#کالم

صدائے بازگشت۔۔۔ روح کے دروازے پر ایک خاموش دستک۔۔۔ایک ایسی کتاب جو پڑھی نہیں، محسوس کی جاتی ہے۔

Untitled 1

منشا قاضی

بعض کتابیں صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں؛ وہ انسان کے اندر اترنے والی ایک کیفیت ہوتی ہیں۔ کچھ کتابیں ذہن کو معلومات دیتی ہیں، کچھ دل کو جذبات سے آشنا کرتی ہیں، مگر کبھی کبھار کوئی ایسی کتاب بھی سامنے آتی ہے جو قاری کو اس کے اپنے وجود سے ملا دیتی ہے۔ ”Echoes of Rumi“ اسی نوع کی ایک روحانی اور باطنی کاوش ہے—ایک ایسی کتاب جسے صرف پڑھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے، جس کے صفحات آنکھوں سے زیادہ دل کے ذریعے پڑھے جاتے ہیں اور جس کی خاموشی اپنے اندر ایک مکمل مکالمہ رکھتی ہے۔یہ کتاب ظاہری دنیا کے شور سے نکل کر انسان کو اس خاموش و پ±رسکون وادی کی طرف لے جاتی ہے جہاں روح اپنے آپ سے سوال کرتی ہے، جہاں یادیں مراقبہ بن جاتی ہیں، سوال دعا کا روپ دھار لیتے ہیں اور خاموشی ایک ایسی زبان بن جاتی ہے جسے صرف دل سمجھ سکتا ہے۔ کتاب کا بنیادی سفر دراصل انسان کے باہر سے اندر کی طرف سفر ہے—ظاہر سے باطن، ہنگامے سے سکوت، سوال سے معرفت اور ذات سے حقیقت کی طرف۔”Echoes of Rumi“ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ قاری کو فلسفے کے بوجھ تلے دبانے کے بجائے اسے تجربے کی سطح پر روحانیت سے متعارف کراتی ہے۔ یہاں تصوف کسی پیچیدہ نظریاتی بحث کا نام نہیں بلکہ محبت، تنہائی، خاموشی، یاد، درد اور خود شناسی کے راستے پر چلنے کا نام بن جاتا ہے۔کتاب کا ہر باب گویا ایک نیا دروازہ کھولتا ہے۔ ایک دروازہ ماضی کی طرف جاتا ہے، دوسرا یادوں کی طرف، تیسرا فن اور جمالیات کی طرف، اور پھر کوئی دروازہ اچانک انسان کو اس کے اپنے باطن کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ یوں قاری محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص کی داستان نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنے ہی وجود کے ان حصوں کو دریافت کر رہا ہے جنہیں روزمرہ زندگی کے شور نے کہیں پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب محض ”کتاب“ نہیں رہتی بلکہ ایک روحانی تجربہ بن جاتی ہے۔مولانا جلال الدین رومی کی فکر صدیوں کا سفر طے کرکے آج بھی انسانی دل کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ رومی کی عظمت اس بات میں نہیں کہ انہوں نے صرف محبت کی بات کی، بلکہ اس میں ہے کہ انہوں نے محبت کو انسان کے باطن کی تبدیلی کا وسیلہ بنایا۔ ان کے ہاں عشق محض جذبہ نہیں؛ یہ ایک ایسی آگ ہے جو انسان کے اندر موجود غیر ضروری پردوں کو جلا کر حقیقت کو نمایاں کرتی ہے۔”Echoes of Rumi“ میں رومی اسی معنوں میں ایک تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ روحانی موجودگی کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ مصنف عمر فاروق فاروقی نے رومی کے افکار کو محض نقل یا تشریح کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انہیں اپنے ذاتی تجربے، یادوں اور داخلی احساسات کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسی آواز پیدا کی ہے جو بیک وقت رومی سے متاثر بھی ہے اور اپنی شناخت بھی رکھتی ہے۔مصنف نے رومی کے الفاظ کو صرف سمجھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کی روح کو اپنے تجربے میں جذب کیا ہے۔ چنانچہ رومی یہاں کسی دور کے شاعر یا صوفی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ہم سفر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جو قاری کے ساتھ خاموشی میں چلتا ہے۔کتاب میں مصنف کے بچپن کی یادیں اور ان کے والد کا فنی ورثہ ایک اہم معنوی جہت پیدا کرتے ہیں۔ یادداشت یہاں محض ماضی کی محفوظ تصویریں نہیں بلکہ ایک روحانی وسیلہ بن جاتی ہے۔انسان جب اپنے ماضی کی طرف دیکھتا ہے تو بسا اوقات اسے صرف گزرے ہوئے واقعات نظر آتے ہیں، لیکن گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو ماضی انسان کی تشکیل کا آئینہ ہوتا ہے۔ بچپن کی آوازیں، چہرے، مناظر، والدین کی محبت، فن کے رنگ اور زندگی کے ابتدائی تجربات—یہ سب مل کر انسان کے اندر ایک ایسا خاموش ذخیرہ تشکیل دیتے ہیں جو عمر کے ساتھ کہیں گم نہیں ہوتا۔”Echoes of Rumi“ میں یہی یادیں ایک نئے مفہوم کے ساتھ واپس آتی ہیں۔ وہ ماضی جو کبھی صرف یاد تھا، اب معنی بن جاتا ہے؛ وہ منظر جو کبھی صرف منظر تھا، اب اشارہ بن جاتا ہے؛ اور وہ فن جو کبھی صرف جمالیاتی اظہار تھا، اب باطنی سفر کا آئینہ بن جاتا ہے۔اس کتاب کی ایک منفرد جہت فن اور مصوری کا روحانی مفہوم ہے۔ مصوری میں ایک تصویر صرف رنگوں، لکیروں اور اشکال کا مجموعہ نہیں ہوتی؛ وہ فنکار کے اندر موجود ایک کیفیت کا اظہار بھی ہوتی ہے۔ کتاب میں مصوری اسی معنوی سطح پر سامنے آتی ہے۔ ہر پینٹنگ گویا ایک آئینہ ہے—مگر ایسا آئینہ جو چہرہ نہیں، باطن دکھاتا ہے۔یہاں رنگ بھی خاموش زبان بن جاتے ہیں۔ لکیر بھی ایک سوال بن جاتی ہے۔ خالی جگہ بھی معنی اختیار کر لیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب کا فنی ورثہ اس کی روحانی فکر سے الگ محسوس نہیں ہوتا۔ فن اور تصوف دونوں کا بنیادی سوال ایک ہی ہے: جو دکھائی نہیں دیتا، اسے کس طرح محسوس کیا جائے؟ایک مصور رنگوں کے ذریعے اس نامعلوم کو چھونے کی کوشش کرتا ہے اور ایک صوفی خاموشی کے ذریعے۔ ایک کینوس پر تصویر بناتا ہے، دوسرا اپنے باطن کو آئینہ بناتا ہے۔ دونوں کا سفر بظاہر مختلف مگر منزل کے اعتبار سے ایک ہو سکتا ہے۔کتاب کے مرکزی تصورات میں ”خاموشی“ شاید سب سے گہرا تصور ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں ہر شخص بول رہا ہے، مگر کم لوگ سن رہے ہیں۔ آوازیں بہت ہیں مگر سماعت کم ہے۔ معلومات بے شمار ہیں مگر معرفت نایاب۔ رابطے بڑھ گئے ہیں مگر انسان اپنے آپ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے زمانے میں ”Echoes of Rumi“ خاموشی کو فرار نہیں بلکہ مکاشفہ قرار دیتی محسوس ہوتی ہے۔خاموشی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں؛ بعض اوقات خاموشی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ ہو مگر الفاظ ناکافی پڑ جائیں۔ اسی کیفیت کو کتاب کا بنیادی فلسفہ ایک نہایت خوبصورت احساس میں سمیٹتا ہے:جب خاموشی کو دل سے سنا جائے تو وہ وہ کچھ کہتی ہے جو الفاظ کبھی نہیں کہہ سکتے۔یہ جملہ پوری کتاب کی روح کا استعارہ بن جاتا ہے۔تصوف کی روایت میں انسان کا سب سے بڑا سفر باہر کی دنیا کو فتح کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر کے جہان کو سمجھنا ہے۔ انسان جتنا اپنے باطن میں اترتا ہے، اتنا ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے اندر سوال بھی ہیں اور جواب کی ایک خاموش روشنی بھی۔”Echoes of Rumi“ کا سفر اسی خود شناسی سے شروع ہوتا ہے۔اپنے دکھ کو سمجھنا، اپنی خاموشی کو سننا، اپنی یادوں کو قبول کرنا، اپنے سوالوں سے فرار نہ ہونا اور اپنی ذات کے اندھیروں میں روشنی تلاش کرنا—یہ سب دراصل خود شناسی کے مراحل ہیں۔لیکن صوفیانہ فکر میں خود شناسی آخری منزل نہیں۔ یہ ایک دروازہ ہے جو انسان کو خدا شناسی کی طرف لے جاتا ہے۔انسان جب اپنی ذات کے پردے ہٹاتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ جس روشنی کو وہ باہر تلاش کر رہا تھا، اس کی ایک کرن ہمیشہ سے اس کے اندر موجود تھی۔ کتاب کا مرکزی روحانی پیغام بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ روشنی تلاش کرنے سے پہلے اس جگہ کو دیکھنا چاہیے جہاں روشنی پہلے ہی موجود ہے۔کتاب میں روحانی سفر کا ایک اہم پہلو درد بھی ہے۔ عام طور پر انسان درد سے بچنا چاہتا ہے، مگر صوفیانہ روایت درد کو محض تکلیف نہیں سمجھتی؛ کبھی یہی درد انسان کی بیداری کا سبب بن جاتا ہے۔ جو سوال ہمیں بے چین کرتا ہے، وہی ہمیں تلاش پر مجبور کرتا ہے۔ جو محرومی ہمیں توڑتی ہے، وہی کبھی ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ جو خاموشی ہمیں تنہا محسوس کراتی ہے، وہی کبھی ہمیں اپنی روح کی آواز سنوا دیتی ہے۔ اسی لیے کتاب کا روحانی مزاج درد کو مٹانے کے بجائے اسے معنی میں تبدیل کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہاں زخم اختتام نہیں؛ زخم ایک دروازہ ہے۔رومی کی فکر کا سب سے روشن استعارہ محبت ہے، اور ”Echoes of Rumi“ میں بھی محبت ایک مرکزی روحانی قوت کے طور پر سامنے آتی ہے۔یہ محبت صرف انسانی تعلق کا نام نہیں بلکہ وجود کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنی ذات کی محدود دیواروں سے باہر نکل کر دوسرے، اور بالآخر حقیقتِ مطلقہ، سے رشتہ قائم کرتا ہے۔محبت انسان کو نرم کرتی ہے، عاجزی سکھاتی ہے، اپنے ”میں“ کو کم کرتی ہے اور دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روحانی محبت انسان کو صرف جذباتی طور پر نہیں بدلتی بلکہ اس کی نگاہ بدل دیتی ہے۔ اور جب نگاہ بدل جائے تو دنیا بھی نئی دکھائی دینے لگتی ہے۔عمر فاروق فاروقی کی اس کاوش کا ایک اہم وصف یہ ہے کہ انہوں نے رومی کے افکار کو محض اقتباسات اور توضیحات کے ذریعے پیش نہیں کیا۔ انہوں نے رومی کی روحانی فکر کو اپنی یادوں، مشاہدات اور داخلی تجربات سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ یہی امتزاج کتاب کو ذاتی اور عالمگیر دونوں بناتا ہے۔ذاتی اس لیے کہ اس میں مصنف کی اپنی یادیں، اپنے احساسات اور اپنا سفر موجود ہے؛ اور عالمگیر اس لیے کہ خود شناسی، محبت، جدائی، خاموشی اور حقیقت کی تلاش کسی ایک انسان کے مسائل نہیں بلکہ پوری انسانیت کے بنیادی سوالات ہیں۔قاری جب مصنف کے ساتھ سفر کرتا ہے تو آہستہ آہستہ یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید یہ کتاب کسی ایک شخص کی روحانی سرگزشت نہیں بلکہ ہر اس شخص کی داستان ہے جو کبھی خود سے یہ سوال پوچھ چکا ہو:میں کون ہوں؟ میں کہاں جا رہا ہوں؟ اور جس روشنی کی مجھے تلاش ہے، کیا وہ میرے اندر پہلے سے موجود ہے؟موجودہ عہد میں انسان کے پاس سہولتیں بہت ہیں مگر سکون کم؛ معلومات بہت ہیں مگر بصیرت کم؛ رابطے بہت ہیں مگر قربت کم۔ سوشل میڈیا، تیز رفتار زندگی، مسلسل مصروفیت اور ظاہری کامیابی کی دوڑ نے انسان کو اپنے ہی اندر کی دنیا سے دور کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں ”Echoes of Rumi“ کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے۔ یہ کتاب قاری سے یہ نہیں کہتی کہ دنیا چھوڑ دو؛ بلکہ شاید یہ کہتی ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے اندر سے مت کٹو۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی اصل معنویت صرف حاصل کرنے میں نہیں، محسوس کرنے میں بھی ہے؛ صرف بولنے میں نہیں، سننے میں بھی ہے؛ صرف آگے بڑھنے میں نہیں، کبھی رک کر اپنے اندر دیکھنے میں بھی ہے۔”Echoes of Rumi“ کو صرف رومی پر لکھی گئی کتاب کہنا اس کے دائر? اثر کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل رومی کی فکر سے جنم لینے والا ایک داخلی سفر ہے۔ یہاں رومی ایک حوالہ بھی ہیں، ایک رہنما بھی، ایک آئینہ بھی اور ایک ایسی صدا بھی جو صدیوں کے فاصلے کے باوجود انسانی دل تک پہنچتی ہے۔اس کتاب کے صفحات قاری کو جواب دینے سے زیادہ سوال کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی روحانی خوبی ہے، کیونکہ بعض سوالات کے جواب الفاظ میں نہیں ملتے؛ انہیں زندگی میں جینا پڑتا ہے۔کتاب کا سفر ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی دریافت شاید کوئی نئی چیز حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر چھپی ہوئی اس حقیقت کو پہچان لینا ہے جو ہمیشہ سے موجود تھی۔روشنی باہر سے آنے والی کوئی شے نہیں؛ کبھی کبھی انسان کو صرف اپنے اندر کے پردے ہٹانے ہوتے ہیں۔”Echoes of Rumi“ اسی پردہ کشائی کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو زندگی کو صرف سمجھنا نہیں بلکہ محسوس کرنا چاہتے ہیں؛ جو ظاہری کامیابی سے آگے باطنی سکون کی تلاش میں ہیں؛ جو محبت کو صرف جذبہ نہیں بلکہ معرفت کا راستہ سمجھتے ہیں؛ اور جو خاموشی سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اس کی زبان سننے کا ہنر سیکھنا چاہتے ہیں۔کبھی کتاب ہمیں کچھ نیا نہیں بتاتی؛ وہ صرف وہی سچ یاد دلاتی ہے جسے ہماری روح پہلے ہی جانتی تھی۔ اور شاید ”Echoes of Rumi“ کی اصل بازگشت بھی یہی ہے،اپنے اندر اترنے کی بازگشت، محبت میں پگھلنے کی بازگشت، خاموشی کو سننے کی بازگشت، اور اس نور کو پہچان لینے کی بازگشت جو ہمیشہ سے ہمارے اندر موجود ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے