#کالم

لاہور چھاو¿نی، صفائی اور فطرت سے محبت

farhat abbas shah

فرحت عباس شاہ

لاہور صرف ایک شہر نہیں، ایک تہذیبی تجربہ ہے۔ اس شہر کی شناخت اس کی تاریخی عمارتوں، باغوں، بازاروں، سڑکوں، درختوں اور زندہ دل لوگوں سے مل کر بنتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاو¿، ٹریفک کے دباو¿، فضائی آلودگی، تجاوزات اور صفائی کے مسائل نے لاہور کے حسن کو مسلسل چیلنج کیا ہے۔ ایسے ماحول میں لاہور چھاو¿نی کا صاف، سرسبز اور نسبتاً منظم شہری منظرنامہ اس بات کی ایک قابلِ ذکر مثال بن کر سامنے آتا ہے کہ اگر شہری انتظام میں تسلسل، نگرانی اور ذمہ داری کو بنیادی اہمیت دی جائے تو ایک گنجان آباد شہر کے اندر بھی صفائی، خوبصورتی اور فطرت سے قربت کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔لاہور چھاو¿نی میں داخل ہوتے ہی جو چیز سب سے زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے وہ اس کی کشادہ اور درختوں سے مزین سڑکیں ہیں۔ سڑکوں کے کناروں پر موجود پختہ درخت، مناسب انداز میں برقرار رکھے گئے سبز علاقے، موسمی پھولوں کی آرائش، صاف ستھرے چوک اور نسبتاً منظم عوامی مقامات شہری زندگی میں ایک خوشگوار کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ یہ سب محض خوبصورتی کے عناصر نہیں بلکہ ایک بہتر شہری ماحول کی بنیادی ضرورت ہیں۔ درخت گرمی کی شدت کو کم کرنے، فضائی آلودگی کے اثرات کو محدود کرنے اور شہریوں کو سایہ دار راستے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کے عمومی ماحول میں ایک ایسی تازگی پیدا کرتے ہیں جو محض مصنوعی تزئین و آرائش سے ممکن نہیں۔ہمارے شہروں میں بدقسمتی سے ترقی کا تصور اکثر کنکریٹ، بلند عمارتوں، وسیع سڑکوں اور تجارتی مراکز تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقی شہری ترقی کا پیمانہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہاں رہنے والے انسان کو صاف ہوا، سبزہ، صاف پانی، پیدل چلنے کی مناسب جگہ، پارک اور صحت مند ماحول کس حد تک میسر ہے۔ اس اعتبار سے لاہور چھاو¿نی کا سبز کردار ایک اہم شہری سبق فراہم کرتا ہے۔ ترقی اگر انسان اور فطرت کے درمیان تعلق کو کمزور کر دے تو وہ صرف تعمیراتی پھیلاو¿ رہ جاتی ہے، شہری ترقی نہیں۔صفائی کے معاملے میں بھی چھاو¿نی کا عمومی ماحول توجہ طلب ہے۔ سڑکوں کی باقاعدہ صفائی، کچرے کی منظم وصولی، نالیوں کی صفائی، جمع شدہ فضلے کی بروقت منتقلی اور عوامی مقامات کی دیکھ بھال ایسے معمولات ہیں جو کسی بھی بڑے شہری علاقے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر خالی اور غیر استعمال شدہ جگہوں کا انتظام انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہی مقامات اکثر چند ہی دنوں میں کچرے کے ڈھیروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ تعمیراتی ملبہ، باغیچے کا فضلہ، نالیوں سے نکلنے والی گندگی اور دیگر کچرے کو بروقت ہٹانا شہری صفائی کے پورے نظام کا ناگزیر حصہ ہے۔یہاں ایک بنیادی حقیقت کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ صفائی کوئی ایک روزہ مہم نہیں۔ ہمارے ہاں اکثر صفائی کو خصوصی مہم، تصویری سرگرمی یا کسی بڑے موقع کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقی صفائی روزانہ کے معمولات کا نام ہے۔ سڑک آج صاف کر دی جائے اور کل کچرا دوبارہ جمع ہو جائے تو مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب صفائی ایک مستقل انتظامی نظام بن جائے، جس میں کام کا واضح شیڈول، ذمہ داریوں کی تقسیم، فیلڈ نگرانی، بروقت شکایات کا ازالہ اور مسلسل جائزہ شامل ہو۔اسی تناظر میں لاہور چھاو¿نی کے صفائی کارکنوں، مالیوں، ڈرائیوروں، سپروائزرز اور دیکھ بھال کرنے والی ٹیموں کی خدمات خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ شہری عموماً صاف سڑک دیکھتے ہیں، مگر اس سڑک کو صاف رکھنے والے ہاتھ دکھائی نہیں دیتے۔ خوبصورت پارک نظر آتے ہیں مگر ان کی دیکھ بھال کرنے والے مالی اکثر ہماری نظر سے اوجھل رہتے ہیں۔ صاف نالیاں اور خالی جگہیں نظر آتی ہیں مگر ان کی صفائی کے لیے روزانہ کام کرنے والے کارکنوں کی محنت کا احساس کم ہی کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شہری علاقے کی صفائی کا اصل بوجھ انہی کارکنوں کے کندھوں پر ہوتا ہے۔یہ کارکن صرف ایک انتظامی ضرورت پوری نہیں کر رہے بلکہ شہری زندگی کے معیار کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی محنت کا نتیجہ ہمیں صاف سڑک، بہتر ماحول، سرسبز پارک اور زیادہ خوشگوار شہری منظر کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے صفائی کے نظام کا جائزہ لیتے وقت صرف مشینری، بجٹ یا انتظامی ڈھانچے کو نہیں بلکہ اس پورے انسانی نظام کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جو ہر روز خاموشی سے اپنا کام انجام دیتا ہے۔لاہور چھاو¿نی کا تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مو¿ثر شہری انتظام صرف بڑے مالی وسائل کا محتاج نہیں۔ وسائل یقیناً اہم ہیں، لیکن ان سے زیادہ اہم یہ ہے کہ دستیاب وسائل کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ مناسب منصوبہ بندی، واضح ذمہ داریاں، باقاعدہ نگرانی، فوری عمل درآمد اور فیلڈ عملے میں ذمہ داری کا احساس ایسے عناصر ہیں جو محدود وسائل کے باوجود نمایاں نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک معمولی سا کچرا اگر بروقت اٹھا لیا جائے تو وہ بڑا ڈھیر بننے سے بچ سکتا ہے؛ ایک نالی اگر باقاعدگی سے صاف ہوتی رہے تو اس کی بندش ایک بڑے مسئلے میں تبدیل نہیں ہوتی؛ ایک درخت اگر مسلسل دیکھ بھال حاصل کرے تو وہ برسوں تک شہریوں کو سایہ اور ماحول کو فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جس سے پنجاب کے دوسرے شہروں اور ملک کے دیگر شہری اداروں کو بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔ صفائی اور شجرکاری کو الگ الگ سرگرمیوں کے بجائے ایک مربوط شہری پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کچرے کی بروقت وصولی، خالی پلاٹوں کا مو¿ثر انتظام، نالیوں کی مستقل صفائی، پارکوں کی دیکھ بھال، سڑکوں کے کناروں پر شجرکاری اور عوامی مقامات کی مسلسل نگرانی کو باقاعدہ ادارہ جاتی نظام کا حصہ بنایا جائے تو شہری ماحول میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔اس کے ساتھ شہریوں کی ذمہ داری بھی کم اہم نہیں۔ حکومت یا کوئی بلدیاتی ادارہ سڑک صاف کر سکتا ہے، لیکن اسے گندا نہ کرنا شہری کا فرض ہے۔ پارک تعمیر کیا جا سکتا ہے، مگر اسے نقصان سے بچانا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ کچرا اٹھانے کا نظام بنایا جا سکتا ہے، لیکن کچرا مقررہ جگہ پر ڈالنے کی عادت معاشرتی تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔ صاف شہر صرف صفائی کے عملے سے نہیں بنتا؛ وہ انتظامیہ، کارکنوں اور شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری سے بنتا ہے۔لاہور چھاو¿نی کی سرسبزی ہمیں اس سے بھی بڑا پیغام دیتی ہے کہ شہری ترقی اور فطرت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے سڑک، پارک، درخت، رہائشی علاقے اور تجارتی سرگرمیاں ایک ہی شہری نظام کا حصہ بن سکتی ہیں۔ اصل ضرورت ترجیحات کے درست تعین کی ہے۔ اگر شہر میں ہر خالی جگہ کو تعمیراتی سرگرمی کے لیے مختص کرنے کے بجائے کچھ جگہیں سبز علاقوں کے لیے محفوظ رکھی جائیں، درختوں کی حفاظت کو ترقیاتی منصوبوں کا لازمی حصہ بنایا جائے اور موجودہ سبزے کی نگہداشت پر مسلسل توجہ دی جائے تو شہر کی فضا اور شہری زندگی دونوں بہتر ہو سکتے ہیں۔لاہور چھاو¿نی کی مثال کو کسی مثالی یا بے عیب شہری نظام کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے تجربے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس سے سیکھا جا سکتا ہے۔ شہری انتظام میں بہتری ہمیشہ ایک مسلسل عمل ہے۔ جہاں کامیابی حاصل ہوئی ہو وہاں اسے برقرار رکھنے کے لیے مزید محنت درکار ہوتی ہے اور جہاں خامی موجود ہو وہاں اصلاح کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ صفائی، سبزہ اور شہری حسن کو وقتی سرگرمی کے بجائے مستقل ترجیح بنایا جائے۔آج جب لاہور سمیت ملک کے بڑے شہر ماحولیاتی دباو¿، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری بے ترتیبی کے مسائل سے دوچار ہیں، لاہور چھاو¿نی کا صاف اور سرسبز ماحول ایک اہم سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے: کیا ہم اپنے شہروں کو صرف رہنے کی جگہ سمجھتے ہیں یا انسانی زندگی کے لیے صحت مند، خوبصورت اور باوقار ماحول بنانے کی اجتماعی ذمہ داری بھی محسوس کرتے ہیں؟اس سوال کا جواب صرف حکومتوں نے نہیں دینا، ہم سب نے دینا ہے۔ تاہم انتظامیہ اور شہری اداروں کا کردار بنیادی ہے، کیونکہ اچھی شہری مثالیں اسی وقت وسیع پیمانے پر تبدیل ہوتی ہیں جب انہیں مستقل پالیسی، مو¿ثر نگرانی اور ادارہ جاتی تسلسل حاصل ہو۔ لاہور چھاو¿نی میں صفائی اور سرسبزی کے لیے کام کرنے والے کارکنوں، مالیوں، ڈرائیوروں، سپروائزرز اور انتظامی ٹیموں کی محنت اس امر کی یاد دہانی ہے کہ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے؛ انہیں روزانہ کی محنت، نظم و ضبط، ذمہ داری اور فطرت سے محبت تعمیر کرتی ہے۔صاف سڑک، سایہ دار درخت، خوش نما پارک اور کچرے سے پاک عوامی جگہیں کسی بھی شہر کے لیے محض خوبصورتی نہیں بلکہ شہری وقار کی علامت ہیں۔ لاہور کو ایک بہتر، صاف اور سرسبز شہر بنانے کی کوشش میں اگر لاہور چھاو¿نی کے مثبت تجربات سے سبق لیا جائے اور انہیں مقامی ضرورتوں کے مطابق دوسرے علاقوں میں نافذ کیا جائے تو اس کا فائدہ صرف ماحول کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی پہنچے گا۔ آخرکار ایک زندہ شہر وہی ہوتا ہے جو اپنے انسانوں کے ساتھ ساتھ اپنے درختوں، پارکوں، سڑکوں اور قدرتی ماحول کی بھی حفاظت کرے۔ یہی حقیقی شہری تہذیب ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر لاہور اپنی تاریخی شناخت کے ساتھ ایک زیادہ صاف، سرسبز اور قابلِ رہائش مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ آخر میں آپ سب کی نظر میرا ایک شعر ۔۔۔۔
پیڑ درویش ہوا کرتے ہیں
سبز رکھو تو دعا دیتے ہیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے