
مگر افغان مؤرخین ان فوائد کا ذکر کبھی نہیں کرتے۔
اس معاہدے پر امیر عبدالرحمن خان اور افغان عمائدین نے جشن منایا
اور سر مورٹیمر ڈیورنڈ کو تحائف اور سلامیاں پیش کیں۔
مزید یہ کہ یہ معاہدہ صرف امیر عبدالرحمن تک محدود نہیں رہا
بلکہ بعد کے افغان حکمرانوں نے بھی بارہا اس کی توثیق کی۔
1905ء میں بادشاہ حبیب اللہ خان نے “ڈین حبیب اللہ ایگریمنٹ” کے تحت
ڈیورنڈ لائن کو ایک مستقل سرحد کے طور پر تسلیم کیا۔
1919ء میں افغان وزیر داخلہ علی احمد خان نے راولپنڈی آ کر دوبارہ اس معاہدے کی توثیق کی۔
1921ء میں آزاد افغان حکومت نے “کابل ایگریمنٹ” کے ذریعے اسے ایک مرتبہ پھر تسلیم کیا
اور 1930ء میں بادشاہ نادر خان نے برطانوی حکومت کو یقین دہانی کرائی
کہ وہ تمام پرانے معاہدوں کی پاسداری کرے گا۔
اس طرح یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈیورنڈ معاہدہ کسی دباؤ یا وقتی لیز کے تحت نہیں
بلکہ افغانستان کی رضامندی سے ہوا اور بارہا اس کی توثیق کی گئی۔
ڈیورنڈ لائن کو امریکہ، برطانیہ اور تمام اسلامی ممالک ایک بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔
عالمی قانون کے تحت بھی افغانستان کا مؤقف بے بنیاد ہے۔
ویانا کنونشن کی شق نمبر 11 کے مطابق، ریاستوں کی تقسیم کے بعد بھی
بین الاقوامی سرحدوں پر ہونے والے معاہدے برقرار رہتے ہیں۔
لہٰذا ڈیورنڈ لائن قانونی طور پر ایک مستقل اور بین الاقوامی سرحد ہے
جسے کسی بھی ملک کے یکطرفہ دعوے سے منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔
افغانستان کا دوسرا مؤقف یہ ہے کہ وہ ان علاقوں پر ماضی میں حکومت کر چکا ہے
اور اس لیے ان پر حق رکھتا ہے۔
اگر افغان تاریخ پانچ ہزار سال پرانی بھی مان لی جائے
تو وہ صرف اکہتر سال یعنی 1747ء سے 1818ء تک ان علاقوں پر حکومت کر سکے،
وہ بھی احمد شاہ درانی کے دور میں جو دراصل پنجاب سے تعلق رکھتے تھے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ احمد شاہ درانی نے اپنی تصنیف میں افغانستان کا ذکر تک نہیں کیا۔
اگر درانی سلطنت ہی افغان دعوے کی بنیاد ہے تو پھر افغانستان کو کشمیر، دہلی، ملتان اور مشہد پر بھی دعویٰ کرنا چاہیے
کیونکہ ان سب پر احمد شاہ درانی کی حکومت رہی۔
اگر یہی اصول مان لیا جائے تو پھر بھارت اور ایران کو بھی افغانستان پر دعویٰ کرنے کا حق بنتا ہے
کیونکہ وہ صدیوں تک وہاں کے حکمران رہے ہیں۔
افغانستان کا تیسرا دعویٰ “لروبر یو افغان” کا نظریہ ہے
کہ پاکستان کے تمام پشتون افغان ہیں۔
لیکن خود افغانستان کے آئین کی شق نمبر چار کے مطابق
افغان شہریت رکھنے والی تمام قومیں افغان کہلاتی ہیں،
چاہے وہ پشتون، تاجک، ازبک یا ہزارہ ہوں۔
یعنی “افغان” کوئی نسل نہیں بلکہ ایک ملت ہے۔
لفظ افغان فارسی الاصل ہے جو قدیم ایرانیوں نے اس خطے کے باشندوں کے لیے استعمال کیا۔
پشتو زبان میں تو حرف “ف” ہی موجود نہیں تھا۔
لہٰذا یہ کہنا کہ صرف پشتون افغان ہیں، تاریخی طور پر غلط ہے۔
اسی جھوٹے نظریے نے “پشتونستان” کے






