سو لفظوں کی کہانی بیروزگاری
شاہد کاظمی
پہلے یہی دوسو ہوتا تھا،
گھر والے ایسا سلوک کرتے تھے کہ بیچارہ لوگوں کے سامنے شرمندہ ہی رہتا،
دیر تک باہر تھا تو کہاں تھا، والد کی جھڑکیاں سنتا،
والدہ کے طعنے،
بہنوں، بھائیوں کے طنز۔۔۔
اچانک سب کا اس سے رویہ تبدیل ہو گیا،
رشتے سب وہی تھے، لیکن ان کا رویہ اچانک تبدیل ہو گیا تھا۔۔۔۔
جن رشتوں کے تلخ رویوں کا سامنا تھا،
وہ تمہارے لیے نرم اچانک کیسے ہو گئے؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
میں بیروزگار تھا، رویے کڑوے تھے،،،،
جب سے روزگار لگا ہے، رویے میٹھے ہو گئے ہیں،
دوسو مسکرا کر بولا۔






