#کالم

اقبال کا شاہین؛ خودی، بلند پروازی اور خود اعتمادی کا استعارہ

rafeh s

رفیع صحرائی

معروف ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر منور ہاشمی نے ایک انٹرویو کے دوران بڑی خوب صورت بات کہی تھی کہ ” اقبال نے شاعری نہیں کی، فیصلے لکھے ہیں” علامہ محمد اقبال کی شاعری محض الفاظ کا خوب صورت مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ حیات، ایک انقلابی پیغام اور ایک ایسی فکری تحریک ہے جو انسان کو پستی سے بلندی، مایوسی سے امید اور غلامی سے آزادی کی طرف لے جاتی ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں مختلف علامتوں اور استعاروں کے ذریعے مسلمان نوجوانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلائی۔ ان علامتوں میں سب سے نمایاں اور مو¿ثر علامت ”شاہین“ ہے۔ اقبال کا شاہین محض ایک پرندہ نہیں بلکہ خودداری، خود اعتمادی، بلند نظری، آزادی، جرا?ت، خودی اور مسلسل جدوجہد کا پیکر ہے۔ اقبال اپنے نوجوانوں کو اسی شاہین کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے جو آسمان کی وسعتوں کو اپنی پرواز کا میدان بناتا ہے اور کبھی پستیوں میں بسیرا نہیں کرتا۔سوال یہ ہے کہ اقبال نے شاہین ہی کو اپنی شاعری کا مرکزی استعارہ کیوں بنایا؟ اس کی بنیادی وجہ شاہین کی وہ فطری خصوصیات ہیں جو اقبال کے فلسفہ خودی سے مکمل مطابقت رکھتی ہیں۔ شاہین بلند پرواز ہے، آزاد فطرت ہے، غیرت مند ہے، تنہائی پسند ہے، اپنے رزق کے لیے محنت کرتا ہے اور کسی دوسرے کے چھوڑے ہوئے شکار پر گزارا نہیں کرتا۔ وہ اپنے لیے بلند مقامات کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کی نگاہ دور تک دیکھتی ہے اور اس کا ہدف ہمیشہ بلند ہوتا ہے۔ یہی وہ صفات ہیں جنہیں اقبال مسلمان نوجوانوں کی شخصیت کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔شاہین کی سب سے بڑی خوبی اس کی بلند پروازی ہے۔ وہ زمین کی محدود وسعتوں میں محصور رہنے کے بجائے آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتا ہے۔ اقبال بھی نوجوانوں کو محدود سوچ، چھوٹے مقاصد اور معمولی خواہشات سے بلند ہو کر بڑے خواب دیکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک نوجوان وہ نہیں جو حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے بلکہ وہ ہے جو مشکلات کو اپنی قوتِ ارادی سے شکست دے کر منزل کی طرف بڑھتا رہے۔ اقبال کا پیغام ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرے اور اپنی منزل کا تعین دوسروں کی خواہشات کے بجائے اپنی فکری بصیرت سے کرے۔شاہین کی دوسری اہم صفت آزادی ہے۔ وہ کسی پنجرے میں قید رہنا پسند نہیں کرتا۔ اس کی زندگی کا حسن آزاد فضاو¿ں میں ہے۔ اقبال بھی غلامی کو انسان کی شخصیت اور قومی وقار کے لیے زہرِ قاتل سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ذہنی غلامی، فکری غلامی اور دوسروں کی اندھی تقلید بھی جسمانی غلامی سے کم خطرناک نہیں۔ وہ نوجوانوں کو ایسی سوچ سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں جو انہیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے سے روکتی ہے۔ اقبال کا شاہین کسی کے سہارے جینے کے بجائے اپنے بازوو¿ں پر بھروسا کرتا ہے۔شاہین کی ایک اور نمایاں خصوصیت خود انحصاری ہے۔ وہ اپنا شکار خود کرتا ہے اور اپنی قوت و مہارت سے رزق حاصل کرتا ہے۔ اقبال اسی صفت کو انسانی زندگی میں خودداری اور محنت کی علامت بناتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں جو دوسروں کی امداد، قرضوں اور سہاروں پر مستقل انحصار کرنے لگیں۔ اقبال کے شاہین بننے کے لیے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تعلیم، ہنر، تحقیق اور محنت کے ذریعے اپنے پاو¿ں پر کھڑے ہوں۔ دوسروں کے دستِ نگر بننے کے بجائے اپنے علم اور صلاحیت سے اپنی اور اپنے وطن کی تقدیر بدلیں۔اقبال کے شاہین کی ایک اہم صفت اس کا آشیانہ نہ بنانا بھی ہے۔ شاہین پہاڑوں کی چٹانوں اور بلند مقامات پر عارضی قیام کرتا ہے، اسے آرام و آسائش کی مستقل زندگی پسند نہیں۔ اقبال شاہین کے ذریعے نوجوانوں کو عیش پسندی، آرام طلبی اور بے عملی سے بچنے کا درس دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی مسلسل حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔ جو قومیں آسائش کو اپنا مقصد بنا لیتی ہیں، ان کی تخلیقی قوتیں ماند پڑ جاتی ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے انہیں اپنی تربیت اور ترقی کا ذریعہ بنائیں۔اقبال نے شاہین کی تنہائی پسندی کو بھی ایک خاص معنویت دی ہے۔ اس سے مراد معاشرے سے لاتعلقی یا لوگوں سے دوری اختیار کرنا نہیں بلکہ اپنی انفرادیت، خودی اور فکری آزادی کو برقرار رکھنا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ نوجوان ہجوم کی اندھی پیروی نہ کریں بلکہ اپنے ضمیر، علم اور اصولوں کی روشنی میں فیصلے کریں۔ وہ بھیڑ کا حصہ بننے کے بجائے اپنی الگ شناخت قائم کریں۔اقبال کا تصورِ شاہین محض جسمانی طاقت اور بلند پروازی تک محدود نہیں۔ اس میں علم، کردار، اخلاق، عشقِ حقیقی اور مقصدِ زندگی بھی شامل ہیں۔ اقبال کے نزدیک حقیقی شاہین وہ ہے جس کی پرواز بلند ہو مگر اس کے کردار میں عاجزی، دل میں انسانیت اور عمل میں دیانت داری ہو۔ وہ اپنی قوت کو کمزوروں کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ حق و انصاف کے قیام کے لیے استعمال کرے۔ اسی لیے اقبال کا شاہین محض طاقت ور نہیں بلکہ صاحبِ کردار بھی ہے۔آج جب ہم اپنے معاشرے کے نوجوانوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اقبال کے تصورِ شاہین کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ بے روزگاری، مایوسی، سفارش، اقربا پروری، ذہنی غلامی، سوشل میڈیا کی غیر ضروری مصروفیات اور شارٹ کٹ کے رجحانات نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی منزل کا تعین کرنے کے بجائے دوسروں کی کامیابیوں سے مرعوب ہو کر اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں۔ ایسے حالات میں اقبال کا پیغام انہیں اپنی پہچان، اپنی قوت اور اپنے مقصد کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتا ہے۔اقبال کا شاہین دراصل ایک مکمل انسان اور ایک خوددار قوم کا خواب ہے۔ وہ نوجوانوں کو ماضی کی عظمت پر فخر کرنے کے ساتھ حال کو سنوارنے اور مستقبل کو روشن بنانے کا درس دیتے ہیں۔ ان کا پیغام آج بھی اتنا ہی تازہ اور توانا ہے جتنا ایک صدی پہلے تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اقبال کو صرف تقریبات، تقاریر اور اشعار تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کے فلسفے کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اقبال کا شاہین ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اپنی خودی پہچانو، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرو، محنت کو شعار بناو¿ اور منزل کتنی ہی دور کیوں نہ ہو، پرواز جاری رکھو۔ کیونکہ جو نوجوان شاہین کی طرح بلند پرواز ہونے کا عزم کر لیتے ہیں، وہ حالات کے رحم و کرم پر نہیں رہتے بلکہ تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔ یہی اقبال کے خواب کی تعبیر اور ایک باوقار، خوددار اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے۔

اقبال کا شاہین؛ خودی، بلند پروازی اور خود اعتمادی کا استعارہ

کہانی، سفر اور سر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے