#کالم

یومِ اقبال 2026…. مضبوط پاکستان اور مضبوط فوج

abdul basit

عبد الباسط علوی

یومِ اقبال 2026 پاکستان کے لیے علامہ محمد اقبال اور ایک مضبوط، آزاد اور بااعتماد مسلم قوم کے ان کے وڑن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک موقع ہے۔ 2025 میں بھارت کے خلاف معرکہ? حق میں فتح پاکستان کے عسکری اعتماد اور علاقائی وقار میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ پاک فوج نے، فضائیہ، بحریہ، میزائل سسٹمز اور سائبر یونٹوں کی مدد کے ساتھ، تمام محاذوں پر باہمی ہم آہنگی، شجاعت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیابی نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں سے متعلق تصورات کو چیلنج کیا اور قومی یکجہتی کو مضبوط کیا۔ عوامی جشن مسلح افواج کے لیے عوام کے فخر اور اظہارِ تشکر کی عکاسی کرتا تھا۔ ملک کا دفاع کرنے کے علاوہ فوج نے خطرناک علاقوں میں استحکام بحال کرنے میں مدد کی، قدرتی آفات کے دوران سویلین اداروں کا ساتھ دیا اور معاشی ترقی کے لیے ضروری حالات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کیا۔ پاکستان کا بڑھتا ہوا سفارتی اثر و رسوخ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکراتِ امن میں اس کے سہولت کار کے کردار سے بھی واضح ہے، جس میں اسے سعودی عرب، ترکی اور مصر کی حمایت حاصل تھی۔ عسکری قوت کا مظاہرہ کرنے اور فتح کے بعد مکالمے کا راستہ منتخب کرنے کے بعد پاکستان نے عالمی سطح پر نمایاں توجہ حاصل کی ہے اور علاقائی امن کے لیے کوشاں ایک ممکنہ ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات نازک مرحلے میں ہیں، مگر یہ کردار ملک کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور ضبط و تحمل، ذمہ داری اور حکمتِ عملی کی فہم و فراست کی قدر و قیمت کو ظاہر کرتا ہے۔پاکستان کی دفاعی شراکت داریاں علاقائی سیکیورٹی اور دفاع میں اپنا حصہ ڈالنے کے اس کے عزم کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔ اگست 2026 میں سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ باہمی دفاع، مشترکہ منصوبہ بندی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور فوری جوابی کارروائی پر مبنی ایک اجتماعی سیکیورٹی فریم ورک قائم کرتا ہے۔ اس کا یہ اصول کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام اراکین سے متعلق تصور ہوگا، اجتماعی تحفظ کے باہمی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دوحہ میں ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے ساتھ طے پانے والے "بدر ایم او یو” کا مرکز مشترکہ دفاعی پیداوار، تحقیق، مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے۔ اس کا مقصد غیر ملکی سپلائرز پر انحصار کو کم کرنا اور مسلم ممالک کے درمیان ایک مشترکہ صنعتی بنیاد قائم کرنا ہے۔ اگرچہ ان طویل المدتی اقدامات کے مکمل فوائد حاصل ہونے میں سالہا سال لگیں گے، لیکن یہ سیکیورٹی محض حاصل کرنے کے بجائے اسے پیدا کرنے والا ملک بننے کے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ اپنی پیشہ ورانہ مسلح افواج، سفارتی اقدامات اور سائنسی تعاون کے ساتھ مل کر ان شراکت داریوں نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو مضبوط کیا ہے۔ یہ علامہ اقبال کے فلسفہ? خودی کی بھی عکاسی کرتی ہیں، جو خود اعتمادی، وقار، آزادی اور اندرونی طاقت کو فروغ دیتا ہے۔ یومِ اقبال پر قوم اپنی کامیابیوں کا جشن مناتی ہے، ان کے پیچھے دی گئی قربانیوں کو یاد کرتی ہے اور اقبال کے افکار و نظریات کے ساتھ اپنے عزم کی تجدید کرتی ہے۔ حتمی مقصد ایک ایسا خودمختار اور ذمہ دار پاکستان ہے جو اپنے لوگوں کا دفاع کر سکے، مظلوموں کی حفاظت کر سکے، بغیر کسی جارحیت کے امن کو فروغ دے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے اتحاد، اعتماد اور لچک کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ان تمام پیش رفتوں نے علامہ اقبال کو بے حد مسرور اور مطمئن کیا ہوتا۔ انہوں نے مسلم امت کی بیداری کے بارے میں لکھا تھا، انہوں نے مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا تھا، انہوں نے علم و ٹیکنالوجی کی اہمیت پر قلم اٹھایا تھا، انہوں نے ایمان کی طاقت اور محنت کی عظمت و توقیر کے بارے میں تحریر کیا تھا اور انہوں نے ایک غیور سپاہی کی شجاعت و بسالت کے نغمے گائے تھے۔ ان کی شاعری شاہین اور عقاب کی تمثیلوں سے لبریز ہے۔ انہوں نے ان استعاروں کو مسلم نوجوانوں کے بلند مقاصد اور عزمِ عالی کی نمائندگی کے لیے استعمال کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان بڑے خواب دیکھیں، انتھک محنت کریں اور قوم کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر دیں۔ آج کی پاک فوج ان تمام تر آرزوو¿ں کا ایک زندہ و جاوید مجسمہ ہے۔ معرکہ? حق میں لڑنے والے سپاہی صرف کسی زمین کے ٹکڑے کا دفاع نہیں کر رہے تھے، بلکہ وہ ایک عظیم نظریے کا دفاع کر رہے تھے۔ وہ اس نظریے کی حفاظت کر رہے تھے کہ مسلمان مضبوط اور مکمل طور پر خودمختار ہو سکتے ہیں۔ وہ اس تصور کی پاسبانی کر رہے تھے کہ ایمان پر قائم ہونے والی قوم ایک جدید اور ترقی پسند ریاست بھی بن سکتی ہے۔ وہ اس خیال کا دفاع کر رہے تھے کہ پاکستان دنیا کی اقوام کے درمیان اپنا جائز اور باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فتح اتنی اہمیت کی حامل تھی۔ یہ محض ایک جغرافیائی یا عسکری فتح نہیں تھی بلکہ یہ روح اور نظریے کی اتنی ہی عظیم فتح تھی۔یومِ اقبال 2026ءکے اس عظیم موقع پر قوم کو ان تمام قربانیوں کو لازماً یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے اس طاقت کو ممکن بنایا۔ معرکہ? حق اور دیگر تمام ٹکراو¿ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدائ نے یہ سب کچھ اپنی ذاتی شہرت کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ انہوں نے یہ عظیم قربانی ملک کے لیے، روشن مستقبل کے لیے اور اس خواب کے لیے دی جو اقبال نے دیکھا تھا۔ ان کے اہل خانہ ہماری دل کی گہرائیوں سے شکرگزاری کے مستحق ہیں اور ان کے بچوں کو ہماری کامل حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ قوم کو ان عام شہریوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جنہوں نے مسلح افواج کا ہر موڑ پر ساتھ دیا۔ وہ ڈاکٹر جنہوں نے زخمیوں کا علاج کیا، وہ انجینئرز جنہوں نے سامان اور آلات کی مرمت کی، وہ مزدور جنہوں نے کارخانوں کو مسلسل فعال رکھا، وہ کسان جنہوں نے اناج اگایا اور وہ اساتذہ جنہوں نے نئی نسل کی تربیت کی۔ کسی قوم کی اصلی طاقت صرف اس کی فوج میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے عوام میں ہوتی ہے۔ پاکستان اس لیے مضبوط ہے کیونکہ اس کے عوام مضبوط اور پرعزم ہیں۔ پاکستان اس لیے بااثر ہے کیونکہ اس کے لوگ متحد ہیں۔ یہی اتحاد اس ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہے جسے ہر قیمت پر محفوظ رکھنا اور پروان چڑھانا ضروری ہے۔اس لیے سال 2026ءپاکستان کے لیے بے پناہ فخر اور سر بلندی کا سال ہے۔ یہ ملک ایک سخت اور دشوار گزار دور سے گزر کر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ فوج نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، سفارت کاروں نے عالمگیر احترام حاصل کیا ہے، دفاعی معاہدوں نے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں اور ثالثی کے کردار نے ملک کے وقار کو بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ قوم درست سمت میں گامزن ہے۔ اگرچہ آگے اب بھی کچھ چیلنجز موجود ہیں؛ معیشت کو مزید تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، صحت کے شعبے کو مزید وسائل درکار ہیں اور سیاسی نظام میں مزید استحکام کی ضرورت ہے، لیکن ان تمام چیلنجز پر کامیابی سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان پر قابو اس لیے پایا جا سکتا ہے کیونکہ اب بنیادی ڈھانچہ اور بنیادیں بے حد مضبوط ہو چکی ہیں۔ یہ بنیاد مسلح افواج کی ناقابلِ تسخیر طاقت ہے، یہ بنیاد عوام کا محکم اتحاد ہے اور یہ بنیاد اقبال کی روشن فکر اور وڑن ہے۔ وہ فکر آج بھی قوم کی رہنمائی کر رہی ہے، وہ فکر آج بھی نوجوانوں کو نئے عزم بخش رہی ہے اور وہ فکر آج بھی ہمارے مستقبل کو تراش رہی ہے۔علامہ اقبال کی روح آج کے دن یقیناً شادماں ہو گی۔ وہ ایک ایسے پاکستان کو دیکھ رہے ہوتے جو اپنے دشمنوں سے خائف نہیں ہے، وہ ایک ایسے پاکستان کو دیکھ رہے ہوتے جو اپنی سیکیورٹی کے لیے دوسروں کا محتاج نہیں ہے، وہ ایک ایسے پاکستان کو دیکھ رہے ہوتے جو دیگر اقوام کو امن کی راہ دکھانے میں مدد کر رہا ہے، وہ ایک ایسے پاکستان کو دیکھ رہے ہوتے جو اپنے مسلم بھائیوں کے ساتھ مضبوط دفاعی شراکت داریاں قائم کر رہا ہے، وہ ایک ایسی پاک فوج کو دیکھ رہے ہوتے جو پیشہ ور، باہم منظم اور ایماندار ہے اور وہ ایک ایسی قوم کو دیکھ رہے ہوتے جس نے خودی کے پیغام کو بنیاد بنا کر ترقی کی شاہراہ پر قدم بڑھا دیے ہیں۔ یہی یومِ اقبال 2026ئ کا حقیقی جشن ہے۔ یہ ایک تعبیر شدہ خواب کا جشن ہے، یہ ایک مضبوط اور بااثر پاکستان کا جشن ہے اور یہ ایک پرفخر اور پرعزم پاک فوج کا جشن ہے۔ قوم کامل اعتمادی کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھ سکتی ہے۔ شاعر کا خواب ایک زندہ حقیقت بن چکا ہے، یہ سفر جاری و ساری ہے، لیکن سمت بالکل واضح ہے، منزل روشن ہے اور پوری قوم ایک ساتھ مل کر آگے بڑھ رہی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے