#کالم

میں نے بچپن میں سنا تھا

شاہد محمود

شاہد محمود

تریموں کے اٌس پار

یہ شہر محبت ہے اسے رنگ لگے گا
جس شہر سے گزرو گے تمہیں جھنگ لگے گا
تانگہ لاہور دا ہوئے تے بھاویں جھنگ دا تانگے والا خیرمنگدا،یہ شہرمحبت ہے یہ کہاوت زبان زد عام ہے کہ آپ جھنگ نہیں گئے تو کہیں نہیں گئے۔ یہ جہلم اور چناب کی سرزمین ہے یہ شاعروں اور ادیبوں کا شہر ہے۔ یہ صوفیاء،اولیاء کا گھر ہے۔ ایک کنارے پر شاہ جیونہ تو دوسرے پرسلطان باہو ہے۔ جھنگ کا قدیم نام برہمن گڑھ بھی رہا ہے جھنگ کی نام کی نسبت سے مختلف روایات پائی جاتی ہیں ایک روایت کے مطابق جب سکندر یونانی نے یہاں کا رخ کیا تو یہاں جھانگ قبیلہ آباد تھا اِس قبیلے کے نام کی نسبت سے جھانگ سے ہوتا ہوا جھنگ کہلایا مشہور چینی سیاح ہیوان سوانگ نے اس علاقے کو جھانگ ہی لکھا ہے۔ یہ پاکستان کا واحد ضلع ہے جس میں تین دوابے پائے جاتے ہیں۔ رچنا دواب، چچ دواب، سندھ ساگر دواب ،اور نو اضلاع کے ساتھ اس کی باؤنڈری ملتی ہے ۔ میرا تبادلہ سیالکوٹ سے جھنگ ہوا تو میں پہلی بار یہاں آیا تھا۔ یہ شدید گرمی کا موسم تھا ہمارے سیالکوٹ کی نسبت یہاں زیادہ گرمی ہے ۔ یہ شہر چار حصوں میں آباد ہے ، پرانا سٹی جھنگ سیال، دوسرا حصہ جھنگ مگھیانہ، تیسرا جھنگ صدر اور چھوتھا نواں شہر جھنگ ۔ایوب چوک اس شہر کا مرکزی چوک ہے جہاں سے چھ سڑکیں نکلتی ہیں۔ ایک مشرق میں پرانا چنیوٹ روڈ، دوسری شمال میں سرگودھا روڈ، تیسری شہر جھنگ مگھیانہ کوٹ روڈ ، چوتھی مغرب میں بھکر ملتان روڈ ،پانچویں جنوب مغرب میں کچہری سول لائن روڈ جبکہ چھٹی فیصل آباد روڈ کہلاتی ہے جس پر ایک خوبصورت قصبہ نواں لاہور بھی آتا ہے ۔ پرانا جھنگ سیال جس کو اولڈ سٹی بولا جاتا ہے یہ صدیوں کی تاریخ کا چشم دید گواہ ہے بھکر روڈ کی دوسری طرف انگریز سرکار نے جو شہربسایا تھا اُس کا موجودہ نام جھنگ صدر ہے۔ جس میں انتظامی اَمورڈپٹی کمشنر،ڈسٹرکٹ پولیس آفس، ڈسٹرکٹ کونسل، کچہری، نادرا آفس ڈسٹرکٹ جیل، مجید امجد پارک اور دیگر دفاتر واقع ہیں۔ شہر کے درمیان سے ریلوے لائن گزرتی ہے جس پر مشرق میں جھنگ سٹی ریلوے اسٹیشن اور مغرب میں جھنگ صدر ہیں۔ یہ ریلوے لائن شور کوٹ سے ہوتی ہوئی ٹوبہ ٹیک سنگھ چلی جاتی ہے اور دوسری طرف شاہ جیونہ، شاہ نکڈر، سرگودھا کو چلی جاتی ہے ، یہ لائن کراچی ایبٹ آباد ٹریک کہلاتا ہے ۔ ڈسٹرکٹ جیل ریلوے لائن کی شمال کی طرف جبکہ جنوب میں مائی ہیر سپورٹس کمپلیکس ہے جس کے ساتھ ایک ویران قبرستان میں اونچے ٹیلے پر ہیر رانجھا کا مزار ہے ، ہیر کا اصل نام عزت بی بی جبکہ رانجھا کا نام مراد علی تھا۔ جس میں چھوٹی سی مسجد ہے مسجد کے ساتھ بوڑھا درخت ہے جہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں منتیں مانگنے آتے ہیں۔ میرا اکثر یہاں گزر ہوتا تو قصہ گو بتاتے کہ دریائے چناب اِس مزار کے ساتھ گزرتا تھا ۔ جس نے بعد میں اپنا رخ شمال کی طرف موڑ لیا ہے ۔ آپ ایوب چوک سے سرگودھا کی جانب سفر کریں تو دریائے چناب آ جاتا ہے جس کے ایک طرف چھوٹا سا چوک جھنڈ بھروانہ آتا ہے یہاں ایک سڑک تھانہ مسن کو نکلتی ہے اور دوسری طرف لالیاں شہرکو چلی جاتی ہے۔ اس سے آگے منڈی شاہ جیونہ کا قصبہ آتا ہے جس میں ہند کا مشہور دربار، شاہ جیونہ ہے۔ اسی طرح ایوب چوک جھنگ سے ایک سڑک مغرب کی طرف بھکر روڈ نکلتا ہے جس پر آگے ایک چھوٹا سا قصبہ موڑ ملہو آنہ آتا ہے جہاں پنجاب کی سب سے بڑی مویشی منڈی لگتی ہے،اس موڑ سے ایک سڑک حویلی بہادر شاہ سے شورکوٹ جبکہ دوسری شمال مغرب سے ہوتی ہوئی ہیڈ تریموں چلی جاتی ہے یہ وہ مقام ہے جہاں دو دریا آپس میں ملتے ہیں ۔ میرا عزیز دوست نواز ٹھیکیدار ہیڈ تریموں پر فش پارٹی کا اہتمام کرتا تھا۔ ہیڈ تریموں سے تین نہریں نکلتی ہیں اِن دریاوۤں سے نکالی جانے والی نہروں نے اِس علاقے کے آب پاشی اور زراعت کے نطام کو جدید بنا دیا ہے۔ ہیڈ تریموں سے پار اٹھارہ ہزاری کا قصبہ ہے ،یہاں سے ایک سڑک دریائے جہلم کے ساتھ کوٹ شاکر،ماڑی شاہ صغیرہ سے خوشاب جاتی ہے یہ وہ سڑک ہے جس کے مغربی طرف میلوں پھیلا ہوا تھل کا علاقہ ہے تو دوسری طرف انتہائی سر سبز و شاداب زرخیز دریائی خطہ ہے ۔ اٹھارہ ہزاری سے ایک سڑک حیدرآباد تھل،منکیرہ، بھکر سے ڈیرہ اسماعیل خان جاتی ہے اور ایک سڑک نواں کوٹ تھل سے ہوتی ہوئی لیہ شہر جاتی ہے۔ ایک بڑی سڑک گڑھ مہاراجہ، احمد پورسیال، لیہ، مظفرگڑھ جاتی ہے۔ جس پر گڑھ مہاراجہ چھوٹا سا قصبہ ہے۔ جس میں مشہور گلوکار منصور ملنگی پیدا ہوا۔ یہاں،دل دریا سمندروں ڈونگے تے کون دلاں دیاں جانے ہو،، حضرت سلطان باہو کا دربار ہے جہاں دور دور سے لوگ حاضری دینے آتے ہیں۔ ہم نے بھی ایک دن یہاں جمعہ کی نماز پڑھی اور دربار پر حاضری دی۔ گڑھ مہاراجہ سے ایک سڑک دریائے چناب سے شور کوٹ چلی جاتی ہے۔ شورکوٹ جھنگ کی تحصیل ہے۔ ایک روایت ہے کہ یہ ہڑپہ اور مہنجو داڑو سے پرانا شہر ہے ۔ اس شہر کے بارے روایت ہے کہ یہ کئی بار اجڑا اور اجڑ کر بسا ہے ۔ ایک وقت تھا جب فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ،چنیوٹ جھنگ کی تحصیلیں تھیں۔ اب جھنگ چار تحصیلوں پر مشتمل ہے، جھنگ ، آٹھارہ ہزاری، شور کوٹ اور احمد پور سیال ہیں ۔ یہ سرسبز و شاداب علاقہ ہے ۔ ضلع جھنگ میں گندم،چنا،جوار،مکئی، آلو، سرسوں تمباکو اور کماد کی وسیع پیداوار ہوتی ہے۔اس کو شوگر ملوں کا گھر بھی کہا جاتا ہے یہ شہرعلم وادب کے حوالے سے مشہور ہے۔ یہ آزاد نظم کے عظیم شاعرمجید امجد کا شہر ہے۔ شیرافضل جعفری، صفدر سلیم سیال،رام ریاض،فرخ زہرا گیلانی،راکب مختار، دانش نقوی اردو کے معروف شعراء کا تعلق جھنگ سے ہے،شام کے بعد، اور صحرا خرید لائے ، میرے محبت والے شاعرفرحت عباس شاہ بھی جھنگ سے ہیں۔ سب سے بڑھ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے