#کالم

علامہ اقبال کا تصورِ تقدیر

shaid bukhari

شاہد بخاری

جس طرح ایک استاد کے علم میں ھوتا ھے کہ شاگرد P
پڑھاکو اور محنتی ھے،اس لیے پاس ھو جائے گا۔اور جو N محنت وغیرہ نھیں کر رھا،وہ فیل ھو جائے گا،اسی طرح ھمارے تخلیق کار کو ھمارے بارے میں علم ھے اور اس نے اپنے پاس لوح محفوظ میں لکھ کر رکھا ھوا کہ کار خیر کی بدولت J جنتی ھے اور D دوزخی ہے۔جنت دوزخ ان کی تقدیر میں نھیں بلکہ تدبیر میں ہے:
عمل سے زندگی بنتی ھے،جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ھے،نہ ناری ھے
علامہ اقبال کی ایک فارسی رباعی بعنوان”تقدیر و تد بیر”کے آخری دو مصرعوں کا مفھوم یہ ھے کہ پوپ کہتا ھے کہ "تم مسلمانوں کو تقدیر نے مارا اور ھم یورپ والوں کو تدبیر نے تباہ کیا”۔مسلمان اس لیے تباہ و برباد اور ذلیل و خوار ھوئے کہ انھوں نے تدبیر سے منہ موڑ کر اپنی بے عملی کو تقدیر کا نام دے دیا۔اور تقدیر پر بھروسہ کر کے ” ھاتھ پہ ھاتھ دھرے
منتظر فردا ھیں”
حالاں کہ قرآن مجید کی سورہ نمبر 53 النجم کی آ یت نمبر 39میں ھے کہ
انسان کو وھی ملے گا،جس کی اس نے دنیا میں کوشش کی
اھل یورپ اس لیے تباہ ھوئے کہ انھوں نے تقدیر سے
منہ موڑ کر اپنی تدبیر کو ھی سب کچھ سمجھ لیا اور اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھتے ھوئے خدا سے بیگانہ ھو گئے۔علامہ نے اس رباعی میں پوپ کی زبانی جبرو اختیار کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ھوئے،انسانی زندگی میں تدبیر اور تقدیر دونوں کا مقام واضح کیاہے۔ انسان اس د±نیا میں نہ تو مجبور محض ھے اور نہ ھی مختار مطلق بلکہ ایک لحاظ سے مجبور بھی ھے اور ایک
لحاظ سے مجبور بھی ھے اور ایک لحاظ سے مختار بھی۔ ایک حدیث کے مطابق” ایمان، جبر و قدر کے درمیان ہے”۔
ایک یہودی نے رسولِ پاک کو نیچا دکھانے کے لیے پو چھا،کیا اس کھجور
کا کھانا میری تقدیر میں ھے؟اگر آپ فرما دیتے،ھے تو وہ کسی اور کو دے دیتا۔بصورت دیگر،
وہ کھجور کھا لیتا۔
آپ نے فرمایا”تیرا عمل ھی تیری تقدیر ھے۔”
مسلمانوں نے تقدیر پرستی کو جس طرح اپنی بے عملی، ترک دنیا بلکہ غیروں کی محکومی کا جواز بنایا ھے،اس کی طرف علامہ نے جگہ جگہ اشارے کیے ھیں۔ضرب کلیم کی نظم”تن بہ تقدیر
میں لکھا ھے کہ "
اسی قرآن سے ھے اب ترک جہاں کی تعلیم
جس نے مو من کو بنایا مہ و پرویں کا امیر
تن بہ تقدیر ھے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارا
دوں میں خدا کی تقدیر
نظم” تقدیر” میں ھے کہ کبھی کبھی نا اہل اور نا لائق کو قوت و طاقت حاصل ھو جاتی ھے اور با کمال ذلیل وخوار پھرتے نظر آتے ھیں لیکن اس حقیقت کی طرف بہت کم کی نظر جاتی ھے کہ تقدیر کی: ھر لحظہ ہے قو
موں کے عمل پر نظر اس کی(تقدیر کی)
براں صفت تیغ دو پیکر نظر اس کی
یعنی جو قومیں جد و جہد میں سرگرم عمل رھتی ھیں،وہ یقیناً ترقی کرتی ھیں۔ حق و انصاف سے روگردانی کرنے والوں کا عروج جلد ختم ھو جاتاہے۔نہ تدبیر کو ترک کرکے تقدیر پر بھروسہ کر کے بیٹھے رھنے سے کچھ حاصل ھو سکتا ھے اور نہ ھی مشیت الٰہی سے قطع تعلق کر کے محض تدبیر سے بات بن سکتی ھے۔
مسلمان اس لیے تباہ ھوئے کہ انھوں نے تقدیر پرستی کے غلط تصور کا سہارا لے کر بے عملی اور ترک دنیا کو اختیار کر کے تدبیر اور جد
و جہد سے کنارہ کشی کر لی۔
اقبال میکانیاتی طریق کار پر یقین نھیں رکھتے۔ان کے خیال میں انسان اپنے عمل میں ایک حد تک آزاد ھے۔ :
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ھے پابند
علامہ کے نزدیک تقدیر،ستاروں کی مدد سے معلوم نھیں ھو سکتی :
ستارہ کیا میری تقدیر کی خبر دے گا
کہ وہ خود فراخی افلاک میں ھے خوار و زبوں
انسان کے کردار کی قوت سے ھی تقدیر کی تشکیل ہو سکتی ہے : بنتے ہیں مری کارگہ فکر میں انجم
لے اپنے مقدر کے ستارے کو تو پہچان
کافر ھے تو ہے تابع تقدیر مسلماں
مومن ھے تو وہ آ پ ھے تقدیر الہٰی
عبث ھے شکوہ ئ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ھے؟؟
انسان اپنی تخلیقی قوت سے حالات کو اپنے مطابق ڈھال سکتا ھے اور اپنی قوت کردار سے اور جوش حیات سے اللہ کو آمادہ کر سکتا ھے کہ وہ اس کی تقدیر کو بدل دے : خودی کو کر بلند اتنا کہ ھر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟
کم حوصلہ لوگ،کم حوصلگی کی وضا حت میں،تقدیر کو جواز بناتے ھیں،لیکن علامہ کے نزدیک ایسا کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے:
توڑ ڈالے گی یہی خاک طلسم شب و روز
گرچہ الجھی ھوئی تقدیر کے پیچاک میں ھے..۔
پھر بے عملوں کو سمجھاتے ھیں کہ:
یہ گھڑی محشر کی ھے تو عرصہئ محشر میں ھے
پیش کر غافل عمل کوئی، اگر دفتر میں ہے
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو یہ سبق دیا ہے کہ تمھیں عروج صرف اس صورت میں حاصل ھو سکتا ھے جب تمھاری زندگی کا ایک رخ تقدیر اور دوسرا رخ تدبیر کا ترجمان ھو۔تقدیر کے ساتھ تدبیر لازمی ہے۔نہ تدبیر کو ترک کر کے تقدیر پر بھروسہ کر کے بیٹھے رھنے سے کچھ حاصل ھو سکتا ھے اور نہ مشیت الٰہی سے قطع تعلق کر کے محض تدبیر سے بات بن سکتی ھے۔
پروفیسر ڈاکٹر اقبال کے مطابق
"علامہ اقبال کے نزدیک دعا مضبو
طی کا باعث ھوتی ھے۔لیکن وہ یہ نہیں چاہتے کہ جب قیام کا وقت ھو تو سجدے میں جھک جائیں بلکہ عمل کیا جائے جو ان کے نزدیک نسخہئ کیمیائ ھے۔یہی وجہ ھے کہ وہ تقدیر کو انسان کے لیے مجبو
ری کا باعث نھیں سمجھتے بلکہ تقدیر تو ایک اندازہ ھے جسے انسان بدل بھی سکتا ہے۔اللہ کے پاس بھت سے اندازے ھیں،یعنی بھت سی تقدیریں ھیں، انسان کے عمل کی جو نوعیت ھو ویسی ھی تقدیر اسے مل جاتی ھے۔
اگر کوئی دوران عمل جمود کا شکار ھو جائے تو وہ پتھر کا بن جاتا ھے۔ اگر وہ اپنے عمل کو تیز تر کر دے تو وہ حیات جاودانی حاصل کر لیتا ھے”۔
خودی سے اس طلسم رنگ وبو کو توڑ سکتے ہیں
یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے