تلخیاں ،گالیاں اور تالیاں۔
ناصر نقوی
معاشرہ مہذب ہو کہ غیر مہذب ،گالی اور گولی کو کبھی اچھا نہیں سمجھا جاتا کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ دھاگہ اور زبان لمبی ہوگی تو الجھاو¿ بھی اتنا ہی زیادہ پیدا ہوگا لہذا الجھاو¿ سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ دھاگے کو لپیٹ کر اور زبان کو سمیٹ کر رکھا جائے۔ داماد رسول شیر خدا حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ زبان کے نیچے انسان اور اس کی حقیقی شخصیت چھپی ہوتی ہے،، اسی لیے بات عام ہوئی کہ پہلے ??تولو پھر بولو،، اس کے باوجود ہم اور آ پ،، کسی اصول ،روایت اور بات کو ماننے کو تیار نہیں حالانکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جسمانی زخم بھر جاتے ہیں لیکن زبان و بیان کے زخم تاریخ میں نقش ہو جاتے ہیں پھر بھی سمجھنے اور سمجھانے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان ترقی پذیر ملک ہونے کے باوجود اللہ کی ہر قسم کی نعمتوں سے مالا مال، غریب اور ترقی پذیر ہوتے ہوئے بھی اپنے باصلاحیت ہنر مندوں اور سائنسدانوں کی بدولت دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت، بہترین دفاع اور بہادر افواج کے باعث دنیا میں نمایاں مقام کی حامل، موجودہ دور کے مشکل ترین حالات میں بھی سیاسی اور عسکری قیادت میں ہم آ ہنگی سے پاکستان خطے اور دنیا کے امن کے لیے کوشاں لیکن بدقسمتی سے ملکی سطح پر ایسے ان گنت مسائل کہ عوام کا جینا حرام ،مہنگائی قابو سے باہر، عسکری قیادت اچھے مستقبل کے لیے پرعزم لیکن پھر بھی محب وطن پاکستانی پریشان کہ اگر معاشی اور سیاسی بحران کا خاتمہ نہ کیا جا سکا تو ہمارا کیا بنے گا ؟ ایک تاثر ہے کہ آ مرانہ حکمرانوں کی پالیسیوں نے ہمیں حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہونے دیا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے صنعتوں، تعلیمی اداروں سمیت اہم اداروں کو قومیا کر رکاوٹ کھڑی کی بلکہ انہیں سازش کے تحت پھانسی چڑھا کر پاکستان کو مسائل کی دلدل میں دھکا دے دیا گیا۔ لیکن عام آ دمی کہتا ہے کہ ہمیں تو سبق پڑھایا گیا تھا کہ بدترین لنگڑی لولی جمہوریت بھی آ مریت سے بہتر ہوتی ہے۔ پھر بھی پاکستانیوں کو جمہوری ادوار میں سوائے لوٹ مار ،کرپشن اور مار دھاڑ کے کچھ نصیب نہیں ہوا۔ آ خر کیوں؟ وہ پوچھتے ہیں کہ موجودہ دور کے حکمرانوں اور ان کے انتخابات پر ہزاروں اعترضات ہی سہی لیکن ملک کی دو بڑی اور جمہوری پارٹیوں کی حکومت تو ہے۔ چھوٹی پارٹیوں کی سہولت کاری بھی موجود، پھر معاملات میں بہتری کیوں نہیں آ سکی؟ تلخیاں کم ہونے کی بجائے بڑھ گئیں ، گالیاں بھی پروان چڑھیں، پھر بھی تالیاں بجانے والے تالیاں بجا رہے ہیں اور قوم یہ تماشہ دیکھ کر حیران و پریشان ہے۔ ہر جمہوریت پسند قوم کی بھلائی، فلاح ، انصاف، آئینی بالا دستی کے لیے منتخب ایوان کی طرف دیکھتا ہے لیکن وہاں سے بھی کوئی خیر کی خبر کی بجائے تلخیوں، گالیوں اور تالیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ معزز ایوان کی اعلی شخصیات کے الفاظ ہر اجلاس میں سپیکر کو حذف کرنے کا حکم صادر کرنا پڑتا ہے حالانکہ ایوان میں موجود حکومتی ہی نہیں، اپوزیشن کے ارکان بھی رواداری جمہوری اقدار اور افہام و تفہیم کی بات تواتر سے کرتے ہیں۔ پھر بھی کسی ایک جانب سے ایسی شرلی،، چھوڑی جاتی ہے کہ ایوان قومی اسمبلی کا ہو کہ سینٹ کا، مچھلی منڈی بن جاتا ہے اور تمام تر معاملات نان ایشو کی غیر ضروری بحث کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں پھر ایک جانب سے معافی کا مطالبہ ہوتا ہے اور دوسری جانب سے انکار۔۔۔ ایسے میں تلخیاں اور گالیاں تو بڑھتی ہیں لیکن تالیاں بجانے والوں کی بھی کمی نہیں ہوتی، کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ قومی اخراجات سے اس غیر روایتی میلےٹھیلے سے کیا حاصل ہوگا ؟جواب کچھ نہیں۔۔۔صرف وقت گزاری، پوائنٹس سکورنگ، دوسرے کو نیچا دکھانے کے خواہش، ایک لیڈر انا اور ضد کی سزا بھگت رہا ہے لیکن باقی سیاستدان اور منتخب ارکان نہیں سمجھ رہے کہ وقت کسی بھی لمحے آ نکھیں پھیر لیتا ہے ۔ تمام اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ حالات اچھے نہیں، حکومتی وزرائ کا بھی یہی کہنا ہے کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے لہذا سب کو ملک، قوم اور سلطنت کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔ اے۔ پی۔ سی اور ان کیمرہ اجلاس وقت کی ضرورت ہے لیکن ان گھمبیر اور مشکل حالات میں بھی پیر سیاست حضرت مولانا فضل الرحمن نے جان بوجھ کر یا غلطی سے ریاست ماں کے حوالے سے ایک ایسا جملہ کہہ دیا کہ ایوان میں آ گ بھڑک اٹھی، محسن نقوی، خواجہ آ صف، طلال چودھری اور حنیف عباسی خوب گرجے برسے، ہر شعبہ زندگی سے رد عمل بھی آ یا اس لیے کہ مولانا صاحب سے اس قسم کے الفاظ کی توقع نہیں تھی لیکن مولانا کا کہنا تھا کہ میں نے تو خواجہ آ صف کو گدگدی کی تھی انہیں غصہ اگلے روز آ یا تو م±کہ اپنے ہی چہرے پر مارنا چاہیے تھا۔ پھر انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبہ ایک اور نظام دو کیوں ؟ کیا گورنر راج سے دہشت گردی ختم ہو گئی؟ وہ کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں کا اصل مسئلہ آئینی نہیں بلکہ وہاں کے معدنی وسائل ہیں علاقہ غیر کو صوبے کا حصہ بنائے 10 سال ہو چکے اب اطلاع مل رہی ہے کہ فیصلہ غلط ثابت ہوا اسے ختم کرنے کے اشارے کیے جا رہے ہیں اسی لیے کوہاٹ کو بھی ایمرجنسی کے اضلاع میں شامل کیا جا رہا ہے۔ مولانا نے اپنی سیاسی ہلکی پھلکی موسیقی میں ایک سے زیادہ معاملات کی نشاندہی کر دی ،اسی طرح مولانا عبدالغفور حیدری کہتے ہیں کہ حکومت دھمکیاں نہ دے، مولانا کا گھر بے نامی ہے کہ نیک نامی۔۔۔ ثبوت قوم کے سامنے رکھا جائے۔ محسن نقوی اور ہمارے تعلقات بہت اچھے تھے ہم دونوں ان کی شادی پر بھی گئے تھے۔ اب پتہ نہیں انہیں کیا ہو گیا ہے۔ ہم تو اس وقت بھی بغیر تنخواہ ملک کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ مطلب سمجھ جائیں کہ حقیقی مسئلہ یہی ہے کہ اگر تحریک انصاف ناکام ہے تو ہماری فکر کی جائے ہم نہ صرف قربانیاں دے رہے ہیں بلکہ مستقبل میں بھی دے سکتے ہیں یہ سب میری زبان میں توجہ دلاو¿ نوٹس،، ہے ورنہ مولانا اپنی نپی تلی روایتی سیاست ہی کریں گے اس کا ثبوت کے۔ پی میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ تھا جس پر اعتراض کے باوجود مولانا نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ وہ ہمیشہ سیاسی موسم کا اندازہ کر کے چال بدلتے ہیں لہذا اس وقت ایک حد تک ناراضگی کا اظہار کر کے اپنی جماعت کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش ان کا سیاسی حق ہے۔ اس ماحول میں بیرسٹر گوہر خان کے محسن نقوی سے رابطے کی خبر اور بیرسٹر سیف کی انٹری بھی انتہائی اہم ہے۔ بیرسٹر سیف نے کچھ انکشافات اور الزامات کا اظہار کر کے بھی اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کی ہے بلکہ ان کے دعوو¿ں کو بھی پذیرائی مل رہی ہے۔ اگر مجموعی سیاسی صورتحال کا اجتماعی جائزہ لیا جائے تو یہ راز کھل کر سامنے آ جائے گا کہ گالیوں اور تالیوں سے کسی طرح بھی تلخیاں کم نہیں ہونگی اور یہ تلخیاں ایوان سے باہر سڑکوں پر آ گئیں تو معاملات مزید بگڑ جائیں گے اس لیے سیاسی استحکام اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے ہر قیمت پر ڈائیلاگ،، کا راستہ نکالا جائے کیونکہ بیانات، سیاسی سکورنگ ، الزامات، تحفظات اور مقدمات کے اثرات صرف تقاریر سے دور نہیں ہوں گے البتہ تلخیاں بڑھ سکتی ہیں لہذا حکومتی ذمہ داروں اور اپوزیشن دونوں کو جمہوری ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف ایک سے زیادہ مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر آ نے کی دعوت دے چکے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش نہ کرے بلکہ ملک و قوم کے اجتماعی مفاد میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا جائے کیونکہ سیاسی استحکام آ ئے گا تو معاشی بحران کے لیے بھی آسانیاں جنم لیں گی اس لیے قومی مفاد میں وزرا اور اپوزیشن ارکان گالیوں اور تالیوں سے پرہیز کریں، جمہوریت۔۔۔ رواداری، صبر و استقامت اور ایک دوسرے کا احترام مانگتی ہے، اختلاف رائے بھی اس کا حسن شمار کیا جاتا ہے لیکن جب اختلاف رائے کو دشمنی تصور کر لیا جائے تو پھر صرف تلخیاں رہ جاتی ہیں جو اس وقت ہمارا مقدر بنی ہوئی ہیں۔ اس کا ازالہ سب کو مل کر باہمی مشاورت سے ہی کرنا ہوگا ورنہ ہم تلخیاں، گالیاں اور تالیاں بجاتے اپنی منزل سے دور ہو جائیں گے اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔






