#کالم

حرف معتبر

فاطمہ شیرازی

تحریر فاطمہ شیرازی
پاکستان اور چین کے تعلقات دنیا میں ایک منفرد اور دیرپا مثال سمجھے جاتے ہیں۔ یہ تعلقات صرف سفارتی یا تجارتی سطح تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، عسکری، ثقافتی اور عوامی سطح پر بھی گہرے ہیں۔ دونوں ممالک کو ’’آہنی بھائی‘‘ (Iron Brothers) کہا جاتا ہے۔تاریخی پس منظر دیکھا جائے توپاکستان 1950ء میں چین کو تسلیم کرنے والے اولین مسلم ممالک میں شامل تھا۔1951ء میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔1963ء میں پاکستان اور چین نے سرحدی معاہدہ کیا جس نے اعتماد سازی کی بنیاد رکھی۔1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں چین نے پاکستان کی حمایت کی۔1970ء کی دہائی میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔اقتصادی تعلقات کی اگر بات کی جائےچین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔2015ء میں چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا آغاز ہوا جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔سی پیک کے تحت توانائی، انفراسٹرکچر، صنعتی زونز اور گوادر پورٹ جیسے بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔پاکستان کی برآمدات کے لیے چین ایک بڑی منڈی فراہم کرتا ہے۔اب بات کرتے ہیں دفاعی تعلقات کی۔۔۔پاکستان اور چین کے درمیان عسکری تعلقات بہت مضبوط ہیں۔مشترکہ فوجی مشقیں، ہتھیاروں کی تیاری اور دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون شامل ہے۔جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارہ دونوں ممالک کے تعاون سے تیار کیا گیا۔چین پاکستان کو جدید دفاعی سازوسامان فراہم کرتا ہے اور عسکری تربیت میں تعاون کرتا ہے۔سفارتی تعلقات پاکستان اور چین ایک دوسرے کی عالمی اور علاقائی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں چین ہمیشہ پاکستان کے مؤقف کو اقوامِ متحدہ، ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی اداروں میں سپورٹ کرتا ہے۔پاکستان "ایک چین پالیسی” کی حمایت کرتا ہے اور تائیوان، ہانگ کانگ اور تبت جیسے مسائل پر چین کے ساتھ کھڑا ہے۔تعلیمی میدان میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تبادلے اور اسکالرشپس کا سلسلہ جاری ہےپاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعداد چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔چینی زبان (مینڈارن) کی تعلیم پاکستان میں تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ثقافتی میلوں، فلموں اور کھیلوں کے تبادلے نے عوامی روابط کو مزید گہرا کیا ہےپاک–چین تعلقات صرف دوطرفہ نہیں بلکہ خطے اور عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔یہ تعلقات بھارت اور امریکہ کے ساتھ طاقت کے توازن پر اثر ڈالتے ہیں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) میں پاکستان کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کی داخلی سیاسی و معاشی عدم استحکام سی پیک منصوبوں پر اثر ڈالتا ہےخطے میں بھارت اور امریکہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ چین–پاکستان تعلقات کے لیے چیلنج ہے۔بعض منصوبوں میں سیکیورٹی مسائل بھی درپیش آتے ہیں۔پاک–چین تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں اور مستقبل میں ان کی اہمیت مزید بڑھے گی۔ یہ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سی پیک اور باہمی تعاون نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوشحالی اور ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے