بلدیاتی انتخابات، تعلیم کی شرط اور نوجوانوں کا کردار
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید عمران سلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک میں جمہوریت کی جڑیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب عوام کو نچلی سطح پر بھی نمائندگی اور فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہو اسی مقصد کے تحت بلدیاتی نظام کو دنیا بھر میں بنیادی جمہوریت کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے پاکستان میں بھی بلدیاتی نظام وقتاً فوقتاً نافذ کیا گیا لیکن بدقسمتی سے اس تسلسل کو سیاسی مفادات اور غیر سنجیدہ طرزِ حکمرانی نے کئی مرتبہ توڑ دیا اب ایک مرتبہ پھر ملک میں متوقع بلدیاتی انتخابات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اس بار ایک خوش آئند بحث یہ بھی ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کے لیے تعلیم کی شرط عائد کی جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعلیم واقعی ایک نمائندے کے لیے لازمی ہونی چاہیے اور اس شرط کا مجموعی سیاسی اور سماجی اثر کیا ہوگا؟
تعلیم کی شرط ضروری یا امتیازی؟
بظاہر یہ شرط قابلِ تحسین لگتی ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ نمائندہ نہ صرف مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے بلکہ ان کا پائیدار حل بھی پیش کر سکتا ہے خواندگی نہ ہونے کی وجہ سے کئی نمائندے نہ تو ترقیاتی منصوبے پڑھ سکتے ہیں نہ ہی انہیں مؤثر انداز میں پیش کر سکتے ہیں تاہم تعلیم کی شرط کے ناقدین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا صرف ڈگری ہونا عقل دیانت، وژن اور خلوص کی ضمانت ہے؟ کیا یہ شرط دیہی علاقوں کے ان سینکڑوں باصلاحیت مگر رسمی تعلیم سے محروم افراد کو نمائندگی سے محروم نہیں کر دے گی؟
اس لیے بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ تعلیم کی شرط کے ساتھ تربیت کارکردگی اور دیانت کو بھی معیار بنایا جائے صرف ڈگری پر زور دینا، بغیر کسی عملی تربیت اور ذمہ داری کے نظام میں ایک اور خلا پیدا کر سکتا ہے
نوجوانوں کا کردار تبدیلی کے اصل معمار
بلدیاتی انتخابات میں سب سے اہم کردار نوجوانوں کا ہے پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن اس طبقے کی اکثریت سیاسی عمل سے یا تو مایوس ہے یا دور ہے اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان ووٹرز امیدوار اور مبصر کے طور پر اس عمل میں بھرپور حصہ لیں
نوجوان نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سماجی رابطوں اور مسائل کی سمجھ رکھتے ہیں بلکہ ان کے اندر جذبہ وژن اور وقت بھی موجود ہے وہ مقامی سطح پر تعلیم صحت صفائی روزگار اور ماحولیات جیسے مسائل کے حل میں نہایت فعال کردار ادا کر سکتے ہیں
ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی ادارے سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی نوجوانوں کی تربیت، رہنمائی اور شمولیت کو یقینی بنائیں ووٹ دینا کافی نہیں، بلکہ آگے بڑھ کر نظام کا حصہ بننا ہوگا
بلدیاتی انتخابات محض اختیارات کی تقسیم نہیں بلکہ جمہوریت کی روح کا احیاء ہیں تعلیم کی شرط اگر متوازن انداز میں عائد کی جائے تو یہ ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے تاہم اصل طاقت عوام کے شعور اور نوجوانوں کی شمولیت میں ہے اگر نوجوان آگے بڑھیں، سیاسی عمل میں شامل ہوں اور اہل، ایماندار نمائندے منتخب کریں تو ایک مضبوط، شفاف اور عوامی بلدیاتی نظام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے






