#کالم

امت مسلمہ کے اجتماعی دفاع اور پائیدار امن کا نیا سحر

mirza rizwan

مرزا رضوان

مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام کی سیاسی و سٹریٹجک تاریخ میں 5 اکتوبر 2026ئ کا دن ایک ایسے انقلابی موڑ کے طور پر درج ہو چکا ہے، جس کے اثرات انیسویں اور بیسویں صدی کے روایتی معاہدوں سے کہیں زیادہ دور رس اور دیرپا ثابت ہوں گے۔ ریاض میں منعقد ہونے والے "مکہ الائنس برائے دفاع” کی سٹریٹجک و سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس اور اس کے بعد جاری ہونے والے تاریخی مشترکہ اعلامیے نے نہ صرف علاقائی توازنِ طاقت کو نئے سانچے میں ڈھال دیا ہے، بلکہ دنیا بھر پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلامی دنیا کے تین سب سے اہم، بااثر اور طاقتور ممالک،سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ—اب اپنی سلامتی اور خطے کے ثبات کے لیے ایک نا قابلِ تسخیر شیلڈ بن چکے ہیں۔اس اجلاس کی سب سے اہم اور نمایاں پیش رفت پاکستان کے ممتاز عسکری رہنما، سابق لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود (ریٹائرڈ) کی بطور پہلے سیکرٹری جنرل تین سالہ مدت کے لیے تعیناتی ہے۔ یہ فیصلہ جہاں پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار، بین الاقوامی عسکری صلاحیتوں اور طویل سٹریٹجک تجربے کا عالمی اعتراف ہے، وہاں یہ اس بات کی بھی روشن دلیل ہے کہ مکہ الائنس کو فعال، مربوط اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے پاکستان کا کردار مرکزی اور محوری حیثیت رکھتا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کا دفاعی منصوبہ بندی، قومی سیکیورٹی کے پیچیدہ معرکوں اور بین الاقوامی عسکری سفارت کاری میں گراں قدر تجربہ اس نو تشکیل شدہ الائنس کو ایک مضبوط، منظم اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرے گا۔ یہ تعیناتی اس عزم کا بلاشبہ اظہار ہے کہ یہ اتحاد صرف اعلامیوں اور بیانات تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس کے پیچھے ایک پختہ عملی اور عسکری ذہن کارفرما ہوگا۔جس پس منظر میں اس ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا، وہ حد درجہ حساس اور تشویشناک حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے ارضِ مقدس پر بزدلانہ اور ناپاک حملوں کی کوششیں، اور اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے گنجان آباد شہروں، معاشی مراکز اور شہری تنصیبات پر ہونے والے مسلسل حملے، دنیا بھر کے پونے دو ارب مسلمانوں کے دلوں کو چھیدنے کے مترادف ہیں۔ مکہ اور مدینہ صرف کسی ایک جغرافیائی خطے کا حصہ نہیں، بلکہ یہ کائنات بھر کے مسلمانوں کا روح و ایمان اور دینی مرکز ہیں۔ ان مقدس مقامات کی حرمت پر انچ آنا تمام امتِ مسلمہ کی غیرت و حمیت کے لیے کھلی للکار ہے۔ اسی بنا پر اجلاس میں ان تمام بزدلانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی اور سعودی عرب کی مسلح افواج کی مستعدی، پیشہ ورانہ مہارت، فضائی دفاعی صلاحیتوں اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ان کی شب و روز بیداری کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔تاہم اس مشترکہ اعلامیے کی اصل روح اور انقلابی عنصر وہ نظریہ ہے جس کا اعلان اس اجلاس میں کھل کر کیا گیا: "ایک کی سیکیورٹی، تینوں کی سیکیورٹی ہے” یہ تاریخی اصول اس بات کی ضمانت ہے کہ اگر ان تینوں میں سے کسی ایک ریاست کی خودمختاری، جغرافیائی حدود یا سلامتی پر کوئی حملہ ہوتا ہے، تو اسے بقیہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس نظریے کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر نہیں اپنایا گیا، بلکہ کمیٹی نے سیاسی اور عسکری مشاورت کی روشنی میں فوری طور پر ایسے اقدامات کی منظوری دی ہے جن کے تحت مشترکہ عسکری افواج اور دفاعی صلاحیتوں کی سعودی عرب کی سرزمین پر فوری تعیناتی کا عمل شروع کیا جائے گا۔یہ اقدام عملی طور پر ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحرانوں میں اکثر بیرونی طاقتوں پر انحصار کیا جاتا رہا، جس کی وجہ سے خطے کو بیرونی مداخلت اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن مکہ الائنس کا یہ عملی قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مسلم دنیا کی اہم ترین قوتیں اپنے دفاعی فیصلے خود کرنے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کامل صلاحیت رکھتی ہیں۔پاکستان کی ایٹمی طاقت، جدید ترین عسکری مہارت اور بے مثال پیادہ و فضائی فوج، ترکیہ کی جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی، جدید ترین ڈرون سسٹمز اور ناتو (NATO) کی سطح پر آزمودہ عسکری طاقت، اور سعودی عرب کا معاشی و سیاسی اثر و رسوخ اور سٹریٹجک مقام—یہ تینوں جب ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوتے ہیں، تو دنیا کا کوئی بھی حریف ان کے اجتماعی دفاعی حصار میں شگاف ڈالنے کی جر?ت نہیں کر سکتا۔ یہ شراکت داری ایک ایسا طاقتور عسکری اور سٹریٹجک دباو¿ (Deterrence) پیدا کرے گی جو خطے میں مہم جوئی کرنے والی ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کو ہر قسم کی سرکشی سے باز رکھے گی۔مکہ الائنس فار ڈیفنس دراصل مسلم دنیا کی خود انحصاری اور باہمی اتحاد کی اس دیرینہ خواہش کی عملی تعبیر ہے جس کا خواب شاعرِ مشرق علامہ اقبال سے لے کر امت کے عظیم مفکروں نے دیکھا تھا۔ اپنے قومی قوانین اور مروجہ آئینی طریقہ کار کے تحت مشترکہ افواج کی تعیناتی اس بات کی علامت ہے کہ تینوں ممالک اپنے آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی سلامتی کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ریاض کا یہ اجلاس تاریخ کے صفحات میں ایک ایسے موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے بیرونی ممالک کی بالادستی کے تصور کو ختم کر کے ایک خودمختار اور سٹریٹجک اسلامی دفاعی بلاک کی بنیاد رکھی۔ "مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع” کی روشنی میں اٹھائے جانے والے یہ عملی اقدامات دشمنوں کے لیے ایک واضح اور فیصلہ کن پیغام ہیں کہ حرمین شریفین، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی سلامتی نا قابلِ تسخیر ہے، اور اب یہ تینوں برادر اقوام ایک جسم کی مانند اپنے مشترکہ مستقبل اور امن کا دفاع کریں گی۔

امت مسلمہ کے اجتماعی دفاع اور پائیدار امن کا نیا سحر

سیاست اور سوشل میڈیا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے