غزہ میں قیام امن کیلیے پاکستان کا کردار
28/09/25
آج کا اداریہ
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ یمنی ساحل کے قریب ایل پی جی ٹینکر پر اسرائیلی ڈرون نے حملہ کیا تھا جس کے باعث جہاز پر آگ لگی اور 24 پاکستانیوں سمیت 27 افراد کو حوثیوں نے یرغمال بنایا جو کہ رہا ہوگئے۔
اپنے ٹویٹ میں محسن نقوی نے کہا کہ یمن کے ساحلی علاقے راس العیسیٰ پر ایل پی جی ٹینکر پر اسرائیلی ڈرون نے حملہ کیا، حملے کے وقت جہاز پر 27 افراد سوار تھے جن میں 24 پاکستانی شامل ہیں، جہاز پر ایک ٹینک پھٹ گیا تاہم عملے نے آگ پر قابو پالیا۔
بعد ازاں حوثی فورسز نے جہاز کو روک کر عملے کو یرغمال بنالیا تاہم پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور سفارتی کوششوں سے عملہ بازیاب ہوگیا اور کیپٹن مختار اکبر سمیت تمام پاکستانی عملہ محفوظ رہا، حوثیوں نے جہاز اور عملے کو بحفاظت رہا کر دیا، جہاز یمنی پانیوں سے باہر آچکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکریٹری داخلہ خرم آغا، سفیر نوید بخاری اور دیگر اہلکاروں کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، وزرات داخلہ، سعودی عرب و عمان میں پاکستانی ٹیموں کا کلیدی کردار ہے۔
قبل ازیں سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند اہم اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ غزہ کے تنازع پر ایک خصوصی نشست میں شریک ہوئے تو وہاں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی موجود تھے۔
گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر ہونے والے اس اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارت، قطر، مصر، ترکی، اردن، انڈونیشیا اور پاکستان کے سربراہان شریک تھے جس کے میزبان امریکہ اور قطر تھے۔
اگرچہ اس اجلاس کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا جس سے یہ علم ہو سکے کہ اس اجلاس میں کیا بات چیت ہوئی اور اسلامی ممالک کے سربراہان نے غزہ یا دیگر امور پر کیا موقف پیش کیا۔
تاہم امریکی صدر کے بیان کے مطابق انھوں نے اسرائیلی مغویوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق منتخب اسلامی ممالک کے سربراہان سے کہا کہ ’اس گروپ سے بہتر کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا ہے۔‘
ایک ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقاریر کا مرکز ہی غزہ ہے، امریکی صدر کی پاکستانی وزیر اعظم سمیت اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کو اہم قرار دیا ہے
مبصرین کے خیال میں اسلامی ممالک کے سربراہان پر مشتمل اس اجلاس میں پاکستان کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدے کی باز گشت اب تک جاری ہے۔
واضح رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بعد خلیجی ریاستوں میں اپنے تحفظ کے لیے تشویش بڑھ گئی تھی۔
اقوام متحدہ کی سائیڈ لائن پر ہونے والی اس ملاقات سے چند روز قبل ہی پاکستان اور سعودی عرب کے مابین باہمی سٹریٹجک دفاعی معاہدہ بھی یہ ظاہر کرتا ہے خلیجی ممالک کا رجحان پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دوسری کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے۔
ماضی میں امریکہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی سکیورٹی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا
اسرائیل پہلے ایک محدود علاقے میں ہی اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا لیکن اب وہ کبھی شام تو کبھی ایران اور قطر پر حملہ کر رہا ہے، ایسے میں عرب ممالک اپنے تحفظ کے لیے پریشان ہیں۔‘
’یہی وجہ تھی کہ خلیجی ممالک نے پاکستان کی جانب دیکھا کیونکہ پاکستان ایک جوہری طاقت رکھنا والا ملک ہے۔‘
غزہ میں امن کے لیے او آئی سی یا مسلمان ممالک کے مشترکہ افواج تعینات کرنے کے امکان کے بارے میں عمر کریم نے بتایا کہ ’امریکہ چاہتا ہے کہ انخلا کے بعد غزہ کے کنٹرول کے لیے وہاں فوجیں موجود ہوں۔‘
’کچھ مسلمان ممالک وہاں فوجیں بھجوانے کے لیے رضا مند بھی ہیں لیکن اگر ایسا کوئی منصوبہ سامنے آتا ہے تو پاکستان کو بہت محتاط انداز میں آگے بڑھنا ہو گا۔‘
تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان کے بین الاقوامی سٹیج پر موجودگی اہم ضرور ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے کیا منصوبہ پیش کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان مسلم دنیا کا اہم ملک ہے ’ مشرقِ وسطی میں اثررروسوخ رکھتا ہے اور حال ہی میں پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ پر ہونے والے اجلاس میں پاکستان بھی موجود تھا۔‘
’پاکستان عالمی سطح پر متحرک ڈپلومیٹک پلیئر ہے تو اُس طرح کی میٹنگ میں پاکستان کی شمولیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی سفارتی سٹینڈنگ بہت مضبوط ہے
’پاکستان عسکری طاقت رکھنے والا اہم ملک ہے اور ان حالات میں اگر ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد اُسے خلیجی ممالک کے حوالے کر کے وہاں مشترکہ فوجی دستے تعینات کیے جائیں تو ایسے میں پاکستان کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔‘
یاد رہے کچھ سال قبل تک پاکستان غزہ کے معاملے پر اتنا سرگرم نہیں تھا لیکن اب پاکستان غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہر پلیٹ فارم پر بھرپور آواز اُٹھا رہا ہے۔‘
’مئی میں انڈیا اور پاکستان کی محدود جنگ کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔‘
’دنیا نے دیکھا کہ کمزور معیشت کے باوجود پاکستان نے انڈیا کو بھرپور جواب دیا اور اس کے بعد واشنگٹن میں پاکستان کے آرمی چیف کی امریکی صدر سے لنچ پر ملاقات ہوئی جس کے بعد دنیا کو لگا کہ پاکستان امریکہ کے بھی قریب ہو رہا ہے۔‘
اسرائیل پہلے ایک محدود علاقے میں ہی اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا تھا لیکن اب وہ کبھی شام تو کبھی ایران اور قطر پر حملہ کر رہا ہے، ایسے میں عرب ممالک اپنے تحفظ کے لیے پریشان ہیں۔‘
’یہی وجہ تھی کہ خلیجی ممالک نے پاکستان کی جانب دیکھا کیونکہ پاکستان ایک جوہری






