عطائیت ختم کریں مگر ڈاکٹر بھی تو دیں
رفیع صحرائی
لاہور ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ جج فیصل آباد کے ایک فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب ہیلتھ کیئر کی آئینی درخواست منظور کر لی اور قرار دیا کہ میڈیکل اسٹور چلانے یا ڈسپنسر ڈپلوما رکھنے سے کسی شخص کو آزادانہ طور پر مریض کا الپیتھک علاج کرنے یا انجکشن لگانے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ قانون کی نظر میں عطائی، عطائی ہی ہوتا ہے؛ چاہے وہ کسی گاو¿ں کی کچی گلی میں بیٹھا ہو یا شہر کی کسی مصروف مارکیٹ میں۔ یہ درست ہے کہ انسانی جان سے کھیلنے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ ہر جان قیمتی ہے اور اسے کسی غیرذمہ دار شخص کے ہاتھوں ختم یا نقصان سے دوچار نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن صحت کی پالیسی بنانے والوں کو ایک سوال پر غور کرنا چاہیے کہ اگر گاو¿ں میں ڈاکٹر نہیں ہوگا تو مریض کہاں جائے گا؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ عطائیت محض قانون شکنی کا نام نہیں، یہ ہمارے کمزور اور غیر مساوی نظامِ صحت کی ایک علامت بھی ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹرز کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن صحت کے ماہرین کے مطابق طبی عملے کی تقسیم انتہائی غیر مساوی ہے اور زیادہ تر سہولتیں شہری علاقوں میں مرکوز ہیں، جس کے باعث دیہی آبادی کا ایک حصہ غیر تربیت یافتہ عطائیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔لاہور ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ اسی تناظر میں اہم ہے۔ دستیاب عدالتی رپورٹ کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ ڈسپنسر کا سرٹیفکیٹ کسی شخص کو آزادانہ طور پر الپیتھک علاج کرنے کا اختیار نہیں دیتا، جبکہ میڈیکل اسٹور کا ڈرگ سیل لائسنس صرف ادویات کی فروخت کا اجازت نامہ ہے، مریضوں کا علاج کرنے یا انجیکشن لگانے کا نہیں۔ عدالت نے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے عائد کیا گیا تین لاکھ روپے کا جرمانہ بحال کرتے ہوئے قرار دیا کہ عطائیت ثابت کرنے کے لیے لازماً مریض کو عدالت میں پیش کرنا یا نسخہ برآمد ہونا ضروری نہیں، دیگر شواہد بھی قابلِ غور ہو سکتے ہیں۔قانونی اعتبار سے اس فیصلے کی اپنی اہمیت ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ علاج کے نام پر غیر مستند افراد کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن قانون کے نفاذ کے ساتھ ہمیں اس حقیقت کو بھی دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کے بہت سے دیہات میں بنیادی مراکزِ صحت موجود تو ہیں مگر ڈاکٹر، ادویات، آلات یا دیگر ضروری سہولتیں ہر جگہ دستیاب نہیں۔ 2026ئ میں شائع ہونے والی ایک طبی تحریر بھی دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کے مراکز میں عملے، ادویات اور آلات کی کمی اور شہری علاقوں کی طرف ماہر افرادی قوت کے ارتکاز کی نشاندہی کرتی ہے۔ لوگوں کے دیہات سے شہروں کی جانب نقل مکانی کی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ شہروں میں میں صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی بھی ہے۔یہیں سے اصل سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم محض عطائی کو ختم کر رہے ہیں یا عطائیت پیدا کرنے والی وجوہات کو؟ایک ایسے گاو¿ں کا تصور کیجیے جہاں سرکاری ہسپتال یا بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر ہفتے میں چند دن بھی دستیاب نہیں، مریض کو شہر تک لے جانے کے لیے کرایہ نہیں، نجی ڈاکٹر کی فیس اس کی استطاعت سے باہر ہے اور دوا بھی مہنگی ہے۔ ایسے میں اگر کسی ڈسپنسر، میڈیکل اسٹور سے تربیت حاصل کرنے والے شخص یا کسی نجی ہسپتال میں کئی برس کام کرنے والے نیم طبی کارکن نے اپنی دکان یا چھوٹا سا کلینک بنا رکھا ہو تو گاو¿ں کے لوگ اس کے پاس کیوں جائیں گے؟ صرف اس لیے کہ وہ قانون شکن ہیں؟ نہیں، اس کے پیچھے مجبوری، قربت، غربت، کم خرچ اور فوری علاج بھی ایک بڑی وجہ ہوتی ہے۔اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غیر مستند شخص کو ڈاکٹر تسلیم کر لیا جائے۔ بخار، کھانسی اور معمولی بیماری کے علاج سے آگے بڑھ کر انجیکشن، اینٹی بائیوٹکس، پیچیدہ بیماریوں، حمل، سرجری یا ہنگامی حالت میں غلط تشخیص انسانی جان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں عطائیت پر ایک حالیہ علمی جائزہ بھی اس مسئلے کو غربت، ڈاکٹرز کی کمی، کمزور رسائی، ناخواندگی اور قانون کے کمزور نفاذ جیسے کئی عوامل سے جوڑتا ہے۔ لہٰذا مسئلے کا حل صرف یہ نہیں کہ عطائی کا کلینک سیل کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اس کلینک کی جگہ کون لے گا؟یہاں ڈسپنسرز کے کردار کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ڈسپنسر ڈاکٹر نہیں ہوتا، اسے ڈاکٹر بنانا بھی نہیں چاہیے؛ مگر ایک تربیت یافتہ ڈسپنسر بنیادی صحت کے نظام کا اہم حصہ ضرور بن سکتا ہے۔ دنیا کے کئی صحت کے نظاموں میں مختلف سطحوں کے معاون طبی کارکن بنیادی خدمات، مریضوں کی ابتدائی رہنمائی اور ڈاکٹر تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی انہیں واضح قانونی دائر? کار، مناسب تربیت، نگرانی اور ریفرل سسٹم کے تحت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے برسوں سے یہ دیکھا ہے کہ دور دراز علاقوں میں تعینات ڈاکٹر کسی نہ کسی طریقے سے تبادلہ کرا کے شہر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض ڈاکٹر سرکاری ملازمت کے ساتھ نجی پریکٹس کو زیادہ پرکشش سمجھتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ڈاکٹر ایسا کیوں کرتے ہیں؛ سوال یہ ہے کہ ریاست نے انہیں دور دراز علاقے میں رکنے کے لیے کیا دیا؟اگر حکومت چاہتی ہے کہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر دیہات میں خدمات انجام دیں تو انہیں محض حکم نہیں، ترغیب بھی دینا ہوگی۔ خصوصی دیہی الاو¿نس، مناسب رہائش، سیکیورٹی، بچوں کی تعلیم، بہتر طبی سہولتیں، سفری مراعات اور ترقی میں دیہی سروس کو خصوصی وزن دیا جائے۔ عالمی ادارہ صحت بھی دیہی اور دور دراز علاقوں میں صحت کے کارکنوں کی بھرتی اور برقرار رکھنے کے لیے بہتر کام کے ماحول اور خصوصی مراعات سمیت مختلف اقدامات کی سفارش کرتا ہے۔یہاں ایک اہم سوال ڈرگ انسپکٹرز سے بھی ہے کہ اگر کسی علاقے میں عطائی کھلے عام برسوں سے پریکٹس کر رہا ہے، انجیکشن لگا رہا ہے اور ادویات فروخت کر رہا ہے تو نگرانی کا نظام کہاں ہے؟ اگر کسی اہلکار کی ملی بھگت یا مبینہ نذرانہ خوری سے غیر قانونی پریکٹس جاری رہتی ہے تو صرف عطائی کو موردِ الزام ٹھہرانا کافی نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی، احتساب اور شفافیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ قانون کمزور نہیں ہوتا، اس کا نفاذ کمزور کیا جاتا ہے۔ہمیں صحت کے شعبے میں دو انتہاو¿ں سے بچنا ہوگا۔ ایک طرف ہر غیر مستند شخص کو ڈاکٹر سمجھ لینے کی خطرناک روش ہے اور دوسری طرف زمینی حقیقتوں سے آنکھیں بند کرکے یہ تصور کرنا کہ صرف چھاپے، جرمانے اور سیلنگ سے عطائیت ختم ہو جائے گی۔اگر ایک گاو¿ں میں ڈاکٹر نہیں، دوا نہیں اور ایمبولینس نہیں تو وہاں عطائیت ایک بیماری کے ساتھ ساتھ نظام کی ناکامی کا آئینہ بھی ہے۔ حکومت عطائیت کے خلاف کارروائی ضرور کرے، مگر ساتھ ہی ہر بنیادی مرکز صحت میں ڈاکٹر کی موجودگی، ضروری ادویات، تربیت یافتہ طبی عملہ اور ریفرل کا مو¿ثر نظام یقینی بنائے۔ دیہات میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کو خصوصی مراعات دی جائیں اور ڈسپنسرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو واضح قانونی حدود کے اندر مو¿ثر انداز میں نظام کا حصہ بنایا جائے۔ کیونکہ مقصد صرف عطائی کو پکڑنا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مریض کو عطائی کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔ جب ریاست یہ دن لے آئے گی تو عطائیت کے خلاف قانون بھی کامیاب ہوگا، ڈاکٹر بھی عزت کے ساتھ گاو¿ں میں کام کرے گا اور سب سے بڑھ کر عام آدمی کی جان بھی محفوظ ہوگی۔






