#کالم

فلسطین اسرائیل جنگ بندی ،مستقبل کے خدشات

SAFDAR ALI KHAN 1 1

تحریر۔۔۔صفدر علی خاں

جنگ جب رُکتی ہے تو صرف توپوں کی آوازیں نہیں تھمتیں، بلکہ ایک نئے امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔ امن کے معاہدے اکثر کاغذ پر جتنے مضبوط دکھائی دیتے ہیں، حقیقت میں ان کی بنیادیں اتنی ہی کمزور ہوتی ہیں۔ یہی خدشہ اس تازہ فلسطین اسرائیل جنگ بندی کے حوالے سے بھی موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،پاکستان ،سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کی کوششوں سے جو ابتدائی امن معاہدہ طے پایا ہے، وہ یقیناً امید کا پیغام ہے، مگر اس کے ساتھ کئی ایسے خطرات اور چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں جو کسی بھی وقت اس امید کو مایوسی میں بدل سکتے ہیں۔سب سے بڑا چیلنج باہمی اعتماد کا فقدان ہے کیونکہ اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کے درمیان کئی دہائیوں پر پھیلا عدم اعتماد ایک رات میں ختم نہیں ہوسکتا۔ دونوں فریق ایک دوسرے کی نیت پر شک کرتے ہیں اور کرتے رہینگے ۔ ماضی میں بھی بارہا ایسے معاہدے ہوئے جو چند دن یا چند ہفتوں سے زیادہ برقرار نہ رہ سکے۔ اس لیے اس مرتبہ بھی خطرہ یہی ہے کہ کوئی ایک فریق اگر معمولی خلاف ورزی کرے تو پوری عمارت زمین بوس ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی حالات بھی اس معاہدے کے لیے ایک مستقل خطرہ ہیں۔ بعض اسرائیلی حلقے جنگ بندی کو کمزوری سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فوجی دباؤ برقرار رکھا جائے تاکہ فلسطینیوں کو مکمل طور پر مفلوج رکھا جا سکے۔ دوسری طرف فلسطینی قیادت کو اپنے عوام کے غم و غصے کا سامنا ہے، جنہوں نے اتنی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے لیے جنگ بندی کو ایک فتح کے طور پر پیش کرنا آسان نہیں۔ اگر عوامی سطح پر مایوسی بڑھی تو خود فلسطینی قیادت کے لیے بھی یہ امن عمل برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ایک اور اہم پہلو حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان تعلقات کا ہے۔ دونوں کے درمیان اختلافات پرانے ہیں۔ اگر غزہ اور مغربی کنارے کی حکومتیں ایک مشترکہ پالیسی پر متفق نہ ہو سکیں تو اسرائیل اس تقسیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی خدشہ ہے کہ اگر معاہدے کے تحت اسرائیل نے غزہ کے کچھ حصوں پر فوجی نگرانی یا سرحدی کنٹرول برقرار رکھا تو فلسطینی عوام اسے ناقابلِ قبول سمجھیں گے۔

ان تمام داخلی مسائل کے ساتھ ساتھ بیرونی عناصر بھی اس امن کے راستے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ایران، حزب اللہ اور دیگر گروہ جو اسرائیل مخالف بیانیے کو اپنی سیاست کا محور بنائے ہوئے ہیں، وہ اس معاہدے کو دھوکا قرار دے سکتے ہیں۔ کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی، میزائل حملے یا سرحدی جھڑپ سے پورا عمل دوبارہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے بھی اسی نوعیت کے خطرات موجود ہیں، کیونکہ وہ اکثر اپنی خفیہ کارروائیوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔امن کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ معاشی تباہی اور انتظامی خلا ہے۔ غزہ کی تباہ حال معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو بحال کرنے کے لیے عرب ممالک کی سرمایہ کاری تو ممکن ہے، مگر اس کے لیے ایک مستحکم انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔ اگر فلسطینی قیادت آپسی اختلافات میں الجھی رہی تو یہ امداد مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہو پائے گی۔ یوں تعمیر نو کے بجائے بدعنوانی، گروہی مفادات اور سیاسی کھینچا تانی شروع ہو جائے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس جنگ بندی کا ایک حساس پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی دباؤ اور مغربی اثر کہاں تک قبول کیا جائے گا۔ امریکہ اور یورپی ممالک اپنے سیاسی مفادات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ اگر معاہدے کی شرائط میں کسی ایک فریق کے حق میں جھکاؤ نظر آیا، تو عرب دنیا کے عوامی جذبات بھڑک اٹھیں گے۔ حکومتیں خواہ کتنی ہی محتاط سفارت کاری کریں، مگر عوام کے اندر موجود فلسطینی ہمدردی کا لاوا اگر پھٹ پڑا تو خطے میں سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک جو اس امن کوشش میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، ان کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہے۔ اگر معاہدہ کامیاب ہوا تو یہ ان کے لیے ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہوگی، لیکن اگر امن عمل ناکام ہوا تو تنقید کا رخ انہی ممالک کی طرف ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے، کسی بھی غلط تاثر سے اس کی سفارتی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے لہذا دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ بندی صرف وقفہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ اگر یہ ذمہ داری سنجیدگی سے نبھائی گئی، تو یہی پہلا مرحلہ آنے والے مستقل امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ معاہدہ صرف سیاسی نمائش یا وقتی سفارتی کامیابی کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ بھی ماضی کی ناکام کوششوں کی طرح تاریخ کے صفحات میں گم ہو جائے گا۔اب یہ وقت ہی بتائے گا کہ دنیا نے اس خونریز جنگ سے کیا سیکھا۔ کیا طاقتور ممالک اپنی پالیسیوں میں انسانی ہمدردی کو جگہ دیں گے؟ کیا مسلم دنیا متحد رہ کر اپنے مشترکہ مؤقف کو برقرار رکھ سکے گی؟ اور سب سے بڑھ کر، کیا فلسطین کے معصوم بچے ایک پُرامن مستقبل دیکھ سکیں گے؟چنانچہ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے دنوں میں طے ہوں گے۔ فی الحال دنیا سانس روکے اس انتظار میں ہے کہ یہ نیا امن معاہدہ ایک نیا دھوکہ بنے گا یا تاریخ کا وہ موڑ جہاں انسانیت بالآخر سرخرو ہو گی۔

فلسطین اسرائیل جنگ بندی ،مستقبل کے خدشات

عزم و عمل کی مثال – محترمہ

خدا ہی ملا نہ وصال صنم

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے