کس کے گھر جائے گا یہ سیلاب بلا میرے بعد
منشاقاضی حسب منشا
الللہ تعالیٰ نے یہ کائنات جس میں ہم بس رہے ہیں اسے توازن پر قائم کیا ہے ۔ فطرت کی خلاف ورزی کا رد عمل بڑا شدید ہوتا ہے ۔اگر آپ اس چھوٹی کائنات میں کبھی جھانک کر دیکھیں اور محسوس کریں کہ میری ذات میں کہاں کس عنصر کی زیادتی ہے تو پوری کائنات کا پتہ چل جائے گا کہ ہم نے اس دنیا کا توازن کہاں کہاں سے غیر متوازن کر دیا ہے ۔جنگل اس زمین کا زیور اور انسانی زندگی کا لازمی جزو اور بجز اس کے ہماری زندگی دور دور تک صحرا ہی صحرا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی کائنات کا توازن بگاڑنے میں ہم نے کوئی کسر باقی اٹھا نہیں رکھی ہوئی ۔ آلودگی ہماری پیدا کردہ ہے ۔ اس وقت جس فلسفہ ء حیات کو میں لے کر بیٹھ گیا اس کی اس وقت ضرورت نہیں ہے ۔۔ اس وقت ضرورت ہے سیلابی ریلوں اور دریائی پھپھری ہوئی لہروں سے الجھی ہوئی انسانی جانوں کو بچانے والوں کی جو کڑے وقت سے لڑنے کا جس سلیقے اور قرینے سے ہنر جانتے اس کے عقب میں ان کی مصائب و آلام سے نپٹنے کی تربیت ۔ ریاضت اور مہارت کار فرما ہے ۔ یہ رزاق کے بندے جن کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ۔
کاغذ کے پھول سر پہ سجا کے چلی حیات
نکلی بیرون شہر تو بارش نے آ لیا
المصطفٰی آئی ہسپتال ٹرسٹ خیبر سے کراچی تک پورے پاکستان کے 27 اضلاع میں ملاح کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور ہم ساحل پر بیٹھ کر ان کے لیئے دعا کر رہے ہیں ۔
اے کشتی ء حیات کے ملاح غم نہ کر
ساحل پہ پھینک دیتا ہے طوفاں کبھی کبھی
محلات میں خوشحالی کی زندگی بسر کرنے والوں کی حالت زار ادا سائلوں پر خیمہ زن اور مجبور انکھوں سے پوچھو جن کے بے رب جملوں میں ضرورت کو بیان کرنے سے وہ قاصر ہیں مصائب و علام میں پھنسی ہوئی اور درد کے سیراب میں ڈوبی ہوئی انسانیت کا درمہ المصطفی پاکستان کے میر کارواں عبدالرزاق ساجد اور ان کی پوری ٹیم جو سیلاب میں متاثرین کی مسیحا بنی ہوئی ہے ۔ المصطفی پاکستان کی مینجنگ ڈائریکٹر محترمہ نصرت سلیم مجبور انکھوں میں سوالوں کے جوابات نظر پڑھ لیتی ہیں بلکہ ان کے بے رب جملوں میں پناہ ضرورت و سہولت کے اسباب بے طرف فراہم کر رہی ہیں جنت نظیر ابادیاں سیلاب کے ریلے نے اجاڑتی ہیں تیری نظروں میں تو دیہات ہیں فردوس مگر میں نے فردوس میں اجڑے ہوئے گھر دیکھے ہیں
المصطفٰی ٹرسٹ کے چئیرمین محترم عبدالرزاق ساجد کی ہدایات کی روشنی میں مینجنگ ڈائریکٹر محترمہ نصرت سلیم کی معیت اور قیادت میں یہ قافلہ ء درد مند ۔ درد کا درماں گہرے پانیوں میں ڈوبتی ہوئی انسانی جانوں کی چارہ سازی کے لیئے 27 اضلاع میں پھیل گیا ۔ گفتگو طرازی میں بیمثل نواز کھرل جیسا زبان آور انسان اگر کسی این جی او کو مل جائے تو اس کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ وہ قول کے نہیں عمل کے انسان ہیں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے بارے میں بہادر یار جنگ مرحوم نے کہا تھا کہ کاش کہ میں اس شخص کو مسلم لیگ میں لا سکتا اگر یہ میرے ساتھ ہوتا تو میں پورے چھ مہینے میں پوری دنیا میں انقلاب برپا کر دیتا اور بالکل یہ حقیقت ہے کہ عبدالرزاق ساجد کا نواز کھرل کا انتخاب نصف کامیابی کا اعلان ہے ۔ نواز کھرل المصطفٰی ٹرسٹ کا ترجمان ہے وہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ قبیلہ ء قلم و قرطاس کے ساتھ اپنی وابستگی اور ان کا احترام اور حفظ مراتب کا خیال رکھنے والا عظیم الشان انسان میں نے بہت کم دیکھا ہے اور سلیقہ وار کام ریلیف آپریشنز پاکستان کے 27 اضلاع اور 200 سے زائد مقام پر جاری ہے سیلاب سے متاثرہ۔ 620946افراد میں کھانا تقسیم کیا گیا 25 میڈیکل کیمپس قائم کیئے گئے جن میں 12770 مریضوں کا علاج کیا گیا اور انہیں ادویات فراہم کی گئیں 10 خیمہ بستیاں قائم کی گئیں جن میں پانچ ہزار سے زائد بے گھر افراد کو پناہ دی گئی مویشیوں کے لیئے 60 ہزار کلو گرام سے زائد جانوروں کا چارہ تقسیم کیا گیا 20 کشتیوں کے ذریعے گہرے پانیوں میں پھنسے ہوئے خاندانوں کو نکالنے اور ان تک امداد پہنچانے کے آپریشنز کیئے گئے 6500 سے زائد پرعزم رضاکاروں کی ٹیم کو ریلیف سرگرمیوں کے لیئے متحرک کیا گیا جن کے ہاتھوں کو چومنا چاہتا ہوں ۔ صحافی قبیلے کے سردار محترم مجیب الرحمن شامی جنہوں نے اندیشہ ہائے دور و دراز کے حوالے سے اگلے آنے والے سیلاب کے بارے میں بات کی اور اس سلسلے میں پیش بندی کے لیئے بھی انہوں نے تجاویز دیں ۔ شامی صاحب کی گفتگو میں درد و اثر تھا وہ کہنہ مشق صحافی اور دردِ دل رکھنے والے درد مند انسان ہیں۔ میاں حبیب صاحب کا حرف حرف سچ پر مبنی تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اپنے بچاؤ کے لیئے بندوبست کرنا ہوگا کیونکہ
جو تجھ سے عہد وفا استوار رکھتے ہیں
وہ علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں
سیلابِ بلا کی تباہ کاریوں اور نقصانات المصطفٰی پاکستان کی خدمات چراغ حق کی طرح روشن ہیں اور مستقبل کے خدشات پر دورس نگاہ کی دولت سے مالا مال عبقری اور فکری شخصیات برقی ذرائع ابلاغ ۔ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے بصیرت افروز افراد نے المصطٰفی کے میڈیا سربراہ نواز کھرل کی استدعا پر میڈیا کانفرنس میں شرکت کی اور المصطفٰی پاکستان کی مینجنگ ڈائریکٹر محترمہ نصرت سلیم کی مدلل و موْثر بریفنگ اور دل دوز مناظر کی فلم دیکھی تو انسانی ہمدردی کے جذبات عود کر آتے چلے گئے ۔ شرکاء کانفرنس نے سراہا اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تعاون کا یقین دلایا ۔ملک کے ممتاز اور نامور صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے اپنے اخبارات کے صفحات المصطفٰی پاکستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی مشن کے لیئے وقف کر دیئے ۔ انہوں نے اگلے سال سیلاب کی شدت اور خدشات کا بھی اظہار کیا ہے اور اس سے بچنے کے لیئے مفید تجاویز دیں ہیں ۔






