#کالم

مریم نواز کا چیلنج

ناصر نقوی

جمع تفریق ۔۔۔ناصر نقوی
پاکستان کا بڑا صوبہ پنجاب، بڑے وسائل، بڑے مسائل ،یہی نہیں سر پر بڑے بھائی کی ذمہ داری، چھوٹے کچھ کریں، نہ کریں، ان کی بڑے بھائی سے توقعات ہمیشہ زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ وہی باپ کا حقیقی ولی عہد سمجھا جاتا ہے جب مشرقی پاکستان بھارتی اور عالمی سازشوں سے بنگلہ دیش نہیں بنا تھا اس وقت بھی عاقبت نااندیشوں کی جانب سے الزام لگایا جاتا تھا کہ بڑے بھائی مغربی پاکستان نے ملک کے تمام وسائل پر قبضہ کر کے چھوٹے بھائی مشرقی پاکستان کا سب کچھ کھا لیا، اس غیر ذمہ دارانہ رویوں سے دشمنوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے سازش کی اور ملک دو لخت ہو گیا لیکن ذمہ داروں نے اس المناک واقعے سے بھی کچھ نہیں سیکھا٫٫ لمحے موجود،، میں بھی یہی نعرہ موجود کہ پنجاب بڑا بھائی اقتدار اور وسائل دونوں پر قابض ہے 18.ویں ترمیم سے برسوں بعد 1973 کے آ ئین کے مطابق صوبوں کو پہلے سے کہیں زیادہ خود مختاری حاصل ہے تمام صوبوں کو قانونی حدود میں رہتے ہوئے فنڈز بھی ملتے ہیں اور منتخب نمائندے بھی ہر سطح پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے بلا تفریق حق استحقاق حاصل کرتے ہیں پھر بھی جب پنجاب میں ترقیاتی اور خوشحالی کے کاموں پر توجہ دی جاتی ہے ملک بھر میں شور و غوغا مچ جاتا ہے، بڑا بھائی پنجاب سر تسلیم خم کر کے اپنی ہر ذمہ داری بھی ادا کرتا ہے ، اچھے برے وقت میں مشاورت و معاونت بھی اور تنقید کے ساتھ گالیاں بھی اس کا مقدر بنتا ہے اس وقت پنجاب میں مریم نواز وزیراعلی، سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے ساتھ عظمی بخاری بطور وزیر اطلاعات موجود ہیں تینوں خواتین سیاسی اور حکومتی میدان میں ٫٫چوکے چھکے،، اس انداز میں مار رہی ہیں کہ مخالفین کے ٫٫چھکے چھوٹ ،،گئے ہیں تحریک انصاف تو اپنے کئے کی سزاؤں اور مقدموں میں الجھی ہوئی ہے لیکن سب اچھا نہیں ،کیونکہ حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی حیثیت ڈھونڈنے کی تلاش میں ابھی تک ناکام ہے البتہ جنوبی پنجاب میں مخدوم احمد محمود سابق گورنر پنجاب اور سابق وزیراعظم و چیئرمین سینٹ یوسف رضاگیلانی نے مورچہ سنبھال کر اپنی پارٹی کو مثبت نتائج دئیے ہیں، اب جہانگیر ترین کی سرپرستی بھی مستقبل میں رنگ دکھائے گی، اسی لیے مریم نواز رفتہ رفتہ اپنی کامیابی اور عوامی فلاحی منصوبوں کی بنیاد پر وقت کے ساتھ جارحانہ ہوتی جا رہی ہیں، انہوں نے صاف گوئی سے یہ بات کہہ دی ہے کہ پنجاب حکومت صوبے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں جانتی ہے اور کسی بھی بحران میں بڑے بھائی کی حیثیت سے دوسرے صوبوں ہی نہیں، وفاق کی بھی مدد کرنے کو تیار ہے بطور وزیراعلی مجھ پر جو چاہے تنقید کرے لیکن پنجاب کا نام لے کر کسی نے انگلی اٹھائی تو ہم اسے توڑنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہم بین الاصوبائی ہم آ ھنگی کے علمبردار ہیں، مضبوط رابطے مسائل کے حل کے راستے نکالتے ہیں ہم سب وفاق کی اکائی ہیں ،سب کو اپنے وسائل میں رہتے ہوئے ایسے کاموں پر توجہ دینی چاہیے جن سے عوامی مفادات حل ہوں، صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مستحکم ہوگا، مریم نواز کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ازلی دشمنی میں بھارتی آ بی دہشت گردی نے ہم کو بدترین سیلابی صورتحال کا سامنا دکھایا لیکن چیخ و پکار کی بجائے اپنے وسائل سے ان پر قابو پایا، پنجاب کا کوئی وزیر میدان عمل سے باہر نہیں رہا ،اس لیے کہ میں خدا کے فضل سے خود اپنی ٹیم کے ہمراہ متاثرین تک پہنچی ،میری تصاویر اور دوروں کا تمسخر اڑانے کی کوشش بھی کی گئی، مجھے کسی کی پرواہ اس لیے نہیں کہ جو خود کچھ نہیں کرتے وہی تنقید کے سہارے اپنی نالائقی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے، پنجاب میں سیلابی بحران پر ریکارڈ کام کیا گیا اور اب متاثرین کی بحالی کے لیے بھی شب و روز کام جاری ہے، وزیراعلی کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ کوئی پنجاب کی فکر نہ کرے، ہمیں مشوروں کی ضرورت نہیں ،پنجاب ہم خود سنبھالیں گے۔۔۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ باعزت شخص عالمی امداد کی اپیل کی تجویز دے رہا ہے اور اس پر مجھے افسوس ہوا۔۔۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے محاذ سنبھال رکھا ہے وہ پیپلز پارٹی سے خاصی واقف ہیں، میدان سیاست میں بھی ان کی٫٫ معرکہ آ رائی ،،کسی سے کم نہیں، ہر بات کا جواب دینا اور پنجاب حکومت کا دفاع ان کی وزارت کی ذمہ داری ہے ،اس لیے گورنر پنجاب، ندیم افضل چن، شرجیل میمن اور حسن مرتضی کی سیاسی گولہ باری سے نمٹنا بھی انہی کا کام ہے کبھی کبھار غلط٫٫ شاٹ،، بھی کھیل جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر وہ سب کو آ ڑے ہاتھوں لیتی ہیں، شرجیل میمن نے الزام لگایا کہ پنجاب کی نا تجربہ کاری سے زیادہ نقصان ہوا اور عظمی بخاری نے آ ئینہ دکھایا کہ کاش۔۔ آ پ سندھ کی فکر کرتے، پیپلز پارٹی نے سندھ اور کراچی کو زمانہ قدیم کے کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے ندیم افضل چن بولے، عظمی بخاری نے دھمکی دی ہے کہ جھوٹی خبر اور پروپیگنڈاہ کے لیے٫٫ پیکا ایکٹ ،،موجود ہے ندیم افضل چن نے اس کا بھی جواب دیا لیکن عظمی بخاری کہتی ہیں ندیم افضل چن ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، یہ اپنی جھوٹی خبر ھتک عزت بل کے تحت ثابت نہیں کر سکیں گے، تیسری٫٫ شارٹ ،، عظمی بخاری نے تحریک انصاف کے منہ پر ماری کہ پشاور کے لاکھوں کے اجتماع میں شرکاء کی گنتی ہر ذی شعور میڈیا، سوشل میڈیا کی موجودگی میں خود کر سکتا ہے یہ اس قدر کا کامیاب اور عظیم الشان اجتماع تھا کہ پارٹی کو فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بنانی پڑ گئی، وزیراعلی پارٹی میں تقسیم اور جوتیوں میں دال بٹنے پر خود جوتیاں دیکھنے پر مجبور ہو گئے ،بانی سے شکایتیں لگانے گئے تو اپنی چھترول کرا کے واپس آ گئے لیکن حقیقی سیاسی کارکن اور پیپلز پارٹی

مریم نواز کا چیلنج

بیوروکریٹس کی اقسام

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے