#کالم

پہچان کا جادو : جب انسان خود کو جان لیتا ہے

انجینئر بخت سید یوسفزئی

تحریر، انجینئر بخت سید یوسفزئی، قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

چاند دراصل انسان کے وجود کا وہ آئینہ ہے جس میں وہ اپنی حقیقت دیکھتا ہے۔ اکثر لوگ ساری زندگی دوسروں کی نظروں میں اپنی شناخت تلاش کرتے رہتے ہیں، مگر اصل پہچان تب بنتی ہے جب انسان خود کو جاننے لگتا ہے۔ دنیا میں بے شمار چہرے ہیں، مگر پہچان صرف ان کی ہوتی ہے جو اپنی قابلیت سے نمایاں ہوتے ہیں، جو اپنے سائے سے آگے نکلنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

انسان کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ وہ دوسروں سے بہتر ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کل کے اپنے آپ سے بہتر ہے یا نہیں۔ اگر انسان اپنی کمزوریوں کو پہچان لے اور انہیں اپنی طاقت میں بدل دے تو وہ دنیا کا رخ بدل سکتا ہے۔ پہچان صرف نام یا چہرے کی نہیں ہوتی، بلکہ کردار، اخلاق اور علم کی بھی ہوتی ہے۔

ہم اکثر دوسروں سے اپنی پہچان منوانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بھول جاتے ہیں کہ پہچان منوائی نہیں جاتی، بنائی جاتی ہے۔ یہ ایک مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وہ لوگ جو خود پر یقین رکھتے ہیں، ان کے قدموں تلے دنیا بدلنے لگتی ہے۔ خود اعتمادی ہی وہ چابی ہے جو کامیابی کے دروازے کھولتی ہے۔

قابلیت انسان کے اندر سوئی ہوئی رہتی ہے، مگر ضرورت صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ وہ اسے جگائے۔ جیسے بیج زمین میں چھپا ہوتا ہے لیکن جب اسے پانی، دھوپ اور محنت ملتی ہے تو وہ تناور درخت بن جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کی پوشیدہ صلاحیتیں بھی موقع اور محنت مانگتی ہیں۔

پہچان تب بنتی ہے جب انسان خود کو دوسروں کے تابع نہیں، بلکہ اصولوں کے تابع کر لیتا ہے۔ جو لوگ زمانے کے طعنے برداشت کر کے اپنے راستے پر چلتے ہیں، وہی تاریخ کے صفحات میں امر ہو جاتے ہیں۔ ان کے نام وقت کی گرد میں مٹتے نہیں، بلکہ روشن رہتے ہیں۔

زندگی میں سب سے مشکل کام خود کو پہچاننا ہے۔ دوسروں کی خامیاں دیکھنا آسان ہے، مگر اپنے اندر جھانکنا ہمت مانگتا ہے۔ جب انسان اپنے اندر کا سفر شروع کرتا ہے، تو وہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اصل مقابلہ دوسروں سے نہیں، اپنے آپ سے ہے۔

اکثر لوگ اپنے خوابوں کو دوسروں کے خوف میں دفن کر دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "لوگ کیا کہیں گے؟” لیکن جنہوں نے دنیا بدلی، انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے، بلکہ یہ سوچا کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔ یہی سوچ پہچان بناتی ہے۔

پہچان کسی عہدے یا دولت کی مرہونِ منت نہیں۔ اصل پہچان وہ ہے جو آپ کے اخلاق، کردار اور کام سے جھلکے۔ بڑے لوگ اپنی کامیابی سے نہیں، بلکہ اپنے رویے سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کو عزت دیتے ہیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔

ہم میں سے ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت چھپی ہوتی ہے۔ کوئی لکھنے میں ماہر ہوتا ہے، کوئی بولنے میں، کوئی خدمت کرنے میں۔ مگر بدقسمتی سے ہم اپنی صلاحیتوں کا اندازہ تب لگاتے ہیں جب وقت گزر جاتا ہے۔ وقت سے پہلے خود کو پہچان لینا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

پہچان کا مطلب یہ نہیں کہ سب آپ کو جانیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ خود کو پہچانیں۔ جب انسان خود سے مخلص ہوتا ہے تو دنیا بھی اس کی سچائی کو تسلیم کرتی ہے۔

دنیا میں ہر شخص ایک الگ تخلیق ہے۔ کوئی بھی انسان دوسرے جیسا نہیں۔ اسی انفرادیت کو پہچاننا اور نکھارنا ہی اصل کمال ہے۔ جو لوگ اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہیں، وہی اپنی مثال چھوڑ جاتے ہیں۔

انسان کی اصل پہچان اس کا رویہ ہوتا ہے، اس کی نیت ہوتی ہے۔ اگر نیت خالص ہو تو راستے خود بن جاتے ہیں۔ نیک نیت انسان کا سفر اگر سست بھی ہو، تب بھی وہ منزل تک ضرور پہنچتا ہے۔

پہچان کا سفر کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس میں ناکامیاں بھی آتی ہیں، تنقید بھی۔ مگر یہی وہ مراحل ہوتے ہیں جو انسان کو مضبوط بناتے ہیں۔ کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو گر کر بھی اٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

ایک وقت آتا ہے جب انسان کو سمجھ آتی ہے کہ پہچان حاصل کرنے کے لیے شور مچانے کی ضرورت نہیں، خاموش محنت ہی سب کچھ کہہ دیتی ہے۔ دنیا خود پہچان لیتی ہے کہ یہ شخص عام نہیں۔

پہچان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک انسان دوسروں کے لیے فائدہ مند نہ بن جائے۔ وہ پہچان جو صرف خود کے لیے ہو، عارضی ہوتی ہے، مگر جو دوسروں کے دلوں میں جگہ بنائے، وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

زندگی کا حسن اسی میں ہے کہ انسان اپنی پہچان خود تخلیق کرے، نہ کہ کسی اور کے سائے میں۔ جو دوسروں کے سائے میں جیتے ہیں، وہ کبھی اپنے وجود کی روشنی محسوس نہیں کر پاتے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔”
(سورۃ الرعد: 11)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ تبدیلی باہر سے نہیں آتی، بلکہ اندر سے شروع ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے اندر تبدیلی پیدا کرتا ہے، تو دنیا اس کے لیے بدلنے لگتی ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔”
(حدیث: جامع المعانی)

یہ فرمان انسان کو یاد دلاتا ہے کہ خود شناسی دراصل ایمان کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب انسان خود کو پہچان لیتا ہے تو وہ اپنی حقیقت، اپنے مقصد اور اپنے رب سے قربت حاصل کر لیتا ہے۔

پہچان کی راہ پر چلنے والا انسان کبھی تنہا نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ساتھ یقین، صبر اور رب کی مدد ہوتی ہے۔ وہ گر کر بھی مسکراتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر امتحان میں ایک پیغام ہے۔

آخرکار، پہچان ایک سفر ہے، منزل نہیں۔ یہ سفر انسان کو ہر روز کچھ نیا سکھاتا ہے، کچھ نیا دکھاتا ہے۔ جو اس سفر پر ثابت قدم رہتے ہیں، وہی اپنی کہانی خود لکھتے

پہچان کا جادو : جب انسان خود کو جان لیتا ہے

16/10/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے