#کالم

سیاست اور سوشل میڈیا

Untitled 5

جاویدایازخان

بہاولپور کے ضمنی انتخابات اپنے اختتام کو پہنچے جو جیت گئے وہ جشن منا رہے ہیں اور مبارکباد وصول کر رہے ہیں اور جو ہار گئے ہیں وہ آئندہ کی پیش بندی کے لیے سوچ رہے ہیں۔جیتنے والوں کو دلی مبارکباد اور ہارنے والوں کے لیے نیک دعائیں تو میں اپنے الیکشن کے قبل لکھے گئے کالم "ڈیجیٹل الیکشن ” میں پہلے ہی دے چکا ہوں۔کہتے ہیں کہ انتخاب جیتنا تو صرف کسی ایک نے ہوتا ہے لیکن ہارنے والے بہت سے امیدوار ہوتے ہیں۔جیتنے والوں کی کامیابی اور ہارنے والوں کی ناکامی کی وجوہات دونوںہی آئندہ سیاست کے لیے رہنمائی اور منصوبہ بندی کے لیے مشعل راہ ہوتی ہیں۔جو ہمیشہ ایسے مواقع پر کسی مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ان انتخابات نے ایک جانب تو جیتنے والوں کے کندھوں پر بھاری ذمہ داریاں ڈال دی ہیں تو دوسری جانب ہارنے والوں پر بھی ان لوگوں کا قرض رہتا ہے جو اس الیکشن میں ان کے ساتھ کھڑے ہوئے انتخابات میں جیتنے اور ہارنے والوں کو فراخ دلی سے ایک دوسرےکو قبول کرنا پڑتا ہے اور الیکشن کی تلخیاں بھلا کر آئندہ کا لائحہ عمل سوچنا ہوتا ہے۔اس ضمنی الیکشن میں میرے سابقہ کالم "ڈیجیٹل الیکشن "کے مطابق سوشل میڈیا نے بڑا اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ان انتخابات نے سوشل میڈیا اور سیاست کے چولی دامن کے ساتھ کو خوب نمائیاں کیا ہے۔یہ الیکشن ایک جانب تو تندو تیز لفظی جنگ اور دوسری جانب روائتی طرز سیاست کا اظہار بھی تھا جو سوشل میڈیا کی ٹیموں نے انتھک محنت اور دن رات جدوجہد کرکے براہ راست لوگوں تک پہنچاکر طرز سیاست کو بدل کر رکھا دیا۔اس عمدہ کارکردگی کے لیے سوشل میڈیا اور اس کی تمام ٹیمیں ستائش کی مستحق ہیں۔شاید یہ الیکشن اس جانب ایک مثبت اشارہ بھی ہے کہ آئندہ الیکشن میں سوشل میڈیا ہی سب سے اہم ،موثر اور ضروری سیاسی میدان ہو گا۔دیکھا جائے تو شاید موجودہ الیکشن میں بینرز ،پوسٹرز نے وہ کردارادا نہیں کیا جو سوشل میڈیا کے نوجوانوں نے کر دکھایا۔سوشل میڈیا پر جلسوں سے بھی زیادہ جلسوں کی ویڈیوز اور جذباتی نعروں نے جذبات ابھارے ۔سوشل میڈیا روائتی سیاست کو گلیوں ،بازاروں ،چوراہوں ،ڈیروں اور جلسہ گاہوں سے نکال کر ہر فرد کے پاس موجود اسکے ذاتی موبائل تک لے آیا ہے۔ایک موبائل فون ،ایک کیمرہ اور چند سکینڈ کی ویڈیو کسی بھی امیدوار کا پیغام ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔فیس بک کی پوسٹ ،یو ٹیوب کی ویڈیو ،ٹک ٹاک کی مختصر سی کلپ اور واٹس ایپ کا پیغام انتخابی مہم کا اہم حصہ بن چکا ہے۔جو بات کبھی ایک بڑے جلسے میں موجود چند ہزار لوگوں تک پہنچتی تھی وہ اب چند سیکنڈ اور چند لمحوں میں لاکھوں اسکرینوں کے ذریعے گھر گھر پہنچ جاتی ہے۔یہی اس مرتبہ بہاولپور کے ضمنی انتخابات میں سامنے آیا ۔بہاولپور جیسے شہر میں سوشل میڈیا کا یہ کردار اس لیے بھی اہم رہا ہے کہ یہاں نئی نسل سیاسی معاملات کو روائتی ذرائع کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے بھی دیکھتی اور سمجھتی ہے۔امیدوار کی تقریر ،منشور ،عوامی رابطہ کی تفصیلات ،ترقیاتی دعوے اور مخالفین پر تنقید سب کچھ ایک کلک پر سامنے آ جاتا ہے۔بہاولپور کی خواتین تک ہر طرح کے سیاسی پیغام کی رسائی بھی سوشل میڈیا کا بھرپور کردار رہا ہے کیونکہ خواتین میں بھی سوشل میڈیا کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔آج کا نوجوان اور خواتین اپنے ٹی وی سے بھی زیادہ اپنے موبائل کی خبر پر یقین کر لیتے ہیں۔انسانی زندگی خیالات ،محسوسات ،نظریات و جذبات چاہے وہ سیاسی ہوں یا سماجی اور معاشرتی ان سب کا ایک ہی مرقع ہے جن کے باہمی میلان کا نام معاشرہ ہے۔اپنے خیالات وجذبات یا نظریات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے انسان ہمیشہ کسی ذرائع ابلاغ کا محتاج رہا ہے اور یہ سلسلہ پرنٹ میڈیا ،قلم،کتاب پمفلٹ ،کاغذ،بینر ،پوسٹر ،کیمرے اور ریکارڈنگ سے نکل کر سائنسی ترقی کی باعث اسکرین اور پھر انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل فون تک پہنچا ہے اور پھر انٹرنیٹ سروسز کے انقلاب نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج بنادیا۔انٹرنیٹ کی رسائی گھر گھر لمحہ بہ لمحہ پہنچنے لگی ہے۔ سوشل میڈیا کی سب سے بڑی طاقت اس کی رفتار ہے اور شاید سب سے بڑا خطرہ بھی یہی رفتار ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر، ایک ایڈیٹ کی گئی خبر یا ویڈیو یا ایک جذباتی سی پوسٹ چند منٹوں میں ایسا تاثر پیدا کر سکتی ہے جس کی حقیقت جاننے میں کئی گھنٹے لگ جائیں۔ الیکشن کے دنوں میں جذبات پہلے اور تحقیق بعد میں ہو تو سوشل میڈیا معلومات کا ذریعہ رہنے کے بجائے رائے کو متاثر کرنے کا وسیلہ بن سکتا ہے۔سوشل میڈیا کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ماضی کے موقف کو بھولنے نہیں دیتا ،حال کی صورتحال دکھاتا ہے اور مستقبل کے لیے وعدے سنبھال رکھتا ہے۔اس لیے بہاولپور کے ووٹر کے لیے اصل امتحان صرف یہ نہیں تھا کہ کون سا امیدوار سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک ہے، بلکہ یہ بھی تھا کہ کون سا دعویٰ حقیقت پر مبنی ہے، کون سا وعدہ قابلِ عمل ہے اور کون سا سیاسی پیغام محض جذبات پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بہاولپور کا الیکشن ہمیں ایک نئے انتخابی دور کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔ اب امیدوار صرف میدان میں نہیں، اسکرین پر بھی موجود ہے اور ووٹر صرف جلسہ گاہ میں نہیں، اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھا بھی انتخابی مہم دیکھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے امیدوار اور ووٹر کے درمیان فاصلے ضرور کم کیے ہیں، مگر فاصلے کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سچ اور جھوٹ کا فاصلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اب ضرورت پہلے سے زیادہ اس بات کی ہے کہ ووٹر پوسٹ کو صرف لائیک نہ کرے، اسے پرکھے بھی؛ ویڈیو کو صرف شیئر نہ کرے، اس کا پس منظر بھی جانے؛ اور نعرے کو صرف سنے نہیں بلکہ یہ بھی پوچھے کہ اس نعرے کے پیچھے عملی منصوبہ کیا ہے؟ مگر یاد رکھنا ہوگا کہ جمہوریت صرف ووٹ کی پرچی سے مضبوط نہیں ہوتی، باشعور ووٹر سے مضبوط ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا ہماری آنکھ اور کان بن سکتا ہے، مگر فیصلہ کرنے والی عقل ہمیں خود استعمال کرنا ہوگی۔ کیونکہ آخرکار الیکشن موبائل اسکرین پر نہیں، بیلٹ پر ہوتا ہے؛ اور اس بیلٹ پر لگنے والا نشان کسی وائرل پوسٹ کا نہیں بلکہ ایک شہری کے شعوری فیصلے کا اظہار ہوتا ہے۔آنے والے وقت میں شاید سیاستدانوں کے لیے صرف یہ کافی نہیں ہوگا کہ وہ عوام کے درمیان موجود ہو اسے عوام کی موبائل اسکرین پر بھی موجود ہونا پڑے گا۔مگر اسکرین پر بنائی مقبولیت اورر زمین پر کمائی ہوئی مقبولیت میں فرق ہمیشہ رہے گا۔سوشل میڈیا آواز کو دور تک پہنچا سکتا ہے لیکن ووٹر کا اعتماد صرف پوسٹ ،ویڈیو اور نعروں سے نہیں عمل سے حاصل ہوتا ہے۔مستقل میں سیاست شاید تین مرحلوں میں بٹ جائے گی یعنی روائتی سیاست کا انسانی رابطہ ،ٹی وی اور پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل سیاست سیاسی ستون بن سکتے ہیں جو حقیقی کارکردگی کا احاطہ کریں گے۔اس کی ایک بڑی وجہ ہماری نئی اور ڈیجیٹل دور کی نسل ہے۔مثال کے طور پر امریکہ میں گذشتہ الیکشن کے ایک سروے میں تیس سال سے کم عمر افراد میں چھیالیس فیصد نے سوشل میڈیا کو انتخابی خبروں کا سب سے عام اور بڑا ذریعہ قرار دیا ہے۔پاکستا ن کے سیاسی مستقبل میں سوشل میڈیا کا یہ بڑھتا ہوا کردار اگر مثبت رہا تو یقینا” یہ آئندہ سیاسی سرگرمیوں کو ایک تیز ترین نئی سمت دے سکتا ہے۔

سیاست اور سوشل میڈیا

06/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے