#کالم

شہیدِ وطن: حکیم محمد سعیدؒ

WIthout face

(تحریر: عامر سعید خان)

﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾
(الاحزاب: 23)

ترجمہ: مؤمنوں میں کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے گئے عہد کو سچ کر دکھایا، ان میں سے کچھ نے اپنی نذر پوری کر دی (یعنی شہادت کا درجہ پایا) اور کچھ انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

یہ آیتِ کریمہ گویا حکیم محمد سعید شہیدؒ کی زندگی کی آئینہ دار ہے۔ وہ سچے مسلمان، محسنِ انسانیت، عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ملتِ اسلامیہ کے دردمند خادم تھے۔

ایثار و خدمت کی زندگی

حکیم صاحب نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ قوم و ملت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ ذاتی مفاد سے بے نیاز ہو کر وہ ہمیشہ اجتماعی اور قومی مفاد کو مقدم رکھتے۔ وہ نہ صرف ایک ماہر طبیب بلکہ ایک سچے درویش اور صاحبِ دل انسان تھے۔ ان کی مجلس میں آنے والا ہر شخص ان کے حسنِ اخلاق اور شفقتِ بے مثال کا گرویدہ ہو جاتا۔

وہ مریضوں کا علاج ہمیشہ وضو اور اکثر روزے کی حالت میں کرتے اور کہتے: "شفا دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے، طبیب محض وسیلہ ہے۔” لاکھوں مریضوں کا وہ بلا معاوضہ علاج کرتے اور ان کے زخموں پر مرہم رکھتے۔ ان کی زندگی اقبالؔ کے اس شعر کی عملی تفسیر تھی:

؎ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارہ

طب مشرقی کی تجدید و فروغ

حکیم صاحب نے طبِ مشرقی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جو خدمات سرانجام دیں وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ دواسازی میں معیار و جدت قائم کی، حکماء کو ضابطوں کا پابند بنایا اور یہ ثابت کیا کہ مشرقی طب محض ماضی کی یادگار نہیں بلکہ آج بھی انسانیت کی شفاء کا مؤثر ذریعہ ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ طبِ مشرقی، ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں تاکہ انسانیت کو سستا اور آسان علاج میسر آ سکے۔

نونہالانِ وطن سے محبت

بچوں سے محبت حکیم صاحب کی زندگی کا ایک درخشاں پہلو تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہی ننھے چراغ کل قوم کا سرمایہ اور ملت کے معمار ہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے 1953ء میں رسالہ ہمدرد نونہال جاری کیا جو آج بھی بچوں کی فکری و اخلاقی تربیت کا ذریعہ ہے۔

1964ء سے اپنی شہادت تک وہ ’’جاگو جگاؤ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے، جس کے ذریعے بچوں میں مطالعہ کا ذوق، خدمتِ خلق اور حب الوطنی کے جذبات بیدار کرتے۔ نونہال ادب کے تحت سینکڑوں کتب شائع کی گئیں، جن میں دینی، سائنسی، تاریخی اور اخلاقی موضوعات شامل ہیں۔

وہ اقبال کے اس پیغام پر کامل یقین رکھتے تھے کہ:

؎ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

اسی لیے وہ نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت پر زور دیتے تاکہ پاکستان کو کمزور اور مایوس نسل کے بجائے بااخلاق، باہمت اور محبِ وطن جوان میسر آ سکیں۔

نوجوانوں کی سیرت سازی

انہوں نے بزم ہمدرد نونہال اور بعد ازاں ہمدرد نونہال اسمبلی قائم کی تاکہ بچوں میں قیادت کا شعور پیدا ہو، اور وہ خدمتِ انسانیت اور تعمیرِ وطن کے راستے پر گامزن رہیں۔ اسی طرح آوازِ اخلاق کے عنوان سے تنظیم اور رسالہ جاری کیا، جس کے ذریعے نوجوانوں میں اعلیٰ اقدار، دینی شعور اور حب الوطنی کے جذبات پیدا کیے۔

ان کا یقین تھا کہ اگر نوجوانوں کی تربیت اقبالؔ کے خواب اور قائداعظم کے افکار کے مطابق ہو جائے تو معاشرے میں ایک حقیقی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

ایک ہمہ گیر شخصیت

حکیم محمد سعیدؒ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ طبیب بھی تھے، محقق بھی؛ ادیب بھی تھے اور مصلح بھی؛ محبِ وطن بھی تھے اور شہیدِ ملت بھی۔ ان کی زندگی خدمتِ خلق، ایثار، علم دوستی اور حب الوطنی کا حسین امتزاج تھی۔

ان کی شہادت نے یہ ثابت کیا کہ وہ حق و صداقت کے علمبردار اور اپنے عہد کے مردِ مجاہد تھے۔ بلاشبہ وہ ان مردانِ خدا میں شامل ہیں جن کے بارے میں قرآن نے فرمایا:

﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾
(آل عمران: 169)

ترجمہ: جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں۔

شہیدِ وطن: حکیم محمد سعیدؒ

پاک افغان جھڑپوں میں وقفہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے