#کالم

بختیار سیال کی 5 کتب کی رو نمائی

shaid bukhari

شاہد بخاری

ادارہ کتاب قبیلہ کےزیر اہتمام سابق جج بختیار علی سیال ایڈوکیٹ سپریم کورٹ کی 5کتب کی تقریب رونمائی لاھور ھائی کورٹ،کراچی شہداء ھال میں منعقد ہوئی،جس کی صدارت جسٹس(ر) حسنات احمد خان نے کی اور نظامت ہاشم مقصود اور منصور علی سیال ایڈووکیٹ نے عمدگی سے کی۔ تیمور علی سیال نے سپاس نامہ پیش کرتے ھوئے بتلایا کہ یہ میرے والد بھی ھیں اور استاد بھی، اور میری زندگی کا روشن حوالہ بھی،جوایم۔اے۔تاریخ۔سیاسیات اور اسلامیات ہیں۔بطور وکیل اورجج انھوں کبھی کوئی غلط کام نھیں کیا،جس سے ھمیں شرمند گی ھوتی ھو ہمیں ان پر فخر ھے۔یہ پانچوں کتب ان کے مشاھدات اور تجربات کا نچوڑ ھیں۔ شاہد بخاری راقم نے پانچوں کتب کا اختصاری جائزہ پیش کرتے ھوئے کہا کہ تحقیقی کتب پر کسی یونیورسٹی سے بختیار علی سیال صاحب کو Ph.D کی اعزازی ڈگری ضرور ملنی چاھیئے۔ ریٹائرڈ سیشن جج عابد حسین قریشی نے کہا کہ پروفیشنل وکیل کے لیے ایک کتاب بھی لکھنا محال ھوتا ھے،یہ دیدہ ریزی سے 5 کتب لکھ چکے ھیں۔”اھل قلم قانون دان” ریسرچ Based کتاب ھے۔ اسلم زار ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کہا کہ بختیار علی سیال، شکل سے جو پہلوان لگ تےھیں، ادب،تاریخ،تحقیق،شاعری اور وکالت کے بھی پہلوان ھیں۔اھل قلم قانون دان ریسرچرز کے لئے مفید ثابت ھو گی۔لاھور سے متعلق 784صفحات پر مشتمل کتاب ان کی تحقیق کا نچوڑ ھے۔جو لا ھور میں کشش ھےوہ کسی اور شہر میں نھیں۔قائد اعظم نے بھی یہاں گھر اور زرعی اراضی خریدی تھی۔عاطف محتشم خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ "اھل قلم قانون دان” کے حوالے سے پہلی ملاقات ان سے ھوئی۔اس میں 5 سو کے لگ بھگ وکیلوں کے حالات یکجا ھیں۔ گفتند نا گفتی میں سیال صاحب نے چھوٹے چھوٹے فقروں میں بڑی بڑی باتیں کہہ دی ھیں۔لاھور کے بارے میں ان کی کتاب منفرد ھے، جس میں تاریخ، تہذیب و ثقافت کے دریا کو،کوزے میں بند کر دیا گیا ھے۔ثنا ظھیر نے کہا کہ سیال صاحب کی پانچوں کتب ان کے مشاھدات و مطالعے کا نچوڑ ھیں۔ محمد نعیم چیف لائیبریرین G.Cیونیورسٹی نے کہا کہ میں نے سیال صاحب کو گھر میں بھی کتب کے درمیان دیکھا اور لائبریری میں بھی محو مطالعہ پایا،تب ھی” لاھور”198کتابیات کے حوالہ جات پر مشتمل ھے۔سنگا پورکی ترقی کا راز یہ ھے کہ اس کی مارکیٹوں اور پارکوں میں لائیبریریز یا ریڈنگ رومز موجود ھیں۔ چنگیز خان نے بغداد میں تمام کتب اسی لئیے نذر آتش کروا دی تھیں تاکہ مسلمان زوال آمادہ رھیں۔جسٹس(ر) ذوالفقار علی بخاری نے کہا کہ میں جھنگ کا رھنے والا ھوں،میرے بزرگوں نے سیالوں کو کلمہ پڑھایا اور کوٹ رادھا کشن کے جج نے مجھے لکھنے کی طرف لگا دیا۔وکیل کا رشتہ قلم وکتاب سے،سب سے زیادہ ھے کیوں کہ وہ ان کی مدد سے ھر کیس میں اپنی تخلیق پیش کرتاہے۔ جب تک الہامی کتب کے ماننے والے ھیں قلم کتاب کا رشتہ قائم رھے گا۔ مرزا منور نے کہا کہ بعس بختیاری کا ایک کتابچہ پڑھا بعد ازاں بعس بختیاری کی "سولی اور ساتواں جوگ” کا ابتدائیہ پڑھا،جس میں ڈاکٹر طارق عزیز نے لکھا ھے کہ بعس بختیاری کی شاعری اس صدمے سے جنم لیتی ھے جو احسا س کے کچلے جانے، انصاف کے مٹ جانے،ظلم کے رواج پانے اور انسان کے بے وقعت ھو جانے سے جاری وساری رھتا ھے۔جس پر سیال صاحب نے بھی اس مجموعے میں احتجاج کیایے۔ محمود الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ سیال صاحب کی پوری زندگی کی کمائی کی یہ تقریب ھے،آپ نیک نام منصف رھے،نڈر وکیل،نام ور شاعر و مصنف ھیں، جو عطیہئ خدا وندی ھے۔وکالت مظلوم کی آواز ھے،جس کا عکس سیال صاحب کی شاعری میں منعکس ھے۔ان کی کتب میں علم کا سمندر موجزن ھے، جو مشعل راہ ھے۔ ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ بختیار علی سیال، صاحب علم و مطا لعہ،محقق،کالم نگار ھیں۔قوس و قزح کے ساتوں رنگ ان کی کتب میں ھیں۔ لاہور پر انسائیکلو پیڈیا،ادارہ جاتی کام ھے۔”گفتند نا گفتی۔۔ع۔۔ "کچھ بھی نہ کہا،اور کہہ بھی گئے، کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے” کی تفسیر ھے۔یہ تقریب رونمائی تو کتاب میلہ لگ رھی ھے۔اللہ کرے شاہد بخاری ایڈوکیٹ کی درخواست بتاریخ 24.09.26کمشنر صاحب تک پہنچ چکی ھو تاکہ PHA لائیبریری Dبلاک، فیصل ٹاو¿ن کا افتتاح ھو سکے،جس کی منظوری D.Gصاحب PHA10.04.18کو دے چکے ھیں تاکہ اس سے اھل فیصل ٹاو¿ن و ٹاو¿ن شپ وغیرہ مستفید و مستفیض ھو کر سیال صاحب کی طرح کتب لکھ سکیں۔ ڈاکٹر سعود الحسن روھیلہ نے کہا کہ احمد خاں سیال ماضی میں جھنگ سیالاں کا ایک اہم اور آخری حکمران گزرا ھے، جنھوں نے رنجیت سنگھ کا مقابلہ کیا مگر ان کی شکست سے،جھنگ کی پنجاب میں قائم مسلمان راجپوتوں کی آخری ریاست ختم ھو گئ۔سیالوں کی ماہنی شاخ سے ایک مدد علی خاں سیال علاقے سے نقل مکانی کر کے انگریز ی ملازمت میں بطور نائب تحصیل دار سیلیکٹ ہوئے، انھیں کی اولاد میں سے خورشید عالم سیال،کوٹ رادھا کشن میں انگریزی کے معروف استاد تھے،ان کے فرزند بختیار صاحب ہیں، جن کے قلم کی جولانیاں عروج پر ھیں۔ان کی تصنیف اھل قلم قانون دان تقریباً 5سو وکلائ کے حالات پر مشتمل ھے۔لاھور سے متعلق سیال صاحب کی کتاب اور دیگر کتابوں میں فرق یہ ھے کہ انھوں نے قدیم دستاویزات سے تلاش کر کے نئی معلومات مستند حوالوں سے قلمبند کی ھیں۔ ڈاکٹر سعادت سعید نے سیر حاصل مقالہ پڑھتے ھوئے کہا کہ محترم بختیار سیال کی تحقیقی و تنقیدی کاوشوں کے موضو عات قانون، سیا ست،تاریخ، فکرو ادب کے دائرے میں سمٹ آتے ھیں۔ان کی کتاب”سولی اور ساتواں جوگ”جبر،سچائی اور مزاحمت کی نفسیات سے عبارت ھے۔”پنجاب اور مزاحمت کاری”ان کرداروں اور تحریکوں پر روشنی ڈالتی ھے جنھوں نے ھر دور میں پنجاب کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔”اہل قلم قانون دان”سے معلوم ھوتا ھے کہ قانون اور ادب کا باھمی تعلق ھمیشہ سے مضبوط رھا ھے۔یہ کتاب ان وکلائ کی خدمات کا احاطہ کرتی ھے، جنھوں نے اپنی پیشہ ورانہ سر گرمیوں کے ساتھ ساتھ فکری وادبی سطح پر بھی معاشرے کی راہنمائی کی۔”گفتند نا گفتی”کا عنوان ھی ان سچائیوں کی جانب اشارہ کناں ہے کہ جو کہی تو گئی ھیں لیکن ان کی معنویت کو پوری طرح نہ سمجھا جا سکا۔اس میں وہ تمام باتیں سمو دی گئی ھیں جو وقت اور حالات کے جبرکے باعث کبھی کہی جا سکیں اور کبھی نا گفتی رہ گئیں۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ سسٹم اور با رڈر لائین نواب ناظم میو پبلشر نے کتاب”لاہور”کے بیک ٹائیٹل پر لکھا ھے کہ ۔۔۔سیال صاحب نے آئین و قانون کی بالادستی کے ساتھ ساتھ قلم کی پاسبانی کا علم بھی اٹھا رکھا ھے۔انھوں نے تاریخ،ادب و ثقادر اور آئین وقانون پر جو کام کیا ھے،وہ انفرادیت کا حامل ھے۔ بختیار علی سیال صاحب نے کہا کہ جب سے ھوش سنبھالا،گھریلو ماحول کی بدولت کتب ورسائل میں اپنے کو پایا،اس لیے پہلا عشق کتاب سے ھے اور دوسرا عشق لائیبریری سے ھے۔”بانگ رحیل” 1976ئ میں لکھی، اھل سخن کی حوصلہ افزائی سے درسوزاں،لاھور از ابتدائ تا2017،”انسائکلوپیڈیا لاھوریکا،لکھنے کی اللہ نے تو فیق دی۔ "بخت خاں کی ڈائری "،فقرے فکرے” گفتند نا گفتی کی شکل میں چھپی۔محمد نعیم چیف لائیبریرین GCیونیورسٹی،ڈاکٹر روھیلہ صاحب اور معروف اشاریہ سازی شاہد حنیف کے تعاون کا بھی مشکور ھوں۔ کلمات صدارت میں جسٹس ( ر) حسنات احمد نے کہا کہ سب سپیکرز پانچوں کتب پر جو اظہار خیال کر چکے ھیں ان میں مزید اضافے کی گنجائش نھیںھے۔ "آنہ لائیبریری”ختم ھونے سے نئی نسل کتاب سے دور ھو چکی ھے۔خدا کرے ڈاکٹر فرید پراچہ کی دعا سے PHAلائیبریری Dبلاک فیصل ٹاو¿ن لاھور کا جلدافتتاح کمشنر صاحب کروا دیں تاکہ اس سے بھی لوگ استفادہ کر سکیں۔”شاہد بخاری

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے