#کالم

پنجاب کا خواب، دنیا کا اعتراف

rafeh s

رفیع صحرائی

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی باگ ڈور سنبھالتے ہی پہلے دن سے مشنری جذبے کے ساتھ پنجاب کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرنے کے لیے رات دن ایک کر رکھا ہے۔ آئے روز نت نئے منصوبوں کا آغاز جاری ہے اور پورا ہوم ورک کرنے کے بعد ہر منصوبہ شروع کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وزیرِ اعلیٰ صرف کسی منصوبے کا افتتاح ہی نہیں کرتیں، اس کا فالواپ بھی مسلسل لیتی ہیں۔ قلیل مدت میں 160 سے زائد نئے پراجیکٹس کا آغاز ان کی طرف سے خوشگوار حیرت میں مبتلا کرنے والی بات ہے۔ کسی بھی حکمران کی کارکردگی کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ اس نے کتنے منصوبوں کا اعلان کیا، کتنے افتتاح کیے یا کتنے دعوے کیے، اصل کامیابی یہ ہے کہ اس کے دورِ حکومت میں عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی، کتنے محروم لوگوں کو سہارا ملا، کتنے بچوں کے ہاتھ میں کتاب آئی، کتنے مریضوں کو علاج ملا اور کتنے بے گھر خاندانوں کے خواب حقیقت میں بدلے۔ اس معیار پر دیکھا جائے تو پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے دور میں شروع کیے جانے والے بعض منصوبے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔حالیہ دنوں میں مسقط سے آنے والی خبر نے پنجاب کے لیے ایک نیا اعزاز رقم کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے "اپنی چھت، اپنا گھر” منصوبے کے لیے اقوام متحدہ کے یو این ہیبی ٹیٹ سکرول آف آنر ایوارڈ وصول کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ اعزاز دنیا بھر سے منتخب پانچ نمایاں اقدامات کو دیا گیا، جن میں پنجاب ہاو¿سنگ اینڈ ٹاو¿ن پلاننگ ایجنسی کا منصوبہ بھی شامل تھا۔ یہ اعزاز اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ "اپنی چھت، اپنا گھر” محض اینٹوں، سیمنٹ اور دیواروں کا منصوبہ نہیں بلکہ غریب آدمی کی عزتِ نفس، خودمختاری اور مستقبل کے تحفظ کا منصوبہ ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے دو لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر کے لیے تقریباً 260 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ یقیناً یہ اقدام ایک بڑا کارنامہ کہلانے کا مستحق ہے۔ایک گھر دراصل صرف گھر نہیں ہوتا۔ اس میں بچوں کا مستقبل، ماں کی دعائیں، باپ کی محنت اور خاندان کی عزت محفوظ ہوتی ہے۔ کرائے کے مکان میں زندگی گزارنے والے ایک محنت کش خاندان کو جب اپنی چھت میسر آتی ہے تو اس کے لیے وہ مکان کسی محل سے کم نہیں ہوتا۔ شاید یہی وہ انسانی پہلو ہے جس نے پنجاب کے اس منصوبے کو عالمی سطح پر پذیرائی دلائی ہے۔ دیگر صوبوں کے لیے یہ ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ مریم نواز شریف کے لیے اس اعزاز کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ان کے سیاسی سفر کے ابتدائی برسوں ہی میں پنجاب کے ایک صوبائی منصوبے نے انہیں عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم اصل کامیابی ایوارڈ وصول کرنے میں نہیں بلکہ اس منصوبے کو شفاف، میرٹ پر مبنی، بلاامتیاز اور پائیدار بنائے رکھنے میں ہوگی۔ عالمی اعتراف ایک خوش آئند سنگِ میل ہے، منزل نہیں۔اگر صحت کے میدان میں دیکھا جائے تو اس میں بھی پنجاب حکومت نے کئی نئے تجربات کیے ہیں۔ مریم نواز ہیلتھ کلینکس، فیلڈ ہسپتال، کلینک آن ویلز، بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن جیسے منصوبوں کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ علاج صرف بڑے شہروں اور بڑے ہسپتالوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام شہری کو اس کے قریب دستیاب ہو۔ حکومت نے 150 صحت مراکز کو مریم نواز ہیلتھ کلینکس میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا ہے جس میں ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مریض کے داخلے سے علاج تک کے عمل کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔صحت کے میدان میں نواز شریف کینسر کیئر ہسپتال بھی ایک اہم منصوبہ ہے، جس کے پہلے مرحلے کی تعمیر پر 46 ارب روپے کی لاگت بتائی گئی ہے۔ پنجاب میں کینسر جیسے مہنگے علاج کو عام آدمی کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانا یقیناً ایک بڑا انسانی کارنامہ ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی پنجاب حکومت کے کئی اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ ہونہار اسکالرشپ، لیپ ٹاپ پروگرام، اسکول میل پروگرام، ڈیجیٹل تعلیم اور مصنوعی ذہانت سے متعلق تربیت جیسے اقدامات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نئی نسل کو صرف روایتی تعلیم نہیں بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔خاص طور پر اسکول میل پروگرام کو محض ایک تعلیمی منصوبہ سمجھنا درست نہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق آٹھ اضلاع کے 3,527 سرکاری سکولوں میں چار لاکھ سے زائد کم غذائیت کے شکار بچوں کو اس پروگرام سے فائدہ پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بھوکا بچہ اگر کتاب کے سامنے بیٹھا بھی ہو تو اس کی توجہ تعلیم پر مرکوز نہیں رہ سکتی۔ یوں تعلیم کے ساتھ غذائیت کو جوڑنا ایک دور رس سوچ ہے۔ پنجاب کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ کرنے کی جانب یہ ایک قدم ہے۔پنجاب میں خصوصی بچوں کے حوالے سے مریم نواز اسکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کا قیام بھی ایک حساس اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ اس ادارے میں آٹزم اسپیکٹرم پر موجود بچوں کے لیے تعلیم، تھراپی، تشخیص اور معاونت کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ 2026 میں اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مزید بچوں کو بھی داخلہ دیا گیا ہے۔خواتین کے لیے 650 ڈے کیئر سینٹرز کا منصوبہ بھی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ عورت کو معاشی سرگرمی میں شریک کرنے کے لیے صرف نعرے کافی نہیں، عملی سہولتیں بھی فراہم کرنا ضروری ہیں۔ سرکاری طور پر اس منصوبے کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ مراکز ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں قائم کیے جانے ہیں۔صوبے میں زراعت، نوجوانوں، ماحولیات، ڈیجیٹل گورننس، سڑکوں، شہری سہولتوں اور سماجی بہبود کے شعبوں میں بھی مختلف منصوبے جاری ہیں۔ پنجاب کی سرکاری ترجیحات میں تعلیم، صحت، زراعت، امن و امان اور پائیدار ترقی کو بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔یہ تمام اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن مریم نواز شریف کے لیے اصل امتحان اب رفتار کو معیار، منصوبوں کو اداروں اور اعلانات کو مستقل نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔ پنجاب کا حجم بہت بڑا ہے، آبادی بے شمار ہے اور مسائل بھی کم نہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، سرکاری ہسپتالوں کا معیار، سکولوں کی حالت، کسان کے مسائل اور انتظامی کمزوریاں اب بھی توجہ طلب ہیں۔ اس لیے تعریف کے ساتھ اصلاح اور احتساب کا عمل بھی جاری رہنا چاہیے۔لیکن جہاں اچھا کام ہو وہاں اعتراف بھی ہونا چاہیے۔ سیاست میں اختلاف اپنی جگہ، مگر عوامی مفاد کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہونی چاہیے۔ مریم نواز شریف کو مسقط میں ملنے والا اعزاز دراصل ایک علامتی پیغام بھی ہے کہ اگر حکمرانی کا مرکز عام آدمی ہو تو مقامی سطح کا منصوبہ بھی عالمی سطح پر مثال بن سکتا ہے۔آج اگر پنجاب کا ایک غریب خاندان اپنی چھت کے نیچے سکون سے سو رہا ہے، اگر ایک دور افتادہ علاقے کا مریض اپنے قریب علاج پا رہا ہے، اگر ایک مستحق طالب علم اسکالرشپ یا لیپ ٹاپ کے ذریعے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے، اگر ایک خصوصی بچہ تعلیم اور تھراپی کی سہولت حاصل کر رہا ہے اور اگر ایک کام کرنے والی ماں اپنے بچے کو محفوظ ڈے کیئر میں چھوڑ کر روزگار جاری رکھ سکتی ہے تو یہی وہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہیں جو مل کر بڑے انقلاب کی بنیاد بنتی ہیں۔مسقط کا ایوارڈ یقیناً مریم نواز شریف کے لیے اعزاز ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ پنجاب کے ان خاندانوں کا اعزاز ہے جن کے خواب ان منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ شاید اس پورے سفر کا خوبصورت ترین خلاصہ یہی ہے:پنجاب کا خواب، دنیا کا اعتراف، مگر اصل کامیابی اس دن ہوگی جب پنجاب میں رہنے ہر شخص والا کہہ سکے کہ حکومت کے منصوبے واقعی میری زندگی تک پہنچے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے