"منظر پاکستان کے”از مُحمّد آصف مرزا
( شاہد بخاری)
پہلے پاکستانی اسپرانتو دان ، علامہ مُضطر عباسی کی بدولت معروف شاعر و ادیب محمد آصف مرزا (جو بعد میں بانی مدیر” دستک مری "ھوئے)سے مُتعارف ھوا ۔ اس بار مری جانا ھوا تو انہوں نے حسبِ معمول جو تحفہ دیا اس میں قابل دید مقامات کی تصاویر سے آراستہ کتاب "منظر پاکستان کے” بھی شامل تھی،جس کے بیک ٹائٹل پر مِدحت آصف نے لکھا ھے کہ
” پاکستان ، قدیم ملک بھی ھے اور جدید بھی ، قدیم اِتنا کہ چار ھزار سال پہلے کی انسانی تہذیب کا گہوارہ ھے اور جدید اتنا کہ 77 برس قبل1947ء میں دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ھوا ، جو بحیرہ عرب کے ساحل پر جنوبی ایشیاء میں واقع ھے۔ اس کے مغرب میں ایران و افغانستان اور مشرق و
جنوب مشرق میں بھارت ھے اور اس کا شمالی علاقہ گلگت ، بلتستان اور چین کے ساتھ ملا ھوا ھے( راقم نے 64ء میں جب میٹرک کیا تب اسکی کتاب میں،چین کی جگہ افغانستان لکھا ھوا تھا)روس کو پاکستان سے افغانستان کی ایک تنگ پٹی،واخان ملاتی ھے ۔ K-2
بلند ترین مقام اور کراچی سب سے نیچا مقام ھے جو ساحل سمندر سے ملا ھوا ہے”
زیر نظر کتاب کے 35 مضامین سے پاکستان کے دو اِنتہائی دُور دراز گوشوں ، یعنی خنجراب سے تفتان ، 2700 کلومیٹر کے درمیانی قابل دید مقامات سے قارئین گھر بیٹھے ، اس طرح لطف اندوز ھو سکتے ھیں گویا مضمون نگاروں کی انگلی تھامے ، ان کے ساتھ ساتھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رھے ھوں۔
منیر عباسی نے کھیوڑہ کی کان نمک کی بھی سیر کرائی ھے ، اس ضمن میں ننھے سے ریلوے سٹیشن کا تو ذکر کر دیا جہاں سے بجلی سے چلنے والی چند ڈبوں کی ریل سیّاحوں کو کان نمک کے عجو بے کے اندر تک لے جاتی اور گھما پھرا کر واپس لے آتی ھے ، لیکن اس اصل ریلوے سٹیشن کا ذکر نہیں کیا جو انگریز بناکر ہمیں دے گیا تھا، جس کی ریلوں کے ذریعے میٹھا پانی اور اشیائے ضرورت ،سستے داموں اس علاقے والوں کو مل جاتی تھیں اور ٹرکوں وغیرہ کے مقابلے میں بہت ھی کم کرائے سے نمک منڈیوں میں پہنچ جاتا تھا ۔ اگر سٹیشن پھر سے بحال کر دیا جائے تو سستے ذریعے سے غریب بھی وھاں آ اور جا سکتے ھیں،جس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔
مُجھ کو ارزانی رھے ، تجھ کو مبارک ھو جئیو
نالۂ بُلبُل کا درد اور خندۂ گُل کا نمک
عمار آصف نے پاکستان کے باغات اور پارک " کی سیر میں اسلام آباد ، راولپنڈی ،
بہاولپور ، کراچی ، پشاور ، ملتان اور مری کے قابلِ دید مقامات کے ناموں سے آگاہ کیا ھے، تاکہ قارئین کا جس شہر میں جانا ھو ، وھاں کے پارکس اور باغات کی سیر کر سکیں۔
سیاحتِ پاکستان کے "مخفی گوشے” میں حماد ناصر نے بہت سے ان غیر مشہور مقاماتِ سیاحت کے بارے میں بھی ضروری اور مفید معلومات فراہم کر دی ھیں ۔ اِن علاقوں میں سیاحتی پوٹینشل بہت ھے لیکن آمدو رفت کے معقول ذرائع نہ ھونے کے سبب سیّاح نہیں ھیں ۔
سِبّی سے ھرنائی تک کا ریلوے سفر پُراسرار کتھا ہے ۔ تارڑ صاحب نے شمشال بے مثال لکھ کر اس علاقے کو زندہ جاوید کر دیا ھے۔
سڑک کے بننے کی وجہ سے ایک حد تک سفر آسان ہو گیا ھے ۔
گلگت چترال روڈ ، عالمی شہرت یافتہ ہے ، اس روڈ پر سیّاح بہت کم جاتے ہیں ۔ اس سڑک پر پھنڈر ، گوپس اور یسین کی لائق دید وادیاں ھیں ۔پولو نے شندور کو زندہ رکھا ھوا ھے۔
فورٹ منرو ، سیّاحتی نقطۂ نظر سے وہ اہمیت حاصل نہ کر سکا،جس اہمیت کا وہ حامل ھے ۔ یاد رھے کہ مظفر گڑھ اور ملتان سے جنوبی پنجاب کا یہ وہ ہِل سٹیشن ھے ، جو مری کے مقابلے میں بہت ھی سستا بے ۔
لہڑی نیچر پارک ، جی۔ٹی۔ روڈ ، جہلم سے کچھ فاصلے پر ایک خوبصورت علاقہ بے جہاں جنگلی جانور بھی ہیں اور پہاڑی حُسن بھی ۔ کمی صرف رہائشی سہولیات کی ھے ، جسے صرف ملک ریاض ھی دور کر سکتے ہیں ۔
” پاکستان کی بلند ترین چوٹیاں” کے ضمن میں زین العابدین نے لکھا ھے کہ پاکستان میں بلند پہاڑوں کے یہ سلسلے پائے جاتے ھیں – 1.سلسلہ ہائےقراقرم 2 ہمالیہ
3 – ہندوکش ۔ یہ تینوں سِلسِلے مشرق سے مغرب تک پھیلے ہُوئے ہیں ۔ پاکستان کو چین ، افغانستان ، اور روس سے علیحدہ کرتے ھیں ۔ اِن پہاڑوں میں سردیوں میں درجۂ حرارت 50 ڈگری تک نُقطۂ اِنجماد سے نیچے گِر جاتا ھے ۔ یہاں 7 ہزار میٹر سے بلند سیکڑوں چوٹیاں ہیں اور 20 چوٹیاں 75 سو میٹر سے زیادہ بلند ہیں ۔ دُنیا کے 14 بلند ترین پہاڑوں میں 5 پہاڑ پاکستان میں ہیں ، جِن کی بُلندی 8 ہزار میٹر سے زیادہ بے ۔ پہاڑوں میں جتنے گلیشئیرز ھیں ،شاید ہی دنیا میں کہیں اور ہوں ۔ حسن صد پارہ نے دُنیا کی نمبر 1 بلند ترین چوٹی ایورسٹ کو بغیر اوکسیجن ماسک کے سر کیا ۔
خنجراب نیشنل پارک کی مختصر تاریخ بلوم سٹائین نے انگریزی میں لکھی ، جس کا ترجمہ خواجہ ہمدان حامد نے خوش اسلوبی سے کیا ھے ۔ یہ پارک پاکستان کا دوسرا بڑا پارک ہے ۔ جبکہ سب بڑا پارک دیوسائی ضلع سکردو میں بے ، جو 3 ہزار مربع کلومیٹر میں پھیلا ہُوا بے ۔
وادئ برغل کے بارے میں ظہیر الدین نے لکھا بے کہ برف پوش چوٹیوں ، مُنجمِد درّوں ، دِلکش جھیلوں ، اور لہلہاتی چراگاہوں سے مزیّن اس وادی میں بہتری لانے کے بہت سے مواقع ہیں ۔ ترقیاتی کاموں کی راہ میں بنیادی رکاوٹ سڑکوں کے جال کی عدم موجودگی بے ۔
شاہراہِ قراقرم / پاک چین شاھراہ دوستی کے بارےمیں طاہر ایوب نے لکھا ھے کہ 3 مئی 1962ء کو پاکستان اور چین کے درمیان معاہدے میں یہ طے پایا کہ ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے ، کوہ قراقرم کے دشوار گزار راستے کو پھر سے بحال کیا جائے ۔ یہ شاہراہ ہُنزہ سے درّہ خنجراب (پاک چین بارڈر)تک 110 کلو میٹر تک ھے ۔ خنجراب سے کاشغر تک روڈ کی طوالت 13سو





