گوجرانوالہ خواب سے تعبیر تک
زاہد اقبال ملک
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا آج گوجرانوالہ کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب شہری حکومتی فیصلوں اور ترقیاتی منصوبوں کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ شہر کی مصروف ترین اور اہم شاہراہ جی ٹی روڈ کی زبوں حالی نے تقریباً ایک سال سے شہریوں کی روزمرہ زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ٹریفک کا دباو¿ آمدورفت میں مشکلات اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ایسے میں گوجرانوالہ کے شہری اب محض اعلانات نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات کے منتظر ہیں جو ان کی مشکلات کم کریں اور شہر کو واقعی ترقی کی طرف لے جائیں۔گوجرانوالہ کو پنجاب کے اہم صنعتی اور تجارتی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے لیکن بڑھتی ہوئی آبادی ٹریفک کے مسائل صحت کی ضروریات اور شہری سہولتوں کے دباو¿ نے حکومت کے سامنے کئی چیلنجز کھڑے کر رکھے ہیں۔ ایسے میں وزیراعلیٰ کا دورہ اور اس دوران گرین بس سروس کا افتتاح کارڈیالوجی ہسپتال کا سنگِ بنیاد اور ماس ٹرانزٹ منصوبے کا جائزہ یقیناً اہم پیش رفت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان منصوبوں کے ثمرات گوجرانوالہ کے عام شہری تک کتنی جلدی اور کتنے مو¿ثر انداز میں پہنچتے ہیں۔گوجرانوالہ کے لیے گرین بس سروس کا آغاز شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم قدم ہے۔ آج کے دورے کے موقع پر 15 گرین بسیں شہر کے مختلف روٹس پر چلانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ تعداد یقیناً پورے شہر کی ٹرانسپورٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہ ہے لیکن اسے ایک آغاز ضرور قرار دیا جاسکتا ہے۔ گوجرانوالہ میں روزانہ ہزاروں افراد ملازمت کاروبار تعلیم اور علاج کے لیے سفر کرتے ہیں۔ نجی ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور سڑکوں پر بےہنگم ٹریفک دباو¿ کے باعث ایک منظم محفوظ اور باقاعدہ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ گرین بس سروس کی کامیابی صرف بسیں سڑکوں پر لانے سے نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ روٹس شہریوں کی حقیقی ضرورت کے مطابق ہوں اور بسیں مقررہ اوقات پر دستیاب ہوں کرایہ عام آدمی کی پہنچ میں ہو اور خواتین طلبہ اور بزرگوں کے لیے سفر محفوظ اور آسان بنایا جائے۔ اگر یہ بنیادی تقاضے پورے ہو گئے تو گرین بس سروس گوجرانوالہ کے شہریوں کے لیے واقعی ایک مثبت تبدیلی بن سکتی ہے۔ اسی دورے میں گوجرانوالہ کے پہلے باقاعدہ کارڈیالوجی ہسپتال کا سنگِ بنیاد بھی رکھا جارہا ہے۔ چند روز قبل پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ میں 268 بستروں پر مشتمل مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے قیام کی منظوری دی تھی۔یہ منصوبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دل کے مریضوں کو علاج کے لیے اکثر دوسرے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ کسی مریض کے لیے طویل سفر صرف مالی بوجھ نہیں ہوتا بلکہ ہنگامی حالت میں قیمتی وقت کا ضیاع بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ گوجرانوالہ میں جدید کارڈیالوجی کی سہولت قائم ہونے سے نہ صرف شہر بلکہ پورے ڈویڑن کے مریض مستفید ہو سکتے ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ تعمیر کے ساتھ ساتھ جدید طبی آلات،ماہر ڈاکٹرز،تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف،ادویات اور ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے۔ گوجرانوالہ کے شہری ایک ایسی طبی سہولت چاہتے ہیں جہاں مشکل وقت میں انہیں دوسرے شہر جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔دورے کا تیسرا اہم پہلو گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ شہر کے مستقبل کے ٹرانسپورٹ نظام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس وقت اس کی تعمیر شہریوں کے لیے مشکلات کا سبب بھی بنی ہوئی ہے۔ وزیراعلٰی مریم نواز کی جانب سے آج بھی بی آر ٹی یلو لائن منصوبے پر تین شفٹوں میں کام تیز کرنے اور اسے مقررہ ڈیڈ لائن کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ چندا قلعہ انڈر پاس اپر چناب پل اور جی ٹی روڈ کے مختلف حصوں میں تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہاں حکومت کے دو طرح کے امتحان ہیں جس میں ایک منصوبے کو جلد مکمل کرنا اور دوسرا تعمیر کے دوران شہریوں تاجروں اور صنعت کاروں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہونا۔گوجرانوالہ صنعتی شہر ہے اور یہاں سڑکوں پر ٹریفک کی رکاوٹ صرف سفر کو متاثر نہیں کرتی بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے تعمیراتی کام کی رفتار کے ساتھ ٹریفک مینجمنٹ متبادل راستوں اور حفاظتی انتظامات پر بھی بھرپور توجہ دینا ہوگی۔ مریم نواز کا آج کا دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ایک ہی موقع پر گوجرانوالہ کے تین بڑے مسائل آمدورفت صحت اور شہری ٹرانسپورٹ حکومتی ترجیحات میں نمایاں ہوئے ہیں لیکن حکومت کی اصل کامیابی افتتاحی تختیوں یا اجلاسوں میں نہیں بلکہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل میں ہو گی۔ گوجرانوالہ کے شہری ترقیاتی منصوبوں کے مخالف نہیں البتہ کام میں ہونے والی تاخیر سے ضرور نالاں ہیں شہری ان منصوبوں کے ثمرات کا حصول جلد از جلد چاہتے ہیں انہیں ایسی بس چاہیے جو وقت پر ملے ایسا ہسپتال چاہیے جہاں علاج دستیاب ہو اور ایسا ماس ٹرانزٹ نظام چاہیے جو شہر کی ٹریفک کو آسان بنائے مزید مشکل نہ کرے۔مریم نواز کا آج کا دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اب گوجرانوالہ کی نظریں ان منصوبوں کے اگلے مرحلے پر ہوں گی۔ اعلان ہوچکا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے اور بسیں سڑکوں پر آرہی ہیں اب عوام تکمیل اور عملی فائدے کا انتظار کریں گے۔گوجرانوالہ جیسے صنعتی شہر کو وقتی اعلانات نہیں بلکہ مسلسل توجہ مضبوط منصوبہ بندی اور بروقت تکمیل کی ضرورت ہے اگر آج شروع ہونے والے اقدامات اپنی مقررہ رفتار اور معیار کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو آنے والے برسوں میں گوجرانوالہ کے شہری اپنی روزمرہ زندگی میں اس تبدیلی کو محسوس کر سکیں گے اور یہ کسی بھی حکومتی منصوبے کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔






