#کالم

اکیسویں صدی کے مزاج میں مرتے تعلقات کی احیائ

nimra ch

نمرہ چودھری

یہ عہدِ شتاب ہے، جہاں رابطے تو بے شمار ہیں مگر تعلق نایاب ہے۔ اکیسویں صدی کا انسان سکرین کا اسیر، انا کا امیر اور وقت کا فقیر ہو چکا ہے۔ یہاں ہر شخص سنا جانا چاہتا ہے، سمجھنا کوئی نہیں چاہتا۔ ایسے میں جو رشتے دم توڑ رہے ہیں، انہیں شکووں کی آکسیجن نہیں، خلوص کی حدت درکار ہے۔ہمارا آج کا عنوان ایک ایسا موضوع ہے، جس پر سوچنا اور بات کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔انیسویں صدی ہو چاہے اکیسویں صدی تعلقات کی بنیاد دلوں میں موجود خلوص اور محبت سے ہوتی ہے اور انیسویں صدی کی نسبت اکیسویں صدی کی جدید طرز زندگی نے جہاں انسانوں اور ان کے تعلقات کو محدود کر دیا ہے؛ وہی ان کی سوچ بھی خود سے شروع ہو کر خود پہ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ انہی تعلقات کو بچانے کا واحد حل ایک دوسرے کی زندگی میں بے جا مداخلت نہ کرنا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے قریبی رشتہ داروں کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کون کہاں جا رہا ہے! کیا کھا رہا ہے! کیا پہن رہا ہے! ہمیں سب جھانکنا ہے چاہے ہمارے اپنا گھر کے تعلقات کنارے پر ہوں۔ میں کسی پر طنز نہیں کر رہی مگر ذرا سوچیے کیا ہم سب یہی نہیں کرتے! کیا اپنے رشتوں کو تھوڑا فاصلہ دیتے ہیں! وہ فاصلہ جو انکا حق ہے۔ والدین کو اپنا ہر فیصلہ اولاد پر مسلط کرنا ہے وہ چاہیں یا نا چاہیں، شوہر اور بیوی کو انکے ہر اقدام پر نظر رکھنی ہے، ہم چاہتے ہیں ہم سے جڑے ہر رشتے پر ہماری گرفت ہو۔ تاکہ ہم مداخلت سے اپنے اور اس رشتے کے درمیان فاصلوں کی ڈور کو طویل کرتے جائیں۔ ہر تعلق اپنے فیصلوں اور عمل میں آزاد ہے؛ اور جس دن ہم نے یہ مان لیا ہمارے مرتے تعلقات کو زندگی مل جائے گی۔ارسطو نے سچے تعلق کی بنیاد ہی باہمی خیر خواہی اور دونوں جانب اس کے ادراک کو قرار دیا تھا۔ تاریخ اور اسلامی تعلیمات بھی اسی دو طرفہ فطرت کی گواہی دیتی ہیں۔قرآن کریم میں باہمی رشتوں کا مقصد "مودت اور رحمت” (الروم: 21) کو بتایا گیا ہے جو طرفین کے یکساں جذبے کو واضح کرتا ہے۔جدید نفسیات بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ ماہرِ نفسیات جان گاٹمن کی تحقیق کے مطابق قائم رہنے والے جوڑوں نے ساتھی کی توجہ پر 86 فیصد مرتبہ لبیک کہا جبکہ بکھر جانے والوں میں یہ شرح صرف 33 فیصد تھی۔ یکطرفہ جدوجہد کی مثال ساحل پر کھڑے اس شخص جیسی ہے جو ڈوبتی کشتی کو اکیلے بچانے کی ناکام سعی کرے۔اس صدی میں تعلق میں جان ڈالنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ جو کھونے سے ڈرے اسے منائیے اگر دوسری جانب سے مثبت جواب آئے تو تعلق سانس لینے لگتا ہے لیکن اگر خاموشی ہی جواب ہو تو اس در پر دستک وقار کا زیاں ہے۔ وہاں سے باوقار ہٹ جانا ہی اصل حکمت ہے۔بقول احمد فراز:
"رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ”جسے تعلق قائم رکھنا ہوگا وہ رنجش کا بہانہ بنا کر بھی لوٹ آئے گا اور جہاں دوسری طرف سے کوشش ختم ہو جائے وہاں اپنی توانائی بچا لینا ہی انسان کا حقیقی وقار ہے۔”آکسیجن مانگی نہیں جاتی محسوس کی جاتی ہے اور جسے محسوس نہ ہو اس کے لیے ہر کوشش بے صدا ہے۔”مرتے تعلقات میں جان ڈالنے کا پہلا قرینہ یہ ہے کہ سننے کا ہنر سیکھا جائے۔ مشینی جوابوں کے بجائے دل کی سماعت زندہ کی جائے، کیونکہ انسان لفظوں سے زیادہ لہجوں سے جیتا ہے۔دوسرا، اس صدی کے خود پرست مزاج کو شکست دینا ہوگی۔ ہر وقت فتح مندی کی ضد چھوڑ کر کبھی ہار جانا ہی اصل جیت ہے۔ معذرت وہ تریاق ہے جو زہر آلود لمحوں کو امرت بنا دیتا ہے۔تیسرا اصول، رابطے کو رسم نہیں، رحمت بنائیے۔ مصروفیت کے عذر میں محبت کو موقوف نہ کیجیے۔ ایک مختصر پیغام، ایک بے ساختہ دعا، ایک غیر متوقع ملاقات، یہی وہ چراغ ہیں جو بجھتی لو کو پھر سے فروزاں کر دیتے ہیں۔یاد رکھیے، تعلق عمارت نہیں، پودا ہے۔ اسے انا کے تیشے سے نہیں، ایثار کے پانی سے سینچا جاتا ہے۔یہ تحریر میری پیاری کزن، خدیجہ ابراہیم، کے نام، جن کی محبت اور خلوص میرے لیے ہمیشہ خاص رہے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے