#کالم

پسنی کی پستی

ناصر نقوی

جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
ذمہ دارانہ صحافت ریاستی ہی نہیں، معاشرتی ترقی کا باعث بھی ہوتی ہے لیکن موجودہ دور جدیدیت، اے ۔ آ ئی اور سوشل بریگیڈ کا ہے با اعتماد پرنٹ میڈیا کو الیکٹرانک میڈیا کا ٫٫مگر مچھ،، کھا گیا اس سے وابستہ قلم مزدور اکثر بے روزگار کر دیے گئے اور باقی جو بچے ہیں وہ چھپکلی کی طرح گردن میں پھنسے ہوئے ہیں کوئی نہیں جانتا کہ ان کا کل کیسا ہوگا؟ تاھم میڈیا نہ صرف ٫٫بے پر ،،کی اڑانے میں مصروف ہے بلکہ خبریں خواہشوں، قیاس آ رائیوں اور بے بنیاد حقائق پر مبنی ہوتی ہیں دلچسپ بات یہ ہے یہی انداز نیشنل ہی نہیں انٹرنیشنل بن چکا ہے، پاکستانی صحافیوں کو شکوہ ہے کہ انہیں وہ آ زادی حاصل نہیں، جو ہمسایہ ملک بھارت میں حاصل ہے، میرے خیال میں یہ ان لوگوں کا تاثر ہے جو خود کبھی بھارت نہیں گئے لیکن سنی سنائی یا باتوں پر تاثر مضبوط ہے حالانکہ بھارتی صحافیوں کی زبان اور بیان بھی اپنی حکومتی پالیسی کی طرح ٫٫دو رنگی،، ہوتی ہے یہ حقیقت اور غلط فہمی ٫٫معرکہ حق،، مئی 2025 نے٫٫ بے نقاب،، کر دیا جب بھارتی میڈیا پر فیک نیوز کا طوفان برپا ہوا ،بڑے بڑے ذمہ دار اصول پسند صحافی بھی اپنے جذبہ حب الوطنی میں حکومتی فریب میں آ گئے اور انہوں نے کراچی ہی نہیں، لاہور کی بندرگاہ پر بھی بھارتی فوج کا قبضہ کرا دیا ،بوکھلاہٹ میں ان کے زمین پر پاؤں نہیں لگے، تکبر، غرور ،بڑی فوج اور بڑے ملک نے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی لیکن جب صبح آ نکھ کھلی تو سب خواب ہی نہیں٫٫ سراب،،٫ ثابت ہوا آ ج تک ان کی جگہ ھنسائی ہو رہی ہے لیکن گودی میڈیا شرمندہ ہونے کی بجائے الٹے سیدھے دلائل سے قوم کو مطمئن کرنے کی سر توڑ کوشش میں مگن ہے پھر بھی لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں، جب حقائق سے نظریں چرائی جائیں گی اور مفروضوں پر صرف٫٫ بریکنگ نیوز،، کی سبقت لینے میں پہل کی جائے گی تو نتائج کبھی بھی مثبت نہیں نکلیں گے، صحافت اور صحافی کی پہلی ذمہ داری حقائق کی جانچ پڑتال اور تصدیق ہے پھر بھی اس بنیادی اصول سے منحرف ہونا٫٫ الیکٹرانک میڈیا اور بریکنگ نیوز،، کا حسین تحفہ ہے، ایسا تحفہ جس کی توشہ خانہ کی طرح پکڑ دھکڑ بھی نہیں ہوتی٫٫ لمحہ موجود،، میں سیانے صحافی اپنی گردن کھال کو بچانے کے لیے ذرائع کا استعمال کرتے ہیں ایسے ذرائع جن کا انہیں خود علم نہیں ہوتا، موجودہ اتحادی حکومتی دور میں پاکستان بین الاقوامی اعتماد کے محاذ پر بہترین انداز میں آ گے بڑھ رہا ہے معاشی بحالی اور سرمایہ کاری کے میدان میں بھی پیش رفت دکھائی دے رہی ہے جبکہ عوامی سطح پر ریلیف فوری ممکن نہیں تاہم ٫٫دیر آ ئید درست آ ئید،،کہ مصداق میں موجود ہے وطن عزیز گزشتہ چند سالوں میں ایک سے زیادہ بحرا نوں میں مبتلا ہوا، آ واز خاص بلند ہوئی کہ ملک ڈیفالٹ ہو جائے گا، حکمرانوں کو بنگلہ دیش کی طرح بھاگنے کا بھی موقع نہیں ملے گا، بھارت خانہ جنگی اور افراتفری کی صورتحال میں حملہ کر کے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا وغیرہ وغیرہ لیکن وقت بڑا ظالم ہے اس نے ایسا جواب دیا کہ دشمنوں کے منہ ہی بند نہیں ہوئے بلکہ اج دنیا پاکستان کو نہ صرف ذمہ دار، باوقار ملک تسلیم کر رہی ہے اور افواج پاکستان و حکومتی منصوبہ بندی کے تحت بھارت اور مودی ذلیل و رسوا ہو کر خاک چاٹنے پر مجبور ہو چکے ہیں، گیدر بھبکیاں پھر بھی جاری ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے ٫٫سرپرائز،، کی توقعات بھی ہے لیکن پاکستان نے ازلی دشمن کو پیغام دے دیا ہے کہ ہم٫٫ امن پسند،، ضرور ہیں پھر بھی سرپرائز پر ہمارے٫٫ فتح۔ فور کروز میزائل،، کا ٹارگٹ دہلی ہوگا وزیر دفاع خواجہ آ صف نے بھارتی چیف کے بیان پر رد عمل میں کہہ دیا کہ پچھلی مرتبہ جو لحاظ کیا گیا وہ اس بار ممکن نہیں ہوگا، پاکستان فضائیہ طیاروں کے ملبے میں بھارت کو دفن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، غلطی کی گنجائش نہیں، غلطی جس نے بھی کی جنگ خوفناک ہوگی
بات٫٫ پسنی،، کی کرنی ہے لیکن آ غاز گفتگو کا مطلب صرف اتنا ہے کہ پاکستان اس وقت ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کر کے اپنی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ایسی درست سمت پر چل پڑا ہے کہ اب اس کے خلاف مزید افواہوں اور فیک نیوز کا سیلاب سوچی سمجھی سازش سے برپا کیا جائے گا لہذا ہر محب وطن پاکستانی آ نکھیں اور کان کھلے رکھ کر اپنا اپنا مثبت کردار ادا کرے، پسنی بلوچستان کا ساحلی علاقہ ہے ایک غیر ملکی اخبار نے شرلی چھوڑی کہ پاکستان کے ذمہ داروں نے پستی میں امریکہ کی سہولت کاری کے لیے تجارتی ٹرمینل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے بلوچستان سے نکلنے والی قیمتی معدنیات کی پہلی کھیپ امریکہ بھیج دی گئی ہے، ہمارے نادان دوستوں، حکومت مخالفین اور سوشل میڈیا کے سرخیلوں نے ترجمہ کیا کہ پاکستان نے پسنی کو امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا اب امریکہ وہاں فوجی اڈا بنائے گا اس شور شرابے پر متعلقہ غیر ملکی اخبار نے دوسرے روز احساس کر لیا کہ شاید خبر میں مصالحہ تیز ہو گیا لہذا وضاحت بھی کر دی کہ ذرائع سرکاری نہیں، نجی ہے پھر بھی واویلا کم نہ ہوا، پاکستان امریکہ سے معدنیات کے حوالے سے معاہدہ کر چکا ہے اسی مد میں پاکستانیوں کی اپنی جدوجہد اور کوشش سے جو معدنیات نکالی گئی، ان کے نمونے امریکہ کو اعلانیہ دیے گئے ہیں تاکہ مستقبل کی تجارت کے لیے اس معدنیات کے خام مال اور ریفائن مال کی حقیقی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے ،دنیا بھر میں نہ صرف معدنیات کی تجارت کی جاتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے تجارتی زون یا ٹرمینل بھی بنائے جاتے ہیں تاکہ انہی علاقوں میں٫٫ ریفائنرز،، لگا کر ٹرمینل کے ذریعے در آ مدات میں آ سانیاں پیدا کی جا سکیں، پسنی بلوچستان کا ایسا ہی ساحلی علاقہ ہے جہاں کی آ بادی متوسط طبقے کی نہیں بلکہ غریب ہے تاہم

پسنی کی پستی

11/10/2025 Daily Sarzameen Lahore

پسنی کی پستی

ستھرا پنجاب کہانی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے