خط بنام وزیراعظم کشمیر : خود بدلیں گے یا کشمیر؟
نعیم مسعود
اجی، خوب تو آپ ہیں! پچھلے وزیراعظم بھی تھے۔ اس سے پچھلے بھی ، بلکہ سارے ہی—— ہاں، آپ سے ہم کلام ہونے کا موقع بھی ملا جب آپ وزیرِ تعلیم تھے۔ اجی، گفتگو تو صدر آزاد جموں و کشمیر سے بھی ہوئی تھی، لیکن ، اس وقت وہ کشمیر کی صحت کا قلم دان سنبھالنے ہوئے تھے۔ نہیں، آپ اس وقت کیسے ماہتاب و آفتاب تھے ، یہ وجہ خط نہیں ہے۔ وجہ خط اور وجہ تحریر کا پس منظر اور پیش منظر یہ ہے کہ اب کیسے ہوں گے؟ ہاں، وہ یاد قبلہ چیف سیکرٹری سے پانچ چھ ماہ قبل بات ہوئی تھی ، میرے ساتھ سابق وزیر مملکت چوہدری جعفر اقبال بھی تھے جنہیں زعم تھا کہ چیف سیکرٹری سے وہ اس وقت کے آشنا ہیں جب موصوف عزیز تھے اور سی ڈی اے میں۔ مگر مجھے کھٹکا کہ کہ وہ کبھی سی ڈی اے میں تھے تو کیا ہی ہوں گے۔ دماغ میں یہ سب کھٹکنے اور دل دھڑکنے کا سبب یہ تھا کہ ان دنوں مابدولت وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان ٹاک آف دی ٹاون تھا کہ : "اس سے مشکل ادارہ کوئی نہیں، سی ڈی اے میں مجھے بھی کام ہوگا تو 10 لاکھ دوں گا تو کام ٹھیک ہوگا” حالانکہ نقوی سرکار اسلام آباد کے حوالے سے رانی توپ سی قوت کے حامل ہیں۔ اس لئے چیف سیکرٹری کے حوالے سے میرا حسنِ ظن پیوندِ خاک ہو گیا۔ ریفرنس تو میرے ہمدمِ دیرینہ کے پاس امیر مقام کا بھی تھا لیکن وہ بھی بےسود تھا اور یہ میرے من میں تھا ، میرے رفیق چوہدری جعفر اقبال کا تعلق گہرے نظریات سے رہا ہے اور ظلِ الہٰی امیر مقام کا فقط سیاسیات سے، اور پرویز مشرف اور ق لیگ سے ن لیگ تک کی ٹرانسفارمیشن کا سلسلہ جاریہ کا تعلق ہے کوئی نظریاتی بندن نہیں۔
جنابِ وزیراعظم!
ہم نے لاہور سے رختِ سفر ایک جائز کام اور میرٹ کی بالادستی کا باندھا تھا۔ ہو سکتا ہے ہماری مسافت کے پیچھے ناجائز کام ہوتا تو ہم سب سرخرو ہو جاتے۔ اس وقت کے وزیراعظم کو ملے نہیں کہ ملنا فضول تھا ، وہ الگ بات ہے کہ ہمارے ایک مہربان دوست نے آپ سے پہلے کے وزیراعظم کے کان سے ہماری جستجو اور خواہش نکال بھی دی ، اور وزیراعظم آفس سے ہمارے مہربان اور مخلص دوست کو میٹھی گولی ملی۔ ہمارے ہاں سنٹرل پنجاب میں ایک جدید پنجابی محاورہ ہے ” گولی کرانا” لیکن یہی سیاست کی دنیا میں "میٹھی گولی کھلانا” ہے، جس کا عام فہم ترجمہ ہے کہ "کھایا پیا کچھ نہ ، گلاس توڑا بارہ آنے”۔ بات لمبی کیا کرنی ، قصہ مختصر آپ پہلے تو اپنا وائس رائے بدلیے ، آپ "خوش حالی” کی جتنی بھی کوشش کرلیں خوش حال ہو نہیں سکتے لہذا بہتر نہیں کہ آپ اور تبدیلی لائیں یا نہ لائیں "خوشحال” ہونے یا رکھنے کی خوش فہمی سے نکلنے ، اللہ بھلا کرے گا۔ اگر میاں نواز شریف اور مریم نواشریف انہونی کو ہونی کرکے حضور کو سربراہ حکومت بنا سکتے ہیں، تو باقیاتِ سی ڈی اے سے چھٹکارا بھی دلا سکتے ہیں۔ باقی ہو سکے تو پچھلے سیٹ اپ کا آئی جی بھی لگے ہاتھوں بدلوا لیجئے کہ جو اپنی ٹیم کا مزا ہے وہ مانگے تانگے کی یا باسی ٹیم کا مزا نہیں ، امیر ہیں ان کی امیری اور ان کا مقام بدلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا پس یہاں صبر جمیل کی ضرورت ہے، اور رہے گی۔
جناب وزیراعظم افتخار گیلانی!
آپ کوئی چھوٹے موٹے وزیراعظم نہیں ہیں، لہذا اپنے رشتہ داروں اور صرف کزن وزن کی مظفرآباد ہی میں تعیناتیوں کو فرض نہ جان لیجئے گا پورا کشمیر آپ کا ہے ، ہم تو ایک خاص نسبت سے مقبوضہ کشمیر بھی آپ ہی کا سمجھتے ہیں۔ سابق وزیر اعظم تعیناتیوں کے معاملہ میں مظفرآباد شہر اور حق داری و رشتہ داری کے تناظر میں حویلی اور حلقہ انتخاب سے باہر ہی نہیں نکلے تھے جس کے سائیڈ اور آفٹر افیکٹس یہ تھے کہ جیتے نہیں جتائے گئے! ہم نے سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سے بھی دست بستہ گزارش کی تھی کہ اپنے وزیر اعظم کشمیر کو فرمائیے کہ ان کے پاس اقتدار چار دن کی چاندنی ہے لہذا ” کوشش تو کریں” کہ میرٹ سے کبھی کبھار ہمکنار ہوا کریں کہ پارٹی اور ان کیلئے بہتر رہے گا۔ بہرحال پیپلزپارٹی کی ایک تعریف تو کرنی پڑے گی کہ وہ ن لیگ کی طرح روز موڈ کے مطابق بندے نہیں بدلتے, وہ الگ بات کہ سابق وزیراعظم کو وہ سب راس نہ آیا !
جنابِ وزیراعظم!
درویش کو کہاں معلوم تھا کہ آپ ہی وزیر اعظم ہوں گے ، ہم نے تو ایک پی ٹی وی ٹاک شو میں راجہ فاروق حیدر ہی کی پیش گوئی کی حالانکہ پینل کے نزدیک شاہ قادر پکے وزیراعظم تھے۔ دیگر میڈیا پر بھی درویش کا یہی مو¿قف ہوتا تھا۔ چلئے ، رب تعالیٰ کو آپ ہی منظور تھے ، ہمارا آپ کے حوالے سے ح±سنِ ظن بھی قائم ہے۔ بہرحال کشمیر کا اپنا ہی ایک کلچر ہے اور اپنا ہی مزاج مگر ہم زمانہ طالب علمی سے ایک بڑے گیلانی کے مرید ہیں ، اور وہ سید علی گیلانی تھے—— اب نظریں اس پر جمی ہیں کہ میاں نواز شریف کے گیلانی بطور وزیراعظم اپنے عوام کی صحت، تعلیم، ترقیات اور جنگلات سے کیا رویہ روا رکھتے ہیں۔ صرف بجلی کا سستا ہونا کافی نہیں، امور صحت میں میڈیکل ٹیچنگ اداروں اور ٹیچنگ اسپتالوں کو جدتیں درکار ہیں۔ ٹورزم کو توانائی اور یونیورسٹیوں انٹرنیشنلائزیش، کنسورشیم ڈویلپمنٹ، انٹرپرنیورشپ اور انٹر و ملٹی ڈسپلن کی جدتیں درکار ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کو کلچرل انڈسٹری کے سنگ ایک نیشنل انڈسٹریل لنک بھی درکار ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تشفی اور کم سِن بیوروکریسی کو بالغ نظری کے سنگ سنگ نظریاتی اطوار بھی درکار ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کو آپ نہیں آپ کی توجہ اور ویڑن درکار ہے، آپ نہ صرف فارن کوالیفائیڈ ہیں وزیر تعلیم بھی رہے! جو ہم سمجھے وہ یہ ہے کہ آپ جناب ، نومنتخب صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان اور اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق ایک بیدار مغز ٹرائیکا ہے جو چشمِ بینا کیلئے پرکشش ہے، گویا اس لئے پ±راثر کہ آپ تینوں روایات، جدید تعلیمات اور مثبت نفسیات کا وہ آمیزہ ہیں جو کورٹ کچہری، ٹیکنوکریسی و بیوروکریسی، بےروزگاری و آئین سازی، تعمیرات و جنگلات، بلدیات و برقیات میں ریفارمز لا سکتے ہیں، لوگوں کا آپ پر اعتماد بندھتا دکھائی دینے لگا ہے ، سو آپ لوگوں پر اعتماد کیجئے اور اعتماد دیجیے کہ یہی جمہوریت ہے اور عوامی افادیت. خدا کرے کہ اس ٹرائیکا کی نظریاتی بازگشت اقوام متحدہ تک پہنچے!






