کثیر جماعتی نظام : مسائل اور ممکنہ متبادل
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
دنیا کی کامیاب ترین جمہوریتوں میں امریکہ اور برطانیہ غالباً سرِ فہرست شمار ہونے کے قابل ہیں ۔ ان ممالک میں جمہوریت کے پنپنے کی دیگر وجوہ میں سے ایک تو ان کے ہاں طویل عرصے سے رائج دو جماعتی سیاسی نظام / Two Party System ہے جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی تاریخ میں بیشتر ایک جماعت حزبِ اقتدار / Treasury Benches جب کہ دوسری جماعت حزبِ مخالف / Opposition Benches پر براجمان ہوتی ہے ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپوزیشن پارٹی صحت مندانہ انداز میں حکومتی پارٹی پر تنقید کے ذریعے ایک طرف اس کی بالواسطہ اصلاح کا عمل جاری رکھتی ہے جب کہ دوسری جانب وہ آئندہ انتخابات میں بہتر کارکردگی کے لیے اپنے آپ کو تربیت بھی دینے میں مصروف ہوتی ہے ۔ امریکہ میں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ میں سے ایک منتخب ہوتی ہے اور حکومت سازی کرتی ہے ۔ برطانیہ میں لیبر اور کنزرویٹو بڑی جماعتیں ہیں لیکن کبھی کبھار وہاں ان میں سے کوئی ایک جماعت ایک نسبتاً کم مقبول لبرل ڈیموکریٹس
کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بناتی رہی ہے اور گزشتہ چار پانچ عشروں میں کچھ اور بہت چھوٹی جماعتیں بھی پردۂ سیاست پر نمودار ہوئی ہیں لیکن ان کی انتخابی کامیابی برائے نام رہی ہے۔ بہرحال ہم ان دو بڑی مغربی ممالک کے کامیاب سیاسی نظام کے پسِ پردہ سیاسی جماعتوں کا مثبت ارتقائی سفر ہے ۔
بدقسمتی / اتفاق سے پاکستان کے پہلے دس گیارہ سال ایسے سیاسی نظام اور دو یا تین سیاسی جماعتی نظام کو اپنانے میں ناکام رہا جب کہ اسی عرصے میں بھارت ایک مضبوط سیاسی بنیاد رکھ چکا تھا اور آزادی کے دو سال بعد وہاں آئین بھی بن چکا تھا لیکن ہماری دستور ساز اسمبلی کی سستی ، آزادی کے تیرہ ماہ بعد ہی قائدِ اعظم کی وفات اور بھارت کی طرف سے پاکستان کے لیے مسلسل مشکلات پیدا کرنے کے نتیجے میں یہاں کوئی ایک بڑی سیاسی جماعت ابھر نہ سکی ۔پاکستان بنانے والی مسلم لیگ اچانک کمزور پڑگئی اور 1950 کی دہائی کے وسط تک مغربی اور مشرقی پاکستان میں دس پندرہ چھوٹی بڑی جماعتوں کی کھچڑی سی بن چکی تھی ۔ پھر ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا جیسے نہایت خودغرض اور غیرسیاسی پس منظر والے حکمران اپنی من مانی کرتے ہوئے آئین سازی کا عمل سبوتاژ کرتے رہے اور مخلوط حکومتوں کو بنانے اور توڑنے کے گھناؤنے کھیل میں مصروف رہے ۔ صرف 1955 سے 1958 کے دوران پانچ حکومتیں اسکندر مرزا نے توڑیں اور اسمبلیاں تحلیل کر کے مارشل لا کی راہ ہموار کی ۔ پھر 1970 کی دہائی کے بعد 1988 سے 1999 تک جو سول حکومتیں بنیں ، ان میں بھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی بیشتر مخلوط حکومتیں ہی بنتی رہیں ۔صرف 1972 سے 1977 تک پیپلز پارٹی اور 1997 سے 1999 تک مسلم لیگ نے بھاری اکثریت سے اپنی حکومتیں بنائیں ۔
الحمد للہ 2008 سے اب تک تمام سول حکومتوں کا دور رہا ہے لیکن ملکی سیاسی دھارے میں 2013 سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ پی ٹی آئی ایک اور بڑی سیاسی جماعت کے طور پر نہ صرف ابھری بلکہ اس نے پہلے سے ہی کمزور سیاسی نظام کو مزید ہلا کر رکھ دیا ۔ پی ٹی آئی کے بقول اس کے مقاصد جو بھی رہے ہوں اس کے طریقِ کار نے اس کی سیاسی قیادت کے اناڑی پن اور متضاد پالیسیوں کی عکاسی کی ۔اس پورے عرصے میں افسوس کہ ہم ایک مستحکم اور پائیدار سیاسی نظام بنانے میں بحیثیت قوم ناکام رہے اور نتیجہ یہ کہ اس وقت بھی ہمارے ملک میں مخلوط وفاقی حکومت ہے جب کہ پنجاب ، سندھ اور خیبر پختون خوا میں صوبائی حکومتیں ایک ایک سیاسی پارٹی کے تحت ہیں ۔ تاہم وفاقی مخلوط حکومت کی جماعتوں کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ مل کر مضبوط سیاسی نظام تشکیل دے سکتی ہیں ۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ اپنے بنیادی منشور و مقاصد کی قربانی دیے بغیر مفاہمت اور باہمی تعاون کی فضا میں مل کر صرف اور صرف پاکستان کے اندرونی استحکام اور بیرونی محاذ پر کامیابی کے لیے پیہم کام کرتی رہیں ۔ خوش قسمتی سے اس وقت پاکستان کو عالمی سطح پر جو کامیابی اور توقیر ملی ہے ، اسے دانش مندی اور مصالحت آمیز رویّے سے کام لیتے ہوئے ملک کی معاشی ترقی کے لیے کیش کرایا جا سکتا ہے۔ یہ پی ٹی آئی کے لیے بھی بہت قیمتی لمحات ہیں کہ جس طرح اس کی قیادت نے سیلاب زدگان کے لیے یکجہتی کا اعلان کیا ، اسی طرح اسے پاکستان کی عالمی سطح پر کامیابی پر تنقید کرنے کے بجائے موجودہ حکومت کی تعریف کرنی چاہیئے اور مزید بہتری کے لیے خلوصِ دل سے مشورے دینے کی حکمتِ عملی اپنانی چاہئیے ۔
ہماری پارلیمنٹ اس وقت بہت اہم قانون سازی کر سکتی ہے ۔ مثلاً ایسے قوانین بنائے جائیں کہ ہر نئی حکومت پر لازم ہو کہ گزشتہ حکومت کے کسی بھی ایسے منصوبے کو تبدیل/ ختم نہ کرے جو مسلمہ طور پر اجتماعی فلاح کے لیے بنایا گیا ہو ۔ صوبائی خود مختاری کے لیے جامع پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کے لیے طویل المعیاد اور ناقابلِ تنسیخ قوانین بنائے جائیں ۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے لوگوں کو آزادیِ اظہار کا حق دیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کو ایک متوازی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایسے قوانین بنانے چاہئیں جن میں دور دور تک اقربا پروری کا شائبہ تک نہ ہو۔
ہمارا ایک بہت بڑا مسئلہ اداروں کی بجائے افراد کی بالاتری ہے جس کی جڑیں غیرسیاسی عوامل اور ماضی کی سیاسی ناہمواری اور عدم استحکام سے جُڑی ہیں ۔ موجودہ حکومت کے پاس عددی اکثریت کی فیصلہ کن قوت ہے جس کے ذریعے اداروں کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا ممکن ہے ۔ اس کے لئے بین الصوبائی اختلافات کو ختم کرنا ناگزیر ہے۔ صوبائی خود مختاری کے ساتھ نجی شعبے کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دینا بھی وقت کا تقاضا ہے ۔ اگر موجودہ مخلوط حکومت ان مجوزہ اقدامات پر عمل شروع کر دے تو اگلے انتخابات کے لیے اس کی مقبولیت






