ٹرمپ لاابالی ہے کہ غیر معمولی حکمتِ عملی کا حامل؟
تحریر۔۔۔۔صفدر علی خاں
کیا دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور امریکہ کا صدر حالات کی نزاکت کو سمجھنے سے قاصر ہو سکتا ہے؟ یہ سوال آج کل ہر سیاسی مبصر کے ذہن میں ہے، ایک طرف ڈونالڈ ٹرمپ پر لاابالی اور جذباتی مزاج کا لیبل لگتا ہے تو دوسری طرف اُن کی پالیسیاں کسی غیر معمولی حکمتِ عملی کا پتہ دیتی ہیں لہذا حقیقت کیا ہے؟
ڈونالڈ ٹرمپ کی شخصیت روایتی امریکی صدور سے یکسر مختلف ہے۔ اُن کے بیانات سخت، لہجہ جارحانہ اور پالیسیاں اکثر غیر متوقع ہوتی ہیں۔ قطر اور ایران جیسے خطے کے حساس ممالک پر حالیہ امریکی پالیسیوں نے نہ صرف ان کے تعلقات کو مزید پیچیدہ کیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ قطر جو امریکا کا انتہائی قریبی اتحادی ہے، اس پر دباؤ ڈالنا دراصل خطے میں نئی صف بندی کا عندیہ ہے اور اسی طرح ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں اور دباؤ بڑھانا ٹرمپ کی جارحانہ حکمتِ عملی کی مثال ہے۔تاہم چین، روس اور بھارت جیسے بڑے ممالک کے ساتھ ٹرمپ کا رویہ دوہرا اور محتاط نظر آتا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی کو بڑھاتے ہیں، مگر ساتھ ہی امریکی سرمایہ کاری اور مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھتے ہیں۔ روس کے ساتھ تعلقات میں وہ ماضی کی نسبت زیادہ نرم لہجہ اپنائے ہوے ہیں اور بھارت کو خطے میں ایک اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر آگے بڑھانے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔تو صاحبو۰۰۰ یہ سب اقدامات محض “لاابالی” قیادت کے تو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک سوچے سمجھے عالمی کھیل کے عکاس ضرور ہیں۔
پاکستان کے ساتھ ٹرمپ کا موجودہ رویہ بھی غیر معمولی ہے۔ ماضی کی نسبت اس وقت وہ پاکستان کے ساتھ تعاون اور محبت کا اظہار تسلسل سے کر رہے ہیں، چاہے وہ افغان امن عمل ہو یا خطے میں استحکام کے دیگر اقدامات۔ ٹرمپ حکومت کی یہ پالیسی بظاہر پاکستان کو ایک اہم کردار دینے کا عندیہ تو ہے، لیکن اس میں امریکی مفادات کی چھاپ بھی نمایاں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی قیادت کے اس بدلتے رویے میں پاکستان کے لیے ایک طرف بڑے مواقع ہیں تو دوسری طرف چیلنجز بھی۰۰۰مواقع یہ ہیں کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور سفارتی اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں اسٹریٹجک اور اقتصادی شراکت داری بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری اور سیکیورٹی تعاون کے شعبوں میں۰۰۰لیکن ساتھ ہی چیلنج یہ ہے کہ امریکہ کی پالیسی میں اچانک تبدیلیاں پاکستان کو مشکل میں ڈال سکتی ہیں، مثلاً چین کے ساتھ سرد جنگ میں تیزی ،افغان امن عمل کی ناکامی یا بھارت کے ساتھ امریکہ کی قربت کا یکہ یک بڑھ جانا۰۰۰ اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، خود مختاری اور طویل المدتی منصوبہ بندی کو ترجیح دے، تاکہ بدلتی عالمی سیاست کے اس کھیل میں ایک مضبوط اور خود مختار کردار ادا کر سکے۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیز کو روایتی رد عمل سے نکال کر زیادہ فعال اور کثیر جہتی(multi-dimensional ) انداز میں آگے بڑھائے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ سے تعلقات مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ چین ،روس ،ایران ، سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ متوازن اور دیرپا تعلقات قائم رکھے جائیں لہذا یہ حکمت عملی لازمی طور پر پاکستان کو بدلتی عالمی سیاست میں نہ صرف محفوظ رکھ سکتی ہے بلکہ اسے انشاءاللہ ایک مضبوط اور موثر کردار بھی عطا کرے گی۔
⸻
کیا آپ چاہیں






