#کالم

چیک کلیرنگ۔۔انتظار سے رفتار تک

Untitled 5

جاویدایازخان

بعض چیزیں صرف کسی بینک کے لیے ہی نہیں اسکے اکاونٹ ہولڈرز کے لیے بھی مشکلات پیدا کرنے کا باعث ہوتی رہی ہیں ان میں سے ایک "بینک کلیرنگ ” بھی بڑا مسئلہ رہا ہے۔گو آج کی یہ خبر عام سی ہے مگر ایک بینکار کے لیے بڑی خاص اور اہم ہے۔کہ پندرہ اکتوبر سے چیک کی فاسٹ کلیرنگ کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا نیا ڈیجیٹل نظام (پی ای سی ایس )نافذ ہونے جارہا ہے اس کا پہلا مرحلہ (پائلٹ پروجیکٹ )پندرہاکتوبر سے شروع ہوگا اور اگلے سال پندرہ اکتوبر تک اسے پورے میں مکمل طور پر نافذ کردیا جاے گا۔اس سسٹم کے تحت چیک کی کلیرنگ کے لیے کاغذی چیک کو ایک شہر سے دوسرے شہر یا برانچ سے دوسری برانچ تک فزیکلی بھیجنے کی ضرورت ختم ہو جاے گی۔بینک چیک کی ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل امیج اور ڈیٹا سیکیور نیٹ ورک پر منتقل کرکے اسی دن پروسیس کر سکیں گے۔جس سے کلیرنگ کے وقت میں نمائیاں کمی کے ساتھ ساتھ تاجروں اور کاروباری افراد کے ورکنگ کیپیٹل اور نقد رقوم کے بہاو (کیش فلو ) میں بہتری آے گی۔اس سسٹم میں ڈیجیٹل سیکورٹی فنکشنزاور الیکڑانک نوٹیفیکشن شامل کئے گئے ہیں تاکہ جعل سازی ،جعلی چیکس اور انتظامی تاخیر کا سدباب ہو سکے۔اسٹیٹ بنک کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد بینکنگ سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینا اور تجارتی مراکز میں چیک پر مبنی لین دین کو تیز ،شفاف اور غلطیوں سے پاک بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کو رقوم کی منتقلی میں بلا جواز تاخیر سے نجات مل سکے۔جب بھی کلیرنگ کی بات ہوتی ہے تو مجھے ایم سی بی صادق بازار رحیم یار خان کا کلیرنگ افسر مقصود الحسن یاد آجاتا ہے جو اس برانچ میں ساری عمر صرف اس لیے پوسٹ رہا کہ کلیرنگ کی ذمہداری کوئی دوسرا لینے کو تیار نہ ہوتا تھا۔اسے کلیرنگ کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔اس نے چیک کلیرنگ کا آغاز تب شروع کیا تھا جب ایک ایک برانچ سے گارڈ کے ہمراہ جاکر کیش وصول کیا جاتا تھا۔یہ افسر مقصود الحسن جو ذرا اونچا تو ضرور سنتا تھا مگر آنکھیں ہمیشہ کھلی رکھتا تھا۔اس کی قیامت کی نظر چیک کو بھانپ کر سب کچھ سمجھ جاتی تھی۔وہ اپنے دن اور رات برانچ کلیرنگ کےلیے وقف کردیا کرتا تھا۔ہزاروں چیک اور ڈرافٹ روزآنہ مکمل کرنا ایک ایسا مشکل کام ہوتا تھا کہ میرا جیسے افسر دستخط کرتے کرتے تھک جاتا تھا۔اس زمانے میں پورے علاقے بلکہ پورے پاکستان سے آنے والی ڈاک اور چیک کلیر کرانا اور کوئی ذراسی بھی غلطی نہ کرنا اس کا وہ کارنامہ تھا جس کی باعث اس کی پوری زندگی اسی ایک برانچ میں ہی گزر گئی۔اس کی اسقدر اہمیت ہوا کرتی تھی کہ بڑے بڑے افسران بھی اس سے ضرور ملتے اور اس کی کارکردگی کو سراہاتے تھے۔رحیم یارخان میں ایم سی بی کی کامیابیوں میں کلیرنگ اور اس افسر مقصود الحسن کا بڑا ہاتھ تھا ۔جس نے اپنی جوانی کی ساری عمر "بینک کلیرنگ” کی نذر کردی۔عجیب اتفاق ہے کہ جب وہ ریٹائر ہوا تو کلیرنگ کے پرانے نظام بھی بدل گئے۔وہ آج بھی زندہ ہے اور شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس نے اپنی زندگی صرف ایک کام پر صرف کردی جسے "بینک کلیرنگ ” کہتے ہیں۔ایسے ہی ایک بہت سینئرافسر خالد محمود بھی یاد آے جو اسی کی دھائی میں نیلا گنبد لاہور سے ہماری برانچ احمدپورشرقیہ ٹرانسفر ہوکر آےتھے۔وہ پچھلے بیس سال سے نیلا گنبد برانچ کے کلیرنگ سیکشن میں صرف کلیرنگ کے چیکوں پر آگے اور پیچھے مہریں لگاتے رہے تھے ۔اس کے علاوہ کوئی کام نہ جانتے تھے۔ چند دنوں بعد ہی اس کام پر کئی بندے? لگانے کے باوجود اس کے بغیر وہاں کام نہ چل سکا تو اسے واپس نیلاگنبد برانچ بلا لیا گیا پھر وہ اپنی ریٹائرمنٹ تک صرف کلیرنگ کے چیکوں پر مہریں ہی لگاتا رہا۔کلیرنگ کا سلسلہ ہاتھوں سے کمپیوٹر اور پھر ایک جدید سسٹم اور ایک پرائیویٹ کمپنی کی مدد سے آسان ہونے لگا تو کلیرنگ کا کام سب کو سیکھنا پڑا۔یوں چیک کلیرنگ ایک الگ ڈیپارمنٹ سے نکل کر برانچ اپریشن کا حصہ بن گئی۔ کبھی بینک میں چیک جمع کروانا صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہی بینک کے حوالے کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ کئی دنوں کا انتظار، غیر یقینی کیفیت اور بینکنگ کے پیچیدہ مراحل بھی جڑے ہوتے تھے۔ ایک بینک سے دوسرے بینک تک چیک کا سفر شروع ہوتا تو رقم کی اصل منزل تک پہنچنے میں وقت لگتا۔یہاں تک کہ اگر آپکی برانچ کے سامنے والے بینک سے بھی کلیرنگ کرانی ہو تو وقت ایک جیسا ہی لگتا تھا صارف کے لیے یہ انتظار محض چند دنوں کا نہیں بلکہ کبھی کبھی ایک مسلسل تشویش کا باعث بن جاتا تھا۔ چیک کلیرنگ کا پرانا نظام بینکوں کے لیے بھی کسی امتحان سے کم نہ تھا۔ مختلف بینکوں سے موصول ہونے والے چیکوں کی چھان بین، ان کی درجہ بندی، متعلقہ بینک تک ترسیل، دستخطوں اور اکاو¿نٹ کی جانچ، کلیئرنس اور پھر رقم کی منتقلی—یہ سب مراحل بڑی حد تک دستی کارروائی اور انسانی محنت کے محتاج تھے۔ایک معمولی سی غلطی پورے عمل کو متاثر کرسکتی تھی اور کسی چیک کی واپسی صارف اور بینک دونوں کے لیے اضافی پریشانی کا سبب بنتی تھی۔ وقت کے ساتھ بینکاری کا یہ منظر بھی بدلنے لگا۔ ٹیکنالوجی نے کاغذی چیک کے اس طویل سفر کو مختصر کرنا شروع کیا۔ جہاں کبھی چیک کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے میں وقت لگتا تھا، وہاں جدید نظام نے اس کے ریکارڈ اور متعلقہ معلومات کی تیز تر ترسیل ممکن بنا دی۔ چیک کی تصویر، ڈیجیٹل ڈیٹا اور خودکار جانچ کے طریقہ کار نے کلیرنگ کے عمل کو زیادہ منظم، تیز اور قابلِ اعتماد بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تبدیلی صرف صارف کے لیے آسانی نہیں تھی بلکہ بینکوں کے لیے بھی ایک بڑی سہولت بن گئی۔ پہلے جہاں عملے کو کاغذات کے انبار، دستی اندراجات اور فائلوں کے درمیان کام کرنا پڑتا تھا، وہاں جدید نظام نے بہت سے مراحل کو خودکار بنا دیا۔ یوں وقت کی بچت ہوئی، انسانی غلطیوں کے امکانات کم ہوئے اور مالی معاملات کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ چیک کلیرنگ کی تاریخ دراصل بینکاری میں ہونے والی اس تبدیلی کی کہانی ہے جس میں انتظار کی جگہ رفتار، کاغذ کی جگہ ڈیجیٹل ریکارڈ اور دستی عمل کی جگہ خودکاری نے لے لی۔ لیکن اس سفر کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ٹیکنالوجی نے صرف نظام کو تیز نہیں کیا، اس نے بینکنگ کے مزاج کو بھی بدل دیا۔ آج کا صارف چند لمحوں میں اپنے مالی معاملات کی خبر چاہتا ہے۔ اسے ایک دن کا انتظار بھی گراں گزرتا ہے۔ جدید بینکاری نے سہولت کی ایسی عادت ڈال دی ہے کہ ماضی کا کئی دنوں پر مشتمل انتظار آج ناقابلِ تصور محسوس ہوتا ہے۔ کبھی چیک کلیر ہونے کی خبر کا انتظار کیا جاتا تھا، آج صارف اپنے موبائل پر لین دین کی اطلاع دیکھ لیتا ہے۔ کبھی بینک کی ایک شاخ سے دوسری شاخ تک معلومات پہنچنے میں وقت لگتا تھا، آج وہی معلومات چند لمحوں میں ایک نظام سے دوسرے نظام تک منتقل ہوجاتی ہیں۔ چیک کلیرنگ کا یہ سفر ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ ادارے وقت کے ساتھ خود کو نہ بدلیں تو وقت انہیں بدلنے پر مجبور کردیتا ہے۔ بینکاری نے کاغذ سے ڈیجیٹل دنیا تک کا سفر طے کرلیا ہے، مگر اس سفر کی بنیاد آج بھی وہی اعتماد ہے جس پر بینک اور صارف کا رشتہ قائم ہے۔کلیرنگ کے بدلتے طریقہ کار نے صرف چیک کو تیز رفتاری سے منزل تک نہیں پہنچایا، بلکہ اس نے بینکاری کو بھی ایک نئے عہد میں داخل کردیا ہے ایک ایسے عہد میں جہاں رفتار ہی سہولت ہے اور درستگی ہی اعتماد ہے۔انتظار سے رفتار تک کا یہ سفر یقینا” جدید ٹیکنالوجی کا مرہون منت ہے۔امید ہے کہ اسٹیٹ بینک ا?ف پاکستان کا یہ احسن قدم "بینک کلیرنگ "کو مزید بہتر ،جدید اور تیز تر بنانے میں اہم کردار ادا کرے? گا۔

چیک کلیرنگ۔۔انتظار سے رفتار تک

07/10/2026 DAILY SARZAMEEN LAHORE

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے