پاک_ افغان دوحہ مذاکرات کامیاب
اج کا اداریہ
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا واحد تعمیری حل یہ ہے کہ کابل دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے مکمل طور پر روکے۔
واضح رہے کہ دفترِ خارجہ کے مطابق افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران دوحہ میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد کے کابل کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ قطری حکام کی میزبانی میں ھونے والی اس بیٹھک میں پاکستان نے ٹی ٹی پی کی دھشت کارروائیوں بارے ایک بر پھر افغان وفد کو تفصیلات سے أگاہ کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ افغان وفد کی سربراہی عبوری وزیر دفاع ملا یعقوب نے کی، افغان وفد میں طالبان کے انٹیلی جنس چیف مولوی عبدالحق بھی شریک ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اپنے خدشات و شکایات سامنے رکھیں، پاکستان نے مؤقف اپنایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، گل بہادر گروپ افغانستان سے کارروائیاں کرتے ہیں، جنگجوؤں کے افغانستان سے آنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
مزید مؤقف اپنایا گیا کہ پاکستانی شہریوں کو افغانستان سے بھتے کی کالز آتی ہیں، جس پر افغانستان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شکایت پر ان عناصر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات قطر کے انٹیلی جنس چیف کی میزبانی میں کیے جارہے ہیں، جس میں پاکستان، دراندازی کے یک نکاتی ایجنڈے پر بات کررہا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے یہ مسئلہ سفارتی ذرائع اور فوج کے افغانستان کے ساتھ روابط کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تاہم اب تک یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ایک تیسرے ملک کو شامل کیا گیا تاکہ افغانستان کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اسے دوحہ معاہدے پر عمل کرنا ہوگا، جس کے تحت وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی شخص یا گروہ کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک تیسرے ملک کے ذریعے بات چیت جاری ہے، دوحہ معاہدے کے مطابق آگے بڑھنے کا واحد مثبت راستہ یہی ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو ان تمام عناصر کے لیے ممنوع قرار دے جو اسے دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کا جواب وہاں موجود دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر دے گا، تو طلال چوہدری نے جواب دیا کہ حالات بہتر کیوں نہیں ہوتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان (افغان) میں عزم اور نیت کی کمی ہے، خوارج کو وہیں تربیت اور سرپرستی دی جاتی ہے، اس کے بعد وہ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب افغانستان بھارت سے ہاتھ ملا رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کو بھارتی علاقہ تسلیم کر رہا ہے، ہم پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ ‘یہ بھارت کے ایجنٹ ہیں’، اور اب انہوں نے خود اسے ثابت کر دیا ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ
پراکسی فورسز کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم اور اپنی عوام اور سرحدوں کے دفاع کے لیے جو بھی ضروری ہوگا، وہ کرے گا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے، تو پھر یہ دہشت گرد افغانستان سے کیوں آتے ہیں؟ یہ بیان انہوں نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے حالیہ تبصرے کے جواب میں دیا، جنہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کسی ملک کا اندرونی معاملہ ہے۔
طلال چوہدری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان کے کیمپوں اور ٹھکانوں کی نشاندہی کر لی اور یہ بھی کہ وہ کس راستے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، ہم نے ان معلومات پر مبنی کئی ڈوزیئرز انہیں بھجوائے ہیں، مگر اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام سے اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ 12 اکتوبر کو افغانستان کی جانب سے حملے کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں 23 پاکستانی فوجی شہید ہوئے جبکہ 200 طالبان اور خوارج مارے گئے تھے۔
گزشتہ ہفتے منگل کو دوبارہ جھڑپیں ہوئیں، جب افغان طالبان اور ’فتنۃ الخوارج‘ نے کرم بارڈر پر پاکستانی فورسز پر فائرنگ کی، اس کے بعد بدھ کو پاکستان نے افغانستان کے صوبہ قندھار اور کابل میں ٹارگٹڈ فضائی حملے کیے۔
دفترِ خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ حالیہ سرحدی جھڑپوں کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹوں کے لیے ایک عارضی جنگ بندی طے پا گئی ہے، جو جمعہ شام 6 بجے ختم ہونا تھی، بعد ازاں جمعہ کو ایک سینئر سفارتی ذریعے کے مطابق جنگ بندی میں توسیع کر دی گئی۔
اسی روز پاکستان نے دوبارہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، ان حملوں کی اطلاعات انگور اڈہ کے علاقے اور افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ارگون اور برمل اضلاع سے موصول ہوئیں، جہاں کالعدم حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر کارروائیاں کی گئیں۔
جنگ بندی کے دوران افغان سرزمین سے آپریٹ کرنے والے خارجیوں نے پاکستان علاقوں میں گھسنے اور متعدد دہشت گردانہ حملوں کی کوششیں کیں، تاہم سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں ان کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
عطااللہ تارڑ کے مطابق گل بہادر گروپ کے خارجی عناصر نے شمالی وزیرستان میں ایک گاڑی پر بھی آئی ای ڈی حملہ کیا، جس میں کئی شہری اور ایک فوجی شہید، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے لکھا کہ گل بہادر گروپ کے خلاف گزشتہ شب ٹارگٹڈ کارروائیوں میں تصدیق شدہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق کم از کم 60 سے 70 خارجی اور ان کی قیادت جہنم واصل کی گئی۔
دو برادر اسلامی ممالک کے مٹھی بھر چند عناصر کے مابین تعلقات خراب سے خراب تر ہورھے ہیں اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ پاکستان کو خودکارروائی کرناپڑی۔
اب سب کی نظریں دوحہ مذاکرات پر تھیں 13گھنٹےتک بات چیت جاری رہی
پاکستان اور طالبان رجیم کے درمیان 48 گھنٹے کی جنگ بندی کو مستقل بنانے کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔
چار سال کی سفارتی کوششوں، احتجاجات اور مذاکرات کے بعد طالبان نے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کو روکنے کا وعدہ کیا ہے۔
معاہدے کے تحت مشترکہ سرحدی دفتر قائم ہوگا، سرحدی کشیدگی ختم ہوگی اور تجارتی و عوامی آمد و رفت کے لیے امن کاریڈور بنے گا۔
یہ معاہدہ دو سال کے لیے قابلِ عمل ہوگا اور قطر کی نگرانی میں نافذ ہوگا، جبکہ چین اور ایران ضامن ممالک ہیں۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے: امن کی قیمت دہشت گردی کی ہرزہ سرائی سے بالا ہے






